Hazrat Nooh A.S Story حضر ت نوح علیہ السلام

hazrat nooh , حضرت نوح علیہ السلام

حضرت نوح علیہ السلام

حضر ت نوح علیہ السلام

اللہ تعالیٰ نے بنی نوح انسان کی ہدایت اور توحید کاراستہ دکھانے کے لئے ہرامت پر اپنے رسول اور پیغمبر بھیجے۔

انہی پیغمبروں اور رسولوںمیںسے حضرت نوح علیہ السلام کامقام منفرد اور ارفع ہے۔انہیں آدم علیہ السلام ثانی بھی

کہا جاتا ہے کہ بنی آدم کا پھلاو دوسری بار انہی کی وجہ سے دنیا میں ہوا۔آپ کی عمر شریف 1050برس ہوئی۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان مجید میں سورۃھود کی آیات مبارکہ میں حضرت نوح علیہ السلام  کاذکر تفصیل سے کیاہے

سورۃنوح میں بھی تفصیل آئی ہے۔آپ 40برس کی عمر میں نبوت سے سرفراز ہوئے اور نوسو برس

اپنی قوم کو تبلیغ اسلام کرتے رہے لیکن قوم راہ راست پر نہ آئی اور گمراہی میں ڈوبی رہی ۔

اپؑ کانام شکر تھا لیکن بعد میں اپنی قوم پر افسوس اور نوحہ کرنے کے وجہ سے نوح پکارے جانے لگے۔آپؑ ہر روز پہاڑ پر چڑھ کر تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے لیکن آپؑ کی قوم مردود کافر شرک میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ وہ حضرت نوح کی پکار سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تاکہ کلمہ توحید کی آواز ان کو سنائی نہ دے سکے وہ بڑے ہی بدبخت اور سیاہ لوگ تھے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام چالیس سال کے بعد معبوث ہوئے اور نوسو پچاس برس اپنی قوم کو دعوت توحید فرماتےرہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا ہی میں رہے اور اس طرح آپؑ کی عمر مبارک ایک ہزار پچاس برس کی ہوئی ،اس کے علاوہ عمر شریف کےمتعلق اوربھی روایات ہیں(خازن)

ارشاد بانی ہے۔اور بے شک ہم نے نوح کو اس قوم کی طرف بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کے لئے ہر دلیل دی لیکن ان لوگوں نے کہا اے نوحؑ اپنی مجلس سے کمینے اوررزیل لوگوں کو نکال دیجئے کہ یہ لوگ ہماری ہمسری نہیں کرسکتے ،حضرت نوح کے ماننے والوں کو امر اور شری لوگوں نے کمینہ اور رزیل گردانا۔تو آپؑ نے فرمایا کہ لعنت ہے تم پر کہ ایماندار لوگوں کو رزیل اور کمینہ کہتے ہو اور ان کی قدر نہیں کرتے اور تم نہیں جانتے کہ وہ تم سے بہتر ہیں۔

حضر ت نوح علیہ السلام Hazrat Nooh A.S

حضر ت نوح علیہ السلام Hazrat Nooh A.S in romon urdu

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ کی نبوت میں تین اعتراض کئے پہلا اعتراض تویہ کیا کہ ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے یعنی تم مال و دولت میں ہم سے زیادہ نہیں ۔اس کے جواب میں نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔تمہارا یہ خیال بالکل غلط اور بے محل ہے کہ میں نے کبھی مال میں فیضلت نہیں جتلائی اور اپنی دعوت حق کو دنیوی مال کے ساتھ وابستہ نہیں کیا پھر تم یہ کہنے کے کیسے مستحق ہو کہ تم مجھ میں کوئی مال فیضلت نہیں پاتے

دوسرا اعتراض قوم نوح علیہ السلام نے یہ کیا تھا ۔ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری کسی نے پیروی کی ہوسوائے غریبوں اور کمزوروں کے اس کےجواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میں غیب دان ہوں یا میرے احکامات غیب پر مبنی ہیں۔تمہارا اعتراض بالکل مہمل ہے۔اور  میں نے تو اس کا دعوٰی نہیں کیا باوجود یہ کہ میں بنی ہوں تم کس طرح کہتے ہوکہ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ۔ظاہری ایمان لائے ہیں باطن میں پہلے

جیسے ہیں اور غیب کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔

تیسر اعتراض قوم نوح علیہ السلام کا یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم تمہیں اپنا جیسا آدمی ہی دیکھتے ہیں اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں میں تو تمہارے جیسے انسان ہوں اور آدم علیہ السلام کی اولاد ہوں جیسا کہ تم سب ہو۔میں نے فرشتہ ہونے کادعویٰ ہر گز نہیں کیا۔سوتمہارا یہ اعتراض بھی غلط ہے ۔باقی رہا میرے ساتھیوں کا جو اللہ پر ایمان لاچکے ہیں ان کے دلوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔میں ہر گز انہیں اپنے سے جدا نہیں کروں گا۔اس پر قوم نوح علیہ السلام آپے سے باہر ہوگئی اورانہوں نے نوح علیہ السلام کو پکڑ لیا اور ظلم و تشدد کرنا شروع کردیا ۔ایک روز انہوں نے نوح علیہ السلام کے گلے میں رسی ڈال کر کھینچا اور بہت تشدد کیا حضرت نوح علیہ السلام تین دن صدمے اورتکلیف سے بے حال رہے۔

اتنی تکلیف پانے کے بعد بھی حضرت نوح علیہ السلام برابر دعوت حق دیتے رہے اور اپنا فرض پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہے ،حضرت نوح علیہ السلام نے نو سو سال تک دعوت حق کی تبلیغ کرنے دن رات کام کیا۔لیکن کافروں نے ایک سنی اور آپؑ کے کام میں روڑے اٹکاتے رہے اور آپؑ کا مزاق اڑاتے رہے ۔قوم نوح نے جب آٌؑپؑ پر تشدد کی انتہا کردی تو حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے التجا فرمائی کہ اے میرے رب بلاتا رہا میں اپنی قوم کو رات دن مگر میرے بلانے سے وہ اور زیادہ بھاگتےرہے لیکن یہ گرادنتے ہیں اور دیوانہ کہتے ہیں حتیٰکہ میری بیوی بھی کہتی ہے کہ نوح علیہ السلام خدانخواستہ دیوانہ اور پاگل ہے ۔اور جو باتیں کرتا ہوں دیوانگی اور پاگل پن کی وجہ سے کرتا ہوں۔

بیوی کی بے ادبی اور گستاخی نے حضرت نوح علیہ السلام کو گہرا دکھ اور صدمہ پہنچایا ۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی اے اللہ!یہ معلون اور کافر میری بات نہیں مانتے اور انہوں نے نافرمانی کی انتہا کردی ہے تو ان پر اپنا وعدہ پورا کردے کہ انہیں میری نصیحت کاکوئی اثر نہیں ہوتا۔یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں کہ اسی میں ان کا بھلا ہے اور یہی نجات کاراستہ ہے۔وہ لوگ صریحا گمراہی میں ڈوب چکے ہیں۔پھر آپؑ نے اپنی قوم کو خطاب فرمایا اور کہا اےلوگو!تم پر اللہ کاعزاب نازل ہوگا اور تم اس سے ہرگز بچ نہ پآوگے ۔تمہارا مال تمہاری جان تمہاری پر چیز جس پر تم فخر اور غرور کرتے ہو یہیں رہ جائے گی۔تمہارے ہاتھ کچھ نہیں جائے اور تم فنا کردیئے جاوگے اورتمہارا انجام یقینِا بہت درد ناک ہوگا۔پھر آخرت میں تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا اور تمہیں معلوم ہوگا کہ اللہ کے احکام جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔اس کے رسول کی سچائی جھٹلانے اور اس پر الزام تراشی کرنے کا حشر کیا ہے۔میں سچا نبی ہوں۔تم مجھ کو جھٹلاتے ہواس پر الزام بھگتنے کے لئے تیرا ہوجاو اللہ کا عزاب آنے والا ہے۔

اللہ کا حکم

قوم نوح نے آپؑ کے خطاب پر حسب سابق مزاق اڑایا پتھر پھنکنے شروع کردیئے اور آپ کی تکزیب شروع کردی اس پر اللہ نے فرمایا ۔اے نوح علیہ السلام یہ لوگ اب مسلمان نہ ہوگے مگر جتنے ایمان لاچکے تم غم نہ کرو اور ان پر میراعزاب آیا ہی چاہتاہے اوران سے انتقام لینے کا وقت آگیا ہے اور اے نبی اللہ تم ان کی شفاعت کی دعا نہ کرنا کہ ڈوبنا ان کا مقدر ہوچکا ہے۔

حدیث شریف ہے۔حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے درخت بوئے ۔بیس برس آپؑ نےان کی پرورش فرمائی ۔بیس سال کے بعد یہ پودے تنا وردرخت بن گئے۔ان بیس سالوں کےدوران قوم نوح میں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا اس کے پہلے جوبچے پیدا ہو چکے تھے ۔وہ بالغ اور جوان ہوگئے۔عورتیں بانجھ ہوگئیں انہوں نے بھی حضرت نوح کی دعوت قبول کرنے سے صاف نکار کردیا۔بانجھ عورتوں نے کہا کہ یہ لواحقین سے کہا کہ یہ نوح علیہ السلام قوم کا دشمن ہے اس کی بات ہر گز نہ مانواور اس کو زلیل و خوار کرو کہ پاگل اور دیوانہ ہےحضرت نوح نے ناامید ہو کر کافروں کے حق میں بددعا فرمائی کہ اے رب اس زمین پر ایک بھی کافر زندہ نہ چھوڑ۔

حضرت نوح علیہ السلام کا کشتی بنانا

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اللہ کا حکم سنایا کہ اے نبی ان درختوں کو کاٹ ڈال اور تختے تیارکرکے ایک بڑی کشتی بنا۔حضرت نوح علیہ السلام نے درخت بحکم ربی کاٹ دالے اور تختے تیار کرنا شروع کر دیئے پپھر کشتی کی تعمیر شروع کر سی کافر قوم بدستور ان کا مزاق اڑاتی کہ یہ دیکھو کیا کررہاہے ۔ادھر دور دور تک سیلاب کا خطرہ نہیں اور دیوانہ کشتی تیار کرتاہے لیکن آپؑ نے کافروں کی کوئی پرواہ نہ اور کشتی بنانے میں مصروف رہے ۔آخر وہ کشتی مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔یہ کشتی ایک ہزار گز لمبی اورچارسوگز چوڑی تھی۔جب کشتی تیار ہوگئی تو کافر بہت ہنسے ۔ارشاد بانی پے۔اور نوح کشتی بناتے تھے اور جب اس کی قوم کے سرادر اس پر سے گزرے تو ہنسی کرتے اس پر نوح علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اگر تم ہنسی کرتے ہم پر تو ہم ہنستے ہیں تم پراوراب آگے جان لوگے کہ کس پر آتا ہے۔عذاب رسوا کرنے والا اور ہمیشہ رہنے والا عذاب(القرآن)

ایک روایت ہے کہ کشتی تیار ہو نے کو تھی کہ چارتختے کم پڑ گئے حضرت نوح نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے نبی اللہ!کہ جیسا کہ آپ نے کشتی کے تمام تختوں پر درجہ بددرجہ تمام انبیاءکرام کے نام گرامی کندہ فرمائے ہیں اور نبی آخر الزمان کا نام نامی آخری تختے پر لکھا ہے اسی طرح چاروں تختوں پر نبی آخر الزمان کے چار یاروں کا نام کندہ کیجئے ۔وہ نام نامی ہیں،ابوبکررض ،عمر فاروق رض،عثمان غنی رض اور سیدنا علی رج ان کی برکت سےتمہاری مامون ومحفوظ رہے گی اور نجات پائے گی کہ اے نوح علیہ السلام جس مومن کے دل میں حضرت محمد صلیٰ علیہ والہ وسلم کی محبت اور اس کے چاروں یاروں کی محبت ہوگی وہ آتش دوزخ سے نجات پائے گا اور فرمایا اے نوح علیہ السلام دریائے نیل میں ایک درخت ہے کسی کو بھیج کر وہ درخت منگوایئے اور اس درخت کی لکڑی سے چار تختے بنایئے اور ان پرچاروں اصحابہ رض کے نام گرامی کندہ کر کے کشتی میں جڑ دیجیئے کشتی مکمل ہوجائے گی۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنےبیٹوں کو کہاکہ اے بیٹو!دریائے نیل سے درخت اکھاڑ لاؤ لیکن بیٹوں نے سنی ان سنی کردی۔اس پر آپ علیہ السلام نے عوج کو بلوایا اور اس کو کہا اے عوج دریائے نیل سے فلاں درخت اکھاڑ لاؤمیں تجھے پیٹ بھر کھانا کھلاؤں گا ،عوج بن عنوق قوم موسیٰ کا لحیم ثخیم اور بہت طاقتور شخص تھا۔اس کی خوراک بے حساب تھی اور وہ ایک وقت میں یک مہینے کی خوراک کھا جاتا تھا۔اور پھر بھی بھوک بھوک چلاتا رہتا تھا۔پیٹ بھر کھانے کا نام سن کر عوج بن عنوق پھولا نہ سمایا اور جاکر دریائے نیل کے کنارے اگا ہوا درخت اکھاڑ لایا اور حضرت نوح علیہ السلام کے اگے پھینک کر کھانے کا طلب ہوا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے جوکی تین روٹییاں اسے کھانے کو دیں اس پر وہ بہت حیران ہوا اور کہنے لگا ۔اے نوح علیہ السلام میں تو بارہ ہزار روٹیاں ایک وقت میں کھا جاتا ہوں بھلا ان تین روٹیوں سے مجھے کیا سیری ہوگی ۔توتو مجھ سے مزاق کرتا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے کہا اے عوج بن عنوق تو بسم اللہ پڑھ کر یہ تین روٹیاں کھانا شروع کرا نشاء اللہ تیری بھوک مٹ جائے گی اور تین روٹیاں بھی تجھ سے  کھائی نہیں جایئں گی۔اس نے بسم اللہ پڑھ کر تین روٹیاں کھانا شروع کردیں لیکن ابھی دوسری روٹی ختم نہ ہو پائی تھی کہ وہ شکم سیر ہوگیا۔

کشتی تیار ہوچکی تھی یہ کشتی دوسال میں تیار ہوئی ۔یہ کشتی پچاس گز اونچی تھی۔حضرت موح علیہ السلام نے اس کشتی میں تین درجے بنائے تھے۔سب سے نچلے درجے میں درندے اوروحوش،درمیانے میں چوپائے وغیرہ اور سب سے اعلیٰ درجے میں حضرت نوح اور آپؑ کے ساتھی اور حضرت آدم علیہ السلام کا جسد مبارک جو عورتوں اور مردوں کے درمیان رکھا تھا۔پرندے بھی اوپر آپؑ کے ساتھ شامل تھے ۔

مختلف روایات میں ہے کہ کل مزدوزن بہتر تھے۔اس میں کوئی مستند بات نہیں ہے ۔آپ نے کشتی میں ہر جاندار ،چرند،پرند ،درندے اور حیوانات ،میویشی کے جوڑوں کوسوار فرمادیا ۔روایایت ہے کہ طوفان آنے سے پہلے کافر مردود کشتی بناتے دیکھ کر مزاق کرتےتھے ۔کشتی تیار ہوگئی تو ایک مردودنے اس میں بول ودبراز کردیا۔اس پر دوسرے بھی کشتی میں رفع حاجت کرنے لگے حتیٰ کہ کشتی میں جگہ نہ رہی ۔حضرت نوح یہ دیکھ کر بہت غمگین ہوئے ۔اس پر اللہ نے فرمایا اے میرے پیارے غم نہ کر تو تماشہ دیکھ ۔سی اثنا میں کفار میں خارش کی وبا پھیل گئی۔

ایک دن ایک آدمی کشتی میں رفع حاجت کے لئے آیا تو اس کا پیر پھسل گیا اور وہ گندگی میں گر گیا ۔وہ گندگی میں لتھڑ گیا ،بمشکل وہ باہر نکلا۔دیکھا تو اس کی خارش ختم ہوچکی تھی ،وہ بہت خوش ہوا اس نے آکر اپنی قوم کو بتایا ۔لوگ جو خارش سے پریشان تھے ۔کشتی کی طرف دوڑ پڑے اور کشتی سے بول براز نکال کر اپنے بدنوں پر ملنے لگے ۔اس طرح انہوں نے کشتی سے سارا بول براز نکال کر اپنے جسموں پر مل لیا حتیٰ کہ انہوں نے پانی ڈال ڈال کر کشتی کو بالکل شیشے کی طرح صاف کردیا حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطابق کشتی میں جانداروں کو سور کراچکے تھے۔حضر ت نوح کے گھرمیں پتھر کا تنور جوکہ حضرت حوا علیہ السلام کا تھا اور آپ کوترکہ میں ملاتھا اس میں سے پانی ابل پڑا اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا ۔ارشاد الہی ہے ترجمعہ اور اترتا ہے عزاب جو ہمیشہ رہے۔یہاں تک جب ہمارا حکم آیا اور تنورا بلا ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کر لے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نرومادہ اور جن پر ثابت ہوچکی ہے۔ان کے سوا اپنے گھروالوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے اور بولا۔اوراس میں سوار ہوا اور اللہ کے نام پر اس کا چلنا اورٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔تنور کا ابلنا اللہ کے عزاب کی آمد کا اشارہ تھا سو حضرت نوح نے تمام ٓجانداروں ،پرندوں ،چرندوں وغیرہ کو کشتی پر سوار کر لیا۔حضرت نوح علیہ السلام کی منافق بیوی داملہ جو کافرہ تھی اور آپ کا بیٹا کنعان جوکہ منافق تھا۔اپنے وال پر اپنے آپ کومسلمان ظاہر کرتااور باطن میں کافروں کے ساتھ متفق تھا۔وہ پس پشت آپ کو جھٹلاتا تھا۔دونوں کشتی میں سوار نہ ہوئے ۔دونوں نافرمان تھے ۔اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا ۔کہ عزازیل جیسا عبادت گزار کوئی بھی نہ تھا۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے جسد کو بنایا اعلان فرمایا کہ زمین پر اپنا نائب بھیجتا ہوںتو عزازیل(شیطان) جل کر خاک ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں تو نہایت زبردست عبادت گزار ہوں۔اور میں آگ سے بنایا گیاہوں پھر یہ خاک کا پتلا مجھ سے افضل کیسے ہو سکتا ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نےفرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب کے سب سجدے میں گر گئے سوائے ابلیس کے۔وہ اپنے تکبر اور فخر پر ڈٹا رہا کہنے لگا کہ میں ہرگز سجدہ میں نہیں کروں گا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت فرمائی اور کہا اے لعین دور ہو کہ تو ابلیس ہے اور تو راندہ ہوا شیطان  ہے۔

اپنینافرمانی کے باعث عزازیل جیسی مقرب ہستی نے لعنت کاطوق گلے میں سجالیا اورشیطان اور ابلیس کہلایا۔

اس طرح یہ ثابت ہواکہ نافرمان کے لئے اس دنیا کہیں بھی کوئی جائے امان نہیں۔یہ عمل ازل سے جاری ہے۔نافرمانی ایک نہایت قتبیح اورناپسندیدہ فعل ہے۔جس کی معافی نہیں انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیسے ہو صورت بچنا چاہیے ۔اس کے احکامات کی ہر صورت پیروی کرنا لازم ہے۔

طوفان کی آمد

حضرت نوح علیہ السلام نے ہر جاندار کے جوڑے کو کشتی میں سوار کرلیا تو

انہوں نے اپنی بیوں واملہ کوکہا اے بی بی کشتی میں سوار ہو جا۔کہ عزاب الہٰی آنے کو ہے پھر کہیں جائے پناہ نہ ملے گی ۔دی نہ کر آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیلن واملہ نے کہا ۔اے نوح علیہ السلام میرابیٹا کنعان اور دیگر عزیز میرے ساتھ ہے توتو پاگل ہو چکاہے ۔بھلا اتنے صاف موسم میں طوفان کیسے ائے گا۔میں نہیں آنے کی اور نہ کنعان آئے گا۔اس پر حضر ت نوح علیہ السلام بہیت رنجیدہ ہوئے اور کشتی میں سوار ہوگئے ۔کافر مردود کشتی کو دیکھ دیکھ ہنستے پتھر مارتے تھے۔وہ مزاق اڑانے میں مصروف تھے کہ آسمان پر سیاہ گھٹائیں چھانا شروع ہوگیئں اورہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی ۔سیاہ بادلوں میں بجلیاں گھٹایئں چھانا شروع ہوگئیں کفار ہلکی ہلکی بارش میں موسم کا مزہ لینے لگے ۔وہ نہانے رہے تھے خوش فعلیاں کررہے تھے ان کے بت جن کے عجیب وغریب تھے۔اور جو لکڑی اور پتھر کے بنے ہوئے تھے تعریف اور مدح کررہے تھے ۔ویسے تو ان کے پاس بہت سے بت تھے ۔لیکن پانچ بت مشہور تھے جوان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے (1)ود(2)سواع(3)یغوث (4)یعوق(5)نسر تھے

1۔ود کی شکل مردجیسی تھی اسے یہ لوگ خداؤں کا خد امانتے تھے جیسے کہ ہندو بھگوان کو سب دیوتاؤں کا دیوتا کہتے ہیں اور دوسرے دیوتا مختلف کاموں کے لئے مخصوص ہیں جس کا پانی کا دیوتا ۔رزق کادیوتا۔آگ کا دیوتا۔ناگ کا دیوتا وغیرہ۔

2۔سواع عورت کی شکل کا بت تھا اور تعین مردود کافر اس بت کو پیدائش کا دیوتا مانتے تھے  حاملہ عورتیں سجدے کرتے چڑھاوے چڑھاتیں اور کنواریاںاپنے لئے اچھے برے کا منتیں مانتیں 3۔یعوث کی صورت شیر کی شکل کی جیسی تھی ۔

4۔یعوق کی شکل گھوڑے جیسی تھی۔

5۔اسی طرح پانچویں بت نسر کی شکل گدھ سے مشابہ تھی۔

قوم نوح بارش یونے پر بہت خوش تھی کہ جبرائیل تشریف لائے اور فرمایا۔اے نوح علیہ السلام بسم اللہ پڑھ کہ تیرے بسم اللہ کہنے سے کشتی چل پڑے گی اور دوبارہ بسم اللہ کہنے سے کشتی رک جائے گی۔

بارش اب تیز ہوچکی تھی اور کشتی زمین چھوڑ رہی تھی۔آسمان کے سوتے کھل گئے اور زمین نے بھی پانی اگلنا شروع کر دیا ۔ہر طرف پانی ہی پانی ہو چکا تھا۔ایسے میں آپؑ کا بیٹا کنعان نظر آیا ۔آپؑنے آوازدی اے کنعان!اب بھی وقت ہے اللہ کا نام لے کر کشتی پر آجا یہ عزاب الہی ہے۔رکنے والا نہیں۔اس پر نافرمان بیٹے نے چلا کر کہا ۔اے باپ  تو جا میں خود ہی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گااوراپنی جان بچالوں گا۔میں ہر گز تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا ۔جیسا کہ پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ شیطان لعین نے نافرمانی کی اورراندہ درگاہ ہوا۔شیطان کا اصل نام عزازیل تھا۔

نافرمانی کی سزا

عزازیل قوم جنات میں سے تھا ۔اور اللہ کا زبردست عبادت گزار تھا ۔عزازیل نے اللہ تعالیٰ کے حضور ہزاروں سال تک سجدہ کیا اور عبادت کرتا رہاپھر پر

طبقہ زمین پر عبادت کرتا رہا۔ہر طبقہ پر یزار سال بسجود رہا۔پھر اللہ تعالیٰ اسے طبقہ زمین پر لے آئے اور پھر ہزار سال تک عباد ت کرنے کے بعد پہلے آسمان پر لایا گیا اور اس کو خاشع کا خطاب ملا۔پھر ہزار سال تک عبادت کرتا رہا۔دوسرے آسمان والوں نے اسے عابد کہا۔اوریہ اپنی عبادت اور ریاضت کے بل بوتے پر اللہ کی رحمت کےمزے لیتا تیسرے آسمان پر جا پہنچا۔تیسرے آسمان پر ہزار سال رک سربسجود رہا اور اللہ کی عبادت کرتا رہا۔وہاںاس کو صالح کا درجہ عطا ہوا اور چوتھے آسمان پر بھیج دیا گیا۔چوتھے آسمان پر بھی ہزار سال عبادت کرنے کےبعد اس کو پانچویں آسمان پر بھیجا گیا۔وہاں اس کو ولی کا درجہ ملا۔اور پانچویں آسمان پر عبادت ریاضت کا صلہ چھٹےآسمان پر بھیجا گیا اور عزازیل نام رکھا گیا ۔چھٹے آسمان پر پھر ہزار سال عبادت کرنے کے بعد اس کو ساتویں آسمان پر بھیجا گیا۔عزازیل نے اتنی عبادت کی کہ آسمان او رزمین میں کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں اس نے رب جلیل کے آگے سجدہ نہ کیا ہو۔ساتویں آسمان پر بھی یہ ایک ہزار برس اللہ کے حضور سر بسجود رہا۔

بعدہ عرش معلے پر سجدے سے سراٹھایا اور اللہ کے حضور التجا کی اے باری تعالیٰ مجھے اپنے فضل کریم سےلوح محفوظ دکھا دے۔تاکہ میں تیری قدرت دیکھ سکوں اور زیادہ عبادت کروں۔چنانچہ اللہ کے حکم سے اسرافیلؑ اس کولوح محفوظ پر لے گئے۔

عزازیل نے لوح محفوظ پر نظر ڈالی تو اس کی نظر ایک نوشے پر پڑی کہ ایک بندہ خدا چھ لاکھ برس تک اپنے خالق ومالک کی عبادت کرتا رہے اور اگر نافرمانی کرے اور حکم ربی پر ایک دفعہ سجدہ نہیں کرتا تو اس چھ لاکھ کی ریاضت اور عبادت مٹ جائے گی اور اس کا نام مخلوقات میں ارزل ترین ہوگا اور اسے ابلیس مردود کہا جائے گا۔

عزازیل یہ توشہ لوح پڑھ کروہیں چھ لاکھ برس روتا رہا۔

جنات باری سے آواز آئی کہ اے عزازیل جو بندہ میری اطاعت نہ کرے اور نافرمانی کرے میرا حکم بجانہ لائے اس کی سزا کیا ہے؟عزازیل نے کہقا اس پر خدا کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی ۔جواطاعت نہ کرےاللہ تعالیٰ نے عزازیل کوجنت معلیٰ میں بھیجا۔وہاں عزازیل ہزاروں سال عبادت کرتا رہا اور درس وتدریس وعظ ونصیحت کرتا رہا۔تمام مقرب فرشتے اس کا وعظ سنتے تھے یہاں تک کہ وہ فرشتے کہتے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ صادر ہووے گاتو ہم عزازیل کواللہ کے حضور شفیع کریں گے تاکہ خداوند کریم ہمارے گناہ معاف فرمائے۔اتفاقا ایک روز فرشتوں کی نظر لوح محفوظ پر پڑی ،نوشتہ تقدیر دیکھ کر تمام فرشتے رونے اور آہ وزاری کر نے لگے ۔یہ دیکھ کر عزازیل نے صورتحال پوچھی ۔فرشتوں نے کہا کہ لوح محفوظ پر لکھا ہے کہ ہم میں سے ایک شخص حکم ربی کی سرتابی کرے گا اور راندہ درگاہ ہوگا ۔وہ لعین اور مردود ہوگا۔

اور جب اللہ تعالی حضرت آدم کی تخلیق کر چکے تو حق باری نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں۔

تمام فرشتے سجدے میں گرگئے سوائے ابلیس کے۔فرشتوں نے جب سجدے سے سر اٹھایا تو دیکھا کہ ابلیس کھڑا ہے اور حکم ربی سےمنہ موڑ چکا ہے۔یہ دیکھ کر ہر فرشتہ ایک بار پھر سجدے شکر بجالایا۔اللہ تعالیٰ سے ابلیس لعین سےپوچھا  کہ اے لعین تو نے ہمارا حکم کیوں نہیں مانا۔ابلیس نے کہا۔اے میرے رب میں اس خاک کے بنے ہوئے سے بہتر ہوں ۔کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور یہ مٹی سے بنایا گیا اور میں تیراعبادت گزار ہوں ۔کہ میں تیرےسوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرسکتا۔اور نہ ہی کروں گا۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔یہاں سے نکل جاکہ تومردود ہے اور تجھ پرلعنت ہے قیامت تک۔

اللہ تعالیٰ کی پھٹکارابلیس لعین پرپڑی اور اس کی شکل بدل گئی اور وہ معلون ومردود شیطان قرار پایا۔اس طرح اسے نافرمانی کی سزا ملی۔قوم فرعون اور نافرمان قوم تھی اس کا حال یہ تھا کہ ہر وقت نافرمانی پر کمربستہ تھی ۔حضرت موسیٰ کی یہ قوم قوم فرعون کہلاتی تھی۔ان پر اللہ قحط نازل کیا۔ان مڈی دل کے لشکر بھیجے ،پھر ان کے لباسوں میں جوئیں پیدا ہوگئیں۔ام کے گھروں میں مینڈک ہی مینڈک پھرنے لگے۔یہ ہر دفعہ معافی طلب کرتے اورپھر نافرمان ہوجاتے اور احکام الہی سے منہ موڑ لیتے۔ان لوگوں کے ہر بھرے کھیت تھے درخت اور باغات تھے۔حضرت موسیٰؑ نے بددعا کی ٹڈی پیدا ہوگئ اور ان باغات اور کھیتیاں ویران ہوگئیں ۔قوم فرعوب نے کہا۔اے موسیٰ یہ عزاب ہم سے ہٹا دے ہم تیرے رب پر ایمان لادیں۔حضرت موسیٰ کی دعا سے یہ عزاب ختم ہوا تویہ کہنے لگے یہ عزاب تمہاری نحوست کی وجہ سے آیا تھا۔اور ہم تم پر یقین نہیں لاتے اور نہ ہم تمہارے خدا پر ایمان لاتے ہیں۔اس نافرمانی پر حضرت موسیٰ نے پھر بددعا فرمائی اس کے تیجہ میں اس ظالم قوم کے کپڑوں میں جوئیں پڑگئیں اور وہ سخت مشکل میں پڑ گئے۔حضرت موسیٰ اس بار آپؑ یہ مصیبت دفع کرائیے آئندہ ہر بات تسلیم کریں گے۔حضرت موسیٰ نے پھر دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی دعا قبول فرمائی اور چچڑیاں ختم کردیں

حضرت موسیٰ نے دعوت حق دی تو یہ کافر پھر مکر گئے اور کہنے لگے اے موسیٰ تو جادوگر ہے اور یہ کھیل ترے جادو سے ہوتا ہے۔ہم ہسگز تیرے کہنے میں نہیں آئیں گے تو بڑا جادوگر ہے۔حضرت موسیٰ نے پھر بددعاکی بے شمار مینڈک پیدا ہوگئے کہ بیٹھنے اٹھنے کی جگہ نہ رہی۔گھروں میں کھیتوں میں ،کھانے،پینےاور کپڑوں میں مینڈک ہی مینڈک پھرتے تھے۔قوم فعون سخت عاجز میں اآگئی وہ ایک کو مارتےتو دس پیدا ہوجاتے یہ حالات دیکھ کر لوگوں نے فرعون معلون سے کہا۔ہم سب موسیٰ سے سخت عاجزآچکے ہیں وہ ہم کو نت نئے عزاب اور بلاؤں میں مبتلا کررہا ہے۔فرعون بولا ۔تم مت ڈرو۔یہ سب جادوگری ہے تم پھر جاکر اس سے کہو ہم معافی مانگتے ہیں اب ہم ہر گز نافرمانی نہیں کریں گے۔یہ عزاب ختم کرو۔

قوم فرعون نے ایسا ہی کیا اور حضوت موسیٰ سے کہا یا موسیٰہم تمہاری بات مانیں گے ہم پر سے عزاب ہٹا ۔حضرت موسیٰ نے پھر دعامانگی اور اللہ سے التجا کی کہ ئی عزاب ختم کر دیاجائے ۔اللہ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اورمینڈک ختم ہوگئے۔

اب موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو دعوت دی تو وہ پھر مکر گئے۔حضرت موسیٰ نے پھر بددعا کی ۔اللہ کے حکم سے ان کے گھروں میں پانی کی جگہ خون پھر گیا۔ہرجگہ ،ہرندی نالہ خون سے بھر ہوا تھا ۔قوم فرعون سخت عاجز آئی ہوئی۔نبی اسرائیل جب پانی پیتے تو پانی صاف ہوجاتا لیکن فرعون کی قوم پانی پیتی تو پانی خون بن جاتا۔

یہ صورتحال دیکھ کر قوم فرعون پھر فرعون کے پاس پہنچی اور فریاد کی اس ملعون نے پھر سبق پڑھایا کہ اب کی بار تم جاکر معافی مانگو اور کہو کہ ایک بارمعاف کردو۔اب ہم نافرمانی نہیں کریں گے۔اللہ کے حکم سے ندی نالے پانی سے بھرگئے۔اور عزاب ختم ہوگیا۔

لیکن عزاب ختم ہونے کے بعد پھر گئے اور نافرمانی کرنے لگے اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بددعا کی۔اس دفعہ قوم فرعون کی تمام دولت روپیہ پیسہ پتھر کے ٹکڑے بن گئے حتیٰ کہ مرغیاں انڈوں کی بجائے پتھر دینے لگیں۔کھانے پینے  کی چیزیں،پھل وغیرہ ان کے ہاتھ میں آتے ہی پتھر بن جاتے۔

قوم فرعون پھر فرعون کے پاس پہنچی کہ اب کیا کریں؟فرعون نے کہاتم آخری بار حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے پاس جاؤ ۔اور التجاءکرو۔کہ وہ عزاب اٹھالے ۔اسی دوران میں کچھ کرتا ہوں۔

قوم فرعون نے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی التجاء کی ۔آپ کو پھر رحم آگیا۔اور آپ نےاللہ کے حضور عزاب ہٹانے کی سفارش کی ۔

آُؑپؑ سجدے میں گر گئے۔اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی التجاء قبول فرمائی اورتمام چیزیں جو پتھر کی ہوچکی تھیں اپنی اصل حالت میں آگئیں۔حضرت موسیٰ نے جب پھر دعوت حق دی تو یہ قوم پھر منکر ہوگئی اب اللہ کا حکم آیا۔کہ اے موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر فورارات کے وقت مصر سے نکل جاؤ اوراس طرح جاؤ کہ فرعون قوم کو تمہارے جانے تک کی خبر نہ ہو۔میں تم کو دریا کے پار کردوں گااور فرعون ملعون اور اس لے لشکر وں کو دریائے نیل میں غرق کردوں گا۔

یہ وعدوں سن کرحضرت موسیٰاپنی قوم کو ساتھ لے کر نہایت خاموشی سے نکل گئے اور دریائے نیل پر جاپہنچے۔چاند کی چاندنی میں دریائے نیل کی موجیں چاندی کی طرح چمک رہی تھیں وار دریا زبردست چڑھا ہوا تھا۔حضرت موسیٰ جونہی دریائے کنارے پہنچے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں12راستے بن گئے اور حضرت موسیٰ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کو لے کر دریائی راستوں پر اتر گئے۔اتنے میں فرعون کو معلوم ہوگیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کرنکل گئے۔فرعون کو سخت غصہ آیا وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ کے پیچھے چڑھ دوڑا۔حضرت موسیٰ کی قوم دریا پار کرچکی تھی ۔فرعون نے پانے لشکروں اور قوم کے ساتھ دریا میں اترا جب وہ دریا کے بیچوں بیچ پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سےسارے راستے آپس میں مل گئے فرعون اس قوم اور لشکر غرق دریا ہوگئی۔نافرمانی اور حکم الہی سے سرتابی کی وجہ سے فرعون عبرت بن کر رہ گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی لاش محفوظ کردی اورآج بھی وہ فرعون جا نافرمانی کے باعث اپنے آپ کوخدا کہتا تھا۔لندن کے عجائب گھر میں اس کی لاش رکھی ہے۔اور اللہ کے حکم سے محفوظ ہے۔جودرس عبرت ہے۔ اس طرح نوح علیہ السلام کا نافرمان لڑکا کنعان پانی میں تیرنے لگا اور آپ کی کافرہ بیوی بھی پیچھے رہ گئی۔پانی چھاجوں برس رہا تھا۔زمین کے ہر گوشہ سے پانی اہل رہا تھا۔خوفناک ہوائیں چل رہی تھی۔کشتی کے سوار افراد اور ڈھورڈنگر،چرند،پرند،درندے ،ہر جاندار،اپنی جگہ سہا ہوا تھا۔خود نوح علیہ السلام اور ان کے چالیس ساتھی اللہ کے آگے رورہے تھے ۔اور توبہ استغفار کر رہے تھے۔

پانی دم بدم بڑھتا ہی چلا جارہاتھا ۔آسمان کے دہانے کھل گئے تھے۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔او ر یہ پانی درختوں تک جاپہنچا  تھا۔قوم نوح کے جو لوگ تیرنا نہیں جانتے تھے وہ ڈوب چکے تھے،اور جو تیرنا جانتے تھے وہ پانی کی سطح پر تنکوں کی طرح تیررہے تھے۔اور اسی ثناء میں حضر ت نوح کشتی کے عرشے پر تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کا بیٹا کنعان پانی کی موجودگی میں تیرتا ہوا پہاڑ کی طرف بڑھ رہا ہے۔آپ نےاے بیٹے یہ عزاب الہٰی ہے وہ عزاب الہٰی جس سے آج کوئی بچ نہ پائے گا۔اب بھی وقت ہے کشتی میں آجا۔محفوظ ہو جائے گا،لیکن لڑکے نے  تیرتے ہوئے ایک نہ سنی اور جواب دیا۔اے باپ تو پرواہ نہ کر تیرے خدا کا عزاب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ابھی دیکھ میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور اپنی جان بچالوں گا۔

ترجمعہ:میں بہت جلد کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ مجھ کو غرقابی سے بچالے گا۔

حضرت نوح نےیہ سن کر فرمایا۔اے میرے بیٹے یہ اللہ کی طرف سے نافرمان بندوں پر عزاب ہے آج یہ نافرمان گناہ گار بچ نہیں سکیں گے۔تو میری بات مان لے کشتی پر آجا کہ یہاں امان ہے اور اللہ کی ذات پر ایمان لےآ۔وہ رحمٰن ہے۔رحیم ہے۔کریم ہے۔ستار ہے غفار ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری ترجمعہ۔

آج کوئی خدا کے حکم سے بچانے والا نہیں ہےصرف وہی بچے گا جس پر خدا کارحم ہوجائے اس درمیان میں ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ غرق ہونے والوں میں سے ایک ہوگیا۔

نافرمان بیٹے نے اپنے باپ کی پکار نہ سنی اور نافرمانی پر کمربستہ رہا۔اس پر مجیں اور پھر زور زور سے اٹھنے لگیں۔

حضرت نوح علیہ السلام یہ دیکھ کر پکار اٹھے۔اے رب العلمین اے پروردگار عالم رحم فرما کہ میرا بیٹا کنعان ڈوبتا ہے۔رحم رحم رب العالمین شفقت پدری سےنوح علیہ السلام اپنے رب کی رحمت کو پکار ریے تھے۔لیکن پرودگار عالم کا فیصلہ ہوچکا تھا کہ نافرمانی کی سزا ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔جیسا کہ ارشاد بانی ہے ۔ترجمعہ :اور نوح نے اہنے رب کو پکارا اور کہا اے پروردگار میرا بیٹا میرے اہل ہی میں سے ہے۔اور تیراوعدہ سچا ہے اور تو بہترین حاکموں میں سے ہے۔اللہ تعالیٰ نہ کہااے نوح !یہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے ۔یہ بدکردار ہے پس تجھ کو ایسا سوال نہیں کرنا چاہیئے جس کےبارے میں تجھ کو علم نہ ہو۔میں بلاشبہ تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں سے نہ بن،نوح نے کہا،اے رب میں بلاتردد اس بارہ میں کہجس کے بارے میں تجھ کو علم نہ ہو تجھ سے سوال کروں تیری پناہ چاہتا ہوں اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گا ۔نوح سے یہ کہہ دیا گیا۔اے نوح !ہماری جانب سے تو اور تیرے ہمراہی ہماری سلامتی اور برکتوں کے ساتھ زمین پر اترو۔

ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام سے خدا کا وعدہ تھا کہ وہ ان کے اہل نجات دے گا اس لئے حضرت نوح نے اپنے بیٹے کنعان کے لئےدعا مانگی۔جس پر رب العالمین کی جانب سے عتاب ہو اکہ جس شے کا تم علم نہ ہو اس کے متعلق سوال کرنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔اس وارننگ پر حضرت نوح کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔انہوں نے سجدہ ریز ہو کر اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی غلطی کااعتراف کیا۔انہوں نے اللہ جل شانہ سے مغفرت اور رحمت طلب کی اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور مثبت جواب ملا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح اور دوٹوکفیصلہ دے دیاکہ تیرا بیٹااہل میں سے نہیں اور پورا کنبہ نجات یافتہ نہیں ہے بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جن پر خدا کا فیصلہ اٹل ہوچکاہے۔الامن سبق القول چونکہ حضرت نوح علیہ السلام کو معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی بیوی بھی اپنے کافرانہ عقائد واعمال کی بنا پر کافرہ ہی ہے اور وہ توحید کی آواز پر کبھی بھی لبیک نہیں کہے گی انہوں نئ اپنی بیوی کے لئے نہیں بلکہ بیٹے کے لئے جان بخشی کے لئے استدعاکی۔لیکن اللہ جل شانہ کو اپنے جلیل القدر پیغمبر کا یہ قیاس پسند نہ آیااور ان کو تنبیہ کی۔جوہستی خدا کی وحی سے ہر وقت مستفیہ ہوتی رہتی پے اور نبی کے درجہ عظمٰی پر فائز ہے اسے یہ ناچاہئے جزبہ،پدری میں آکر یہ بھول جائے کہ وحی الہی کا انتظار کئے بغیر خؤد ہی قیاس آرائی کرکے انجام کافیصلہ کر بیٹھے ،حالانکہ وعدہ نجات صرف مومنین کےلئے مخصوص ہے اور کنعان کافروں کے ساتھ کافر ہیرہے گا۔بلاشبہ تمہارا اس قسم کا سوال منصب رسالت کے شایان شان نہیں ۔یہاں اللہ تعالیٰ نے کتنی سادگی سے یہ بات سمجھا دی ہے۔وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہوگا چاہے اس کا کتنا ہی قریبی رشتہ نہ ہو۔اس کے لئے معافی نہیں ہے۔سزا اس کامقدر ہے۔اس میں کوئی رعایت نہیں اور نبی کو بھی اجازت نہیں کی اس سےرشتہ جوڑے یا اللہ تعالٰی کے دربار میں اس مشرک اور کافر رشتہ چاہے وہ اس کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو دعا فرمائے۔

حضرت نوح علیہ السلام سے خدائے تعالٰی نےاپنے فرمان میں جتا دیا ک9ہ حقیقت کا مشاہدہ کرو۔اور اللہ کی اس تنبیہ کو حضرت نوح علیہ السلام نے شدت سے محسوس کیا اور اپنی بشریت اور عبودیت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ مغفرت کے طالب ہوئے اور خدا کی سلامتی اور برکت حاصل کر کے شاد کام و باامراد بنے،پس یہ سوال نہ معصیت کا سوال تھا اور نہ ہی انبیائے اکرام کی عصمت وعظمت کے منافی تھا۔اس لئے اللہ تعالٰی اس اپنے خطاب میں نادانی سے تعبیر فرمایا اور اسی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام پر یہ حقیقت آیئنے کی طرح سامنے آگئی کہ وعدہ نجات کا مقصد نسل وخاندان سے نہیں بلکہ ایمان باللہ یعنی خدائےوحدہ لاشریک پر ایمان لانا ہے۔اس لئے انہوں نے بیٹے کو دعوت حق دی کہ وہ مسلمان ہو کر نجات الہیسے بہرہ ور ہو۔مگر بدبخت بیٹے نےدعوت حق کق ٹھکرادیااور کہا کہ اے باپ مجھے تیرنا آتا ہےمیں جلدی ہی کسی پہاڑ تک پہنچ جاؤں گااور میں اس پر چڑھ جاؤں گا اور وہ میری جان بچالے گا۔

جیسا کہ ارشاد بانی ہے ترجمعہ :میں بہت جلد کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ مجھے غرقابی سے بچالے گا۔

اس بدبخت نے نبی کا بیٹاہونے کے باوجود دعوت حق کو علی اعلان سے ٹھکرا دیااور رب کریم کی حقانیت اور توحید سے منہ پھیر کر پہاڑ میں پناہ لینےکی سوچی اللہ تعالیٰ کا منکر ہوا اور پہاڑسے پناہ لینے لے لئےتیرنے لگا۔

حضرت نوحؑ کی پکار کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔پھر حضرت نوح علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک پہاڑ جیسی موج اٹھی اور کنعان کو لپٹ میں لے گئ اور نافرمان منکر بیٹا پانی میں ڈوب گیا۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہوا کہ آج کوئی نہیں بچ سکے گا مگر جس پر اس کا کرم ہوجائے لیکن نافرمانوں اور مشرکوں سے اللہ تعالٰی سختبیزار ہے۔سواللہ تعالٰی نے اس عبرت ناک سزادی اور وہ قہر الہٰی سے غرق ہو گیا۔

اللہ تبارک وتعالٰی نے حضرت نوحؑپر ئی حقیقت واضح کردی کہ وعدہ نجات کامقصد نسل وخاندان نہیں ہے بلکہ ایمان باللہ ہے۔

کشتی کی روانگی

حضرت نوح علیہ السلام نے حکم الہی اور معشیت الہی پر سر تسلیم خم کردیا اور بسم اللہ پڑھ کر کشتی کو کہا حکم ربی سے تیرنا شروع کر۔کشتی پانی پر رواں دواں ہوگئی۔

چالیس دن تک مسلسل پانی برستا رہا۔آسمان کے دہانے کھل رہے اور زمین بھی پانی اگلتی رہی۔کشتی تیرتی رہی اور تمام جنگلاور پہاڑ پانی میں ڈوب گئے۔وہ چالیس افراد جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اللہ کو یاد کرتے رہتے اور توبہ استغفار میں مصروف رہے آخر کار چالیس روز بعد بارش تھم گئاو رکشتی کی تیرتے تیرتے آہستہ آہستہ ہونی شروع ہوگئی

کوہ جودی

غرض جب حکم الہٰی سے عزاب ختم ہوا تو سفینہ نوح آہستہ آہستہ تیرتاہوا کوہ جودی پر پہنچ کر تھم گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ قوم ظالمین کےلئے ہلاکت ہے۔

تو راۃمیں جودی کواراراط کے پہاڑون میں بتایا گیاہے۔اراراط درحقیقت جزیرہ کانام ہے یعنی اس علاقہ کانام جو فرات اور دجلہ کے درمیان دیار بکر تک مسلسل چلا گیا ہے۔

پانی آہستہ آہستہ خشک ہونا شروع ہوگیا اور ساکنان سفینہ نوح علیہ السلام نےخدا کا شکر ادا کیا ۔اسی وجہ سے مغفرت نوح علیہ السلام کا لقب ابوالبشر یاآدم ثانی( یعنی انسانوں کا دوسرا باپ)مشہور ہوآ۔اور غالبا اسی اعتبار سے حدیث میں ان کو اول الرشل کہا گیا ہے۔

چالیس دن رات پانی برسنے کے بعد تھم گیا ۔پھر آہستہ آہستہ اترنے لگا۔پہاڑ نظر آنے لگےاور پھر زمین خشک ہوگی۔اب حضرت نوح نے زمین کا حوال معلوم کرنا ضروری سمجھا ۔وہ کشتی کے عرشے پر آئے اور انہوں نے کسی پرندے کو بھیجا کہ دور دور تک اڑتا ہواجائے اور زمین کی خبر لائے کہ کہاں کہاں تک ابھی پانی خشک نہیں ہوا ۔وہ پرندہ فضائے بسیط میں اڑتا رہا۔پھر ایسا گیا کہ واپس نہ آیا۔حضرت نوح نے بہت دیر تک انتظار فرمایا اور کشتی سے کبوتر کوبھیجا۔

کشتی کا قیام

اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت نوح علیہ السلام نےایک کبوتر کو زمین کا حال معلوم کرنے بھیجا۔وہ آسمان کی فضاؤں میں چکراتا رہا اور پھر کئی خشک وتر اپنے پنجوں سے لگا کر واپس آیااس سے حضرت نوح علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ زمین خشک ہوچکی ہے کہ کبوتر کے پر گیلےنہیں تھے

حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے لئے دعا فرمائی کہ پوری مخلوق اسے پیار کرے اسی وقت حضرت جبرائیل تشریف لائے اور پانی کو سات سمندروں کی شکل دیدی اورزمین پر پانی کو دریاؤں اور نالوں کی شکل میں رواں دواں فرمادیا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی پر سے تمام مسافر اتارلئے ۔اس وقت حکم آیا اے نوح اور پودوں کی تمام جڑیں اور بیج زمین پر پھیلادے تاکہ وہ بار آور ہوسکیں۔

حضرت نوح علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اور تمام بیج پودے اور درختوں کے پھل پھولوں اور پودوں کے بیج اور جڑیں زمین میں بوڈالیں لیکن انگور کی جڑ نہ ملی۔

آپ نے اللہ سے عرض کی تب حکم باری ہوا کہ اے نبی اللہ انگور کی جڑ شیطان العین نے چرالی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام نے شیطان العین کو بلایااور انگوری کی بیل مانگی۔شیطان نے انکار کیا کہ میں نے انگور کی بیل نہیں چرائی۔اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالٰی نے خبر دی ہے کہ انگور کی بیل تونے ہی چرائی ہے۔یہ سن کر شیطان مان گیا۔کہ ہاں بیل میں نے ہی چرائی ہے لیکن اس نے کہاکہ ایک شرط ٌپر انگور کی جڑ واپس کروں گا۔حضرت نوح نے کہابول لعین مردود کیا کہتا ہے شیطان لعین نے کہا شرط یہ ہے کہ تم انگورکی جڑ بودوگے اور میں خود پانی دوں گا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے شیطان پر لعنت فرمائی اور کہا اے لعین دن میں ایک بار میں دیا کروں گااور باقی تین دفعہ تجھےاجازت ہے۔

شیطان لعین کی چالاکی

شیطان لعین یہ بات مان لی اور انگور کی جڑ واپس لے آیا۔حضرت نوحؑ نے انگور کی جڑزمین میں بوڈالی اور اس میں پانی دیا۔لیکن شیطان لعین نےاپنی باری پر پہلی دفعہ جڑمیں لومڑی کاخون ڈالا دوسری دفعہ شیر کا خون ڈالااورتیسری بار سور کاخون ڈالا اسی وجہ سے انگور کی مٹھاس حضرت نوح کے پانی کی وجہ سے ہے۔لومڑی کا خون کی وجہ سےشرابیوں کی حالت اور مزاج پہلے لومڑی جیسی ہوتی ہے پھر اس کا مزاج شیر جیسا ہوجاتا ہے۔اور پھر آخر میں اس کا مزاج اور طبیعت سور جیسی بے حیا ہوجاتی ہے اس کی حالت سور جیسی ہوجاتی اور یہ سب شیطانی کام ہیں۔

ایک دن ابلیس لعین نےحضرت نوح علیہ السلام سے کہا اے شیخ الانبیاءمجھ پر تیراایک احسان ہے اس کے بدلے میں مانگ کیا مانگتا ہے۔حضرت نوح نے فرمایااے ملعون!تومیرے کس فعل پر اتنا خوش ہے کہ خوشی سے پھولانہیں سمارہا۔شیطان بولا۔اے شیخ الاانبیاءتونے اپنی بددعاسے اللہ کے عزاب کو دعوت دی اور ہزاروں کافر جو گمراہی کے پیروکار تھے۔ہلاک ہوگئے اور وہ سب دعزخ میں میرے ساتھ رہیں گےاس سے بڑا احسان اور کیا ہوگا۔حضرت نوح شیطان کی یہ بات سن کر بہت غمزدہ اور کئی بس تک روتے رہے اور توبہ استغفارپڑھتے رہے۔حضرت نوح علیہ السلام نےشیطان مردود پرلعنت فرمائی اور پوچھا اے ملعون وہ کون سا ایسا فعل ہے جس کی وجہ سے اولاد آدم دوزخ میں جائے گی ۔شیطان لعین نے کہا پانچ ایسی چیزیں ہیں جن کے باعث اولاد آدم جہنم کاایندھن بنے گی۔1۔حسد 2۔حرص 3۔تکبر 4۔بخل اور پانچواں شرک ۔

حۓسد ایسا فعل ہے جس میں انسان دوسرے انسان کی اچھی حالت،اولاد،مال اور دولت سے جلتا اور کڑھتا ہے اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا اور دوسروں کے مال پر نظررکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرے کامال بغیر کسی محنت اور مشقت کے اس کے قبضہ میں آجائے۔یا پھر وہ یہ سوچتا ہےکہ اس شخص کے پاس یہ کیوں ہے اور کیسے چھینا جاسکتا ہے۔پھر شیطان اس کے حسد میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے اور وہ اس حد تک چلاجاتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی زندگی لینے تک سے دریغ نہیں کرتا۔

جیسا کہ حضرت آدم کے دو بیٹوں میں حسداوربغض کی وجہسے ہی جنگ شروع ہوئی کہ ہابیل اور قابیل جوان ہوئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے ۔اور حکم ربی حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالٰی نے آپ پر سلام بیھجاہے۔فرمایا ہے کہ دو بھائیوں کودونوں بہنوں یعنی قابیل کی بہن کوہابیل کے ساتھ اور ہابیل کی بہن کوقابیل کے ساتھ شادی کردو۔حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں بیٹوں کوبلایا اورحکم ربی کہہ سنایا یہ بات سن کر قابیل بہت بگڑا اور کہنے لگا کہ میری بہن اقلیمہ بہت خوبصورت ہے میں اس کو نہیں دوں گا۔آدم علیہ السلام نے فرمایا اے قابیل یہ حکم ربی ہے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔اس پر بھی قابیل نہ مانا اور انکار کرتا رہا اس نے حضرت آدم علیہ السلام پر الزام لگایا کہ اے باپ تم مجھ سے زیادہ ہابیل کوعزیز رکھتے ہواور اسے ہر بات میں ترجیح دیتے ہو۔اسی لئے تم چاہتے ہوں کہ اقلیمہ کی شادی ہابیل سےہو۔حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کی غلط فہمی دور کرنا چاہی لیکن اس نے ایک نہ سنی اس پر حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل کی شادی قابیل کی بہن سے اور قابیل کی شادی ہابیل سئ کردی اور اللہ کے حکمپورا کردیا۔حسد کے مارے ہوئے قابیل نے ہابیل سے کہااے ہابیل تو میری بہن اقلیمہ کوچھوڑ دے کہ میں اس کو اپنی خدمت میں رکھوں گا۔ہابیل نے نرمی سے کہا اے بھائی۔ہمارے والد نے جوکچھ بھی کیا اللہ کے حکم سے کیا لہ یہی حکم تھا۔اب قلیمہ میری بیوی ہے میری عزت آبرو ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔اور میں اپنے والد کا حکم بجارکھوں گا۔اور اللہ کے حکم کی پیروی کروں گا۔آدمؑ نے یہ جگھڑا سناتودونوں کوبڑے پیار سے سمجھایا کہ یوں کرو کہ دونوں بھائی وہ کومناپر دو قربانیاں کرکے رکھ دو۔جس کی قربانی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔اقلیمہ اس کی بیوی ہوگی۔اس پر دونوں بھائیوں نے بکریاں لاغر اور کمزور ذبح کر کے کوہ منا پر رکھ دیں۔دونوں کی قربانیاں پہاڑ پر رکھیں رہیں اور پھر دونوں بھائیوں نے دعا مانگی اے رب جلیل ہماری قربانی کو منظور فرما۔تبھی آسمان سے بجلی اتری اور ہابیل کی قربانی جلا کر راکھ کردی اور غائب ہوگئی۔اس پر قابیل حسد کے مارےجل بھن کر بولا،اے ہابیل میں اپنے ارادے کا پکا ہوں۔تجھ کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔کہ تیری قربانی قبول ہوئی ۔تو اپنے باپ کی وجہ سے سب کو پیاراہوگیا۔ہابیل بولا!اے بھائی اتنا دکھ نہ کر اور اللہ سے ڈر کہ اللہ پرہیزگاروں کی قربانیاں قبول فرماتا ہے۔اگر تو مجھ پر ہاتھ چلائے گا ۔تو میں کچھ نہیں کہوں گا اور نہ ہی تجھ پر ہاتھ اٹھاؤں گا۔کہ میں اللہ رب العزت سے ڈرتا ہوں۔جو سارے جہانوں کو مالک ہے۔کوہ منا اب حاجیوں کی منا جات ہے جہاں اب تک قربانی ہوتی ہے۔آدم کے زمانے میں کوہ منا پر قربانی رکھ دی جاتی تھی۔غیب سے آگ آسمان سے اترتی اور قربانی جلا کر غائب ہوجاتی تھی اس سے معلوم ہوجاتا تھا کہ قربانی قبول ہوگئی ہے۔

مختلف ادوار میں یہ نشانیاں الگ الگ تھیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں کشتی تھی کہ جھوٹ اوت سچ معلوم کرنا ہوتا جو شخص اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنی سچائی ثابت کرنے کا دعوٰی کرتا اگر وہ جھوٹاہوتا تو کشتی ہلناشروع ہوجاتی تھی،اور اگر وہ شخص سچا ہوتا تو وہ کشتی نہیں ہلتی تھی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں پیمانے کا ایک برتن تھا۔جو اس پرہاتھ رکھتا سچا ہوتاتو آواز نہ نکلتی اگر وہ جھوٹا ہوتا تو برتن سے آواز نکلتی تھی۔

اور حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ایک زنجیر تھی۔آسمان سے لکتی ہوتی جو سچاہوتا یہ زنجیراس کے ہاتھ میں آجاتی جو جھوٹا ہوتاتو زنجیر دور چلی جاتی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں ایک سوراخ تھا جس میں اگر سچا آدمی پاؤں ڈالتا تو وہ باہر نْکل آتا تھالیکن اگر جھوٹا آدمی پاؤں ڈالتاتو اس میں پھنس جاتا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلامکے زمانے میں ایک لوہے کا قلم تھا۔قلم پر نام لکھ پانی میں ڈال دیتے تھے۔سچا ہوتا تو قلم تیرتا رہتا تھا اور اگر جھوٹا  ہوتا تو قلم ڈوب جایا کرتا تھا۔

جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کا زمانہ آیا تو اللہ تبارک وتعالٰی نےتمام غیبی نشانیاں ،منسوخ کر دیں اور گواہیاں مقرر کردیں۔اور فیصلہ گواہوں کی گواہی پر چھوڑ دیا۔

ہابیل اور قابیل دونوں ایک مرتبہ پھر باپ کے پاس آئے اور ماجرا کہہ سنایا۔اس پر آدم علیہ السلام نے فرمایا اے قابیل!تیری بہن اقلیمہ اب ہابیل کی زوجہ ہے اور اس پر حلال ہے اور تجھ پر حرام ہے۔لیکن حسد کا مارا قابیل موقع کی تلاش میں رہا۔ایک دن قابیل نے ہابیل سے کہا کہ میں تجھے مار ڈالوں گا۔اس واسطے کہ تیرے بیٹے میری بیٹیوں سے کہیں گے کہ تمہارے باپ کی قربانی قبول نہیں ہوئی اور ہمارے باپ کی قربانی بارگاہ ایزدی میں قبول ہوگئی۔ابیل نے دست بستہ بھائی سے کہا اے بھائی تک مجھے ناحق ماروگے۔اگر خدا نے تمہاری قربانی قبول نہیں کی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟اللہ خالق ومالک ہے،عدل کرنے والا ہے۔اگر تو مجھے مارنے پر ہی تلاہوا ہےتو میں تجھے نہیں ماروں گا بھائی چارے کے تقاضے پورے کروں گا۔مگر روز حشر اللہ تجھ سے مرے خون ناحق کا حساب ضرور کرے گا۔اور تو دوزخ میں جائے گا۔اس لئے اس قبیح ارادے سے بازآجا۔لیکن قابیل کے دل میں قتل کا ارادہ ٹھوس جگہ پاچکا تھا۔وہ موقع کی تلاش میں رہا۔ایک دن حضرت آدم علیہ السلام کی عدم موجودگی میں قابیل نے دیکھا کہ ہابیل سورہا ہے اور سوچنے لگا کہ ہابیل کو کیسے قتل کروں۔اسی وقت شیطان لعین ایک سانپ لے کر حاضر ہوااور سانپ کا سرکچل ڈالا اور غائب ہوگیا۔قابیل نے کچلے ہوئے سانپ کودیکھا اور سوچا کہ ہابیل کو بھی اسی طرح مار ڈالنا چاہئے۔سو اس نے ایسا ہی کہ سوتے ہوئے ہابیل کے سرپر ایک بھاری پتھر دے مارا۔ہابیل کا سر کچلا گیااور تڑپتا ہواجان ہار گیا۔یہ سب کچھ حسد کی وجہ سے ہوا۔

حرص

حرص کے معنی لالچ کے ہیں ۔حرص بھی ایک لعنت ہے جس سے چھٹکارا ممکن نہیں۔لیکن اللہ جو چاہے۔حرص انسان کو ایسے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔جس میں سوائے ذلالت کے کچھ نہیں ہوتا۔انسان زیادہ اورزیادہ کرتا رہتا ہے۔اس کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب اس کا آخری وقت آپہنچا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں قارون نامی ایک شخص کو کیمیا کا نسخہ ہاتھ آگیا وہ گھر میں بیٹھ کر چپکے چپکے سونا بناتا رہا۔جب دولت آئی تو اس کی حرص او ر طمع بڑھ گئی اس نے اللہ کے نام صدقہ اور خیرات دینا بند کردیا۔قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا۔اس نےبے انتہا دولت جمع کرلی تو وہ تکبر اور غرور میں آگیاوہ اللہ کی نافرمانی پر اترآیا۔اسی وجہ سے وہ کافر قرار پایا۔دولت پاکروہ اللہ کو بھول گیا اور کہنےلگا۔کہ وہ دولت مجھے میری عقل اور ہنر کے بدلہ میں ملی ہے۔اللہ کا حصہ اس میں کوئی نہیں۔اسے اللہ کے غضب سے ڈرایا،لیکن وہ نصیحتوں کامزاق اڑاتا رہااوراس کی حرصروز بروز بڑھتی چلی گئی وہ باغی ہوگیا۔پھر اس نے ایک علیشان محل بنوایاکہ اس کی اونچائی اسی گز تھی۔اور اس پر بڑے بڑے کنگرے بنائے گئے تھے۔وہ محل بہت خوبصورت تھا۔

پھر قارون نے بنی اسرائیل کی اس محل میں دعوت کی اس پر بنی اسرائیل دوگروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ایک گروہ حضرت موسیٰ کی اطاعت گزاری اورفرمانبرداری میں رہا اور دوسرااگر وہ قارون کے ساتھ فسق وفجور میں مبتلا ہوگیا۔ایک دن قارون نے اپنی بیوی کو فاخرانہ لباس پہنایا۔اسے آراستہ پیراستہ کرایا اور ہزاروں لونڈیوں اور غلاموں کو بھی اس نے خوبصورت لباس اور گہنے پہنائےاور شان وشوکت کے ساتھ سیر کو نکلا ارشادبانی ہے۔ترجمعہ:پس نکلا قارون اپنی قوت کے ساتھ آرائش کر کے اور بہت بڑی تیاری کے ساتھ

اس کے سر پر جوہرات جڑا سونے کاتاج رکھا ہوا تھا۔اس کے دائیں بائیں مسلح غلام زرق برق لباس فاخرانہ پہنے چل رہے تھے۔دیکھنے والوں کے دل میں بھی حرص پیدا ہوئی اور وہ ٹھنڈی سانس بھرکر کہنے لگے۔ہائےبدقسمتی کہ ہمیں اتنی دولت کیوں نہ ملی۔حضرت موسیٰ کواللہ کا حکم ہوا کہ قارون کو ہدایت کرے کہ اپنے مال ودولت سے زکوٰۃ اداکرے۔اس حساب سے ادا کرے کہ ایک ہزار دینارمیں ایک ہزار دینار فقراءاورمساکین کودیدے اگر نہ دبے تو وہ مغفوب ہوگا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون سے ایسے ہی کہا۔قارون نے اپنے مال کا حساب لگایا تو ایک دینار فی ہزار کے حساب سے زکوٰۃکا بہت سا روپیہ اسکے ذمہ نکلتا تھا۔یہ معلوم کرکے اس کے دل میں حرص جاگ اٹھی کہ اتنا روپیہ میں کیوں دوں۔بولا کہ میں زکوٰۃدوں یانہ دوں تمہارا کیا واسطہ ہے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔اے قارون!کیمیا گری سے سونےچاندی کے ظروف بنانے میں جتنے ریزےگرے ہیں۔اتنامال فقراء اور مساکین کو دے ڈال تب بھی تیری زکوٰۃہوجائے گی۔اس پر قارون نے کہا اگر میں ادا کروں تو تیرا خدا مجھ اس پر کیا دے گا۔حضرت موسٰی علیہ السلام نے کہا اس نیکی کے سبب تجھ کو جنت ملے گی۔وہ مردود بولامجھے جنت سے کیا کام میں زکوٰۃادا نہیں کروں گا۔ایک دن اس نے خوب سوچا،سمجھااورچاہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائے اور شرمندہ کرے اس نے ایک قیامت خوبصورت کوورغلایااور لالچ دیا کہ ہزاروں اشرفیاں لباس اعلٰی سے اعلیٰ دوں گا۔اس نے عورت سے کہا جب لوگ کہیں اکھٹے ہوں تو،تو چلاچلا کر کہہ دینا کہ موسیٰ علیہ السلام سے (نعوذباللہ)مرے جنسی تعلقات ہیں،اور وہ مرایار ہے۔اس کام کووہ مدت سے کررہا ہے۔(استغفراللہ)

پس قارون کے کہنے میں اور ورغلانے میں حرص کی ماری عورت نے قارون کہنا مان لیا۔قارون نے اس کو بہت سی اشرفیاں مال ودولت اورزیورات دے کر رخصت کردیا۔ایک دن حضرت موسٰی علیہ السلام اپنے ممبر پر بیٹھےوعظ کررہے تھے۔ان کے گرد بنی اسرائیل بیٹھے وعظ سن رہے تھے کہ فاحشہ عورت وہاں پہنچ گئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حلال وحرام کی باتیں بتارہے تھے۔اور یہ بھی بتارہے تھے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃاللہ کی راہ میں نہ دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عزاب میں گرفتار کرے گا۔اس کے مال کا مواخذہ کرے گا۔جو زنا کرے گا اس کو سنگسار کردینا گا۔وہ وعظ کررہے تھےکہ قارون وہاں پہنچا اور موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا اے موسیٰ علیہ السلام !اگر تم نے زنا کیا ہوگا تو تمہاری کیا سزا ہے۔اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا اگر ایسا ثابت ہوجائے تو مری سزا بھی سنگسار ہی ہے ۔اس پر قارون بولا۔تو نے زنا کیا ہےکہ گواہ موجود ہے،اللہ تعالٰی کی لعنت پڑی۔ارشاد باری تعالٰی ہے۔(اے لوگو جو ایمان لائےہومت مانند ان لوگوں کےکہ جنہوں نے ایذادی حضرت ،موسیٰ علیہ السلام کو اس چیز سے جو وہ کہتےتھے۔اور وہ تو اللہ کے نزدیک بڑا آبرو والا تھا۔اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو۔اور بات ہمیشہ سیدھی کیا کرو۔اس طرح وہ فاحشہ عورت محفل میں آگئی قارون نے کہا اے اہل مجلس موسیٰ علیہ السلام نےاس عورت سے بدفعلی کی ہے۔عورت سے کہا اے عورت تمام روبرو مجلس بیان کر۔اس عورت نے چاہا کہ جھوٹ کہہ دے لیکن پھر اس کے دل پر خدا کاخوف طاری ہوا۔وہ بولی۔اے لوگو!موسیٰ علیہ السلام ایک پاکیزہ اور نیک مردہے۔اور قارون ایک جھوٹااورلعنتی شخص ہے۔یہ جو کہتا ہے جھوٹ اور فریب ہے۔میں اللہ کے غضب سے ڈرتی یوں اور ہرگز جھوٹ نہیں کہتی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام عورت کی یہ بات سن کر غوش کھاگئے اور ممنبر پر سے گر پڑے۔حضرت جبرائیل نے آکر انہیں تسلی دی اور فرمایا اے موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے تابع کیا ہے۔اب تم قارون کو جو جی آئے سزادو۔یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون سے کہا:اے قارون!تم ھجوٹ مت بولو الزام مت لگاؤ اور نہ ہی تہمت لگاؤاور خداوندقدوس سے ہمہ وقت ڈرتے رہو۔قارون مردود نے جواب دیا کہ اے موسیٰ علیہ السلام میں ہر گز تیری بات نہیں مانوں گا ۔یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلامن نے اپنا عصارزمین پر مارااور کہا اے زمیں تو اس مردود سرکش کو اپنے اندر دبالے۔یہ حکم سنتے ہی زمین نے اس غلاموں اور ساتھیوں کوٹخنوں تک دبالیا۔اس پر تمام لوگ فریاد کرنے لگے اور رونے چلانے لگے قارون کہنے لگا:اے موسیٰ علیہ السلام مجھ کو اس عزاب سے نکال لے کہ آئندہ ایسی کوئی بات کریں گے۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ اے زمین ان کو توزانوں تک دبالے۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ اس مردود نے ستر مرتبہ معافی مانگی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معاف نہ کیااور زمین نے اس گلے تک دبالیا۔اس پر قارون نے کہااےموسیٰ علیہ السلام تو ہمارے مال وزرپر دانت جمائے بیٹھا ہے۔اس پر جبرائیل علیہ السلام تمام مال ودولت قارون کالے آئےاور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رکھ دیا۔اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا اے زمین قارون کو اس کی دولت سمیت دبا دے۔زمین نے اس کے تمام خزانے مال ودولت املاک زمین میں دبالے اور تمام خزانوں سمیت قارون زمین میں دفن ہوگیااس کی حرص اور طمع اس کے کام نہ آئی۔ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا اور صبر سے کرنا چاہئے کہ دنیا کامال دن دنیا میں ہی رہ جاتاہے۔حرص اور طمع سے کچھ نہیں بنتا۔

تکبر

اللہ تعالیٰ تکبر اور غرورقطعی پسند نہیں کرتا کہ تکبر کی وجہ سے ہی عزازیل جوکہ نہایت عبادت گذار تھا۔راندہ درگاہ اور شیطان لعین بن گیا۔اس کے علاوہ ذرا سے کلمہ تکبر کی وجہ سے اللہ کے نبیوں پر بھی امتحان آگئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک دفعہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے اپنا چہرہ مبارک دیکھ رہے تھے کہ دل میں خیال آیا کہ دنیا میرے میں جیسا خوبصورت کوئی ہوگا۔یہ خیال آیا۔تو اللہ نے آپ پر آزمائش ڈال دی اور آپؑ اپنے گھر بار سےبچھڑگئے اور مصر کے بازارمیں غلام بنا کر بیچ ڈالے گئے اور عزیز مصر نے اپنا غلام بنالیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک ملک فتح کیااور اس ملک کی شہزادی سے شادی کرلی اس روز آپؑ نے فرمایا کہ آج میں اپنی سوبیوں کے پاس جاؤں گا اور سب بیبیوں سے بیٹے پیدا ہوں گے۔وہ ساتھ انشاءاللہ کہنا بھول گئے اس پر اللہ تعالی نے آزمائش میں ڈال دیا۔بادشاہت چھن گئی اورحضرت سلیمان پریشان ہوگئے۔آخرکارتوبہ استغفار کاورد روتے رہنے سے ایک بار پھر شان وشوکت بحال ہوئی۔

بخل

بخل کا مطلب ہے کنجوسی،جوشخص اللہ کے دیے ہوئے مال ودولت پر سانپ بن کر بیٹھا رہتا ہےاور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔اس کی بخیلی پر اس کو دنیا میں بھی لعنت ملتی ہے اورآخرت میں بھی اس کی دولت اس کے لئےلعنت ثابت ہوگی۔

ہلا کرخان ایک جلادصفت تاتاری گذار ہے۔اس نے مسلمانوں کے شہربغداد پر قبضہ کرلیا،اور پودے بغداد میں آگ لگوادی۔عمائدین شہر اور وزرائے سلطنت کو آٹھ دن بعد دستر خوان سجایا۔پیٹ سے بھوکے وزراءاور امراءاور خلیفہ اکھٹے بیٹھے بھوک سے بلبلا رہے تھےان کے سامنے دسترخوان بچھا تھا لیکن کھانے کو کچھ نہ تھا۔آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور دسترخوان پرڈھکے ہوئےقاب لائےجانے لگےسب قاب دسترخوان پررکھ دیئے گئے تو ہلاکو خان اندر آیااور اس نے حکم دیا کھانا شروع کرو۔بھوکے امراءاوروزراءاورخلیفہ نے جونہی قابو کے سرپوش اٹھائے تو ان قابوں میں کھانےکی بجائے موتی،جواہر،اشرفیاں اور سونے کی اینٹیں رکھی تھیں۔ہلا کونے حکم دیا کھاؤ۔

خلیفہ نے ہمت سے کہا یہ بھلا کوئی کھانے کی چیز ہے۔ہلا کونے کہا توپھرہیرے جواہرجمع رکھنے اور بخیل بننے سے کیا فائدہ تھا۔اگر یہی ہیرے جواہر تم قوم پر خرچ کرتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔

شرک

اللہ کے نزدیک انسان کاسب سے بدترین فعل شرک ہےجس کی معافی نہیں ملتی حدیث شریف میں آیا ہے کہ سارے گناہ معاف کردئیے جائیں گے حتٰی کہ چوری اور زنا بھی لیکن شرک کسی صورت میں معافی نہیں کیا جائے گا۔

اللہ کی ذات صفات میں کسی کو شامل کرنا،کسی حاجت روا ماننا کسی اور ہستی کی پوجا کرنا شرک ہے۔اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے فرمایا کہ شرک ایسا گناہ ہے جس کی معافی ممکن ہی نہیں۔صحابہ رض نے فرمایا کہ یانبی اللہ کیا چوری اور زنا بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں چوری اور زنا بھی معاف کردیئے جائیں گے۔آپ نے فرمایا ہاں چوری اور زنا بھی بخش دیئے جائیں گے لیکن شرک ہرگز معاف نہیں ہوگا۔اللہ تعالٰی نے شرک کی بخشش نہیں کرنی،ہمیں چاہیئے کہ ہم ہر وقت توبہ استغفار کرتے رہےاور شرک سے بچیں کہ وہ خالق ومالک ہے۔اس کے علاوہ کوئی دینے والا نہیں۔وہ زبردست حکمت والا ہے۔اس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل پاتا۔ہرچیز ہرشے،حجر،شجر،دریاپہاڑ،پانی،بجلی،جمادات،نباتات،انسان وجنات غرضیکہ ہرچیز جاندار یابےجان اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ہمیں صرف اسی کی بڑائیبیان کرنی چاہئے۔اس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں وہ خالق اور مالک ہے۔اللہ ہمیں شرک سے بچائے۔آمین

حضرت نوح علیہ السلام کا پودے لگانا

حضرت نوح علیہ السلام نے تمام پودوں کی آبیاری کے لئے جڑیں بودیں اور پانی دینا شروع کردیا۔کھتیاں لہلہانے لگیں اور درخت پودوں سے تناور درخت بن گئے،یہ ایک عجیب معاملہ ہے کہ انسان کو اپنے آئندہ آنے والے حالات کی قطعی خبر نہیں ہوتی اور انسان ڈرتارہتا ہے اور خوف محسوس کرتاہے۔بظاہریہ بات کتنی مضحکہ خیز ہی ہوگی کہ جب نوح علیہ السلام دریا سے بہت دور خشکی پر جہاز بنارہے ہوں گے تو لوگ ہنس ہنس کر کہتے ہوں گے کہ بڑے میاں کی دیوانگی آخر یہاں تک آپہنچی کہ اب آپ خشکی میں جہاز چلائیں گے اس وقت تک کسی کے خواب وخیال میں یہ نہ ہوگا کہ چند روز بعد واقعی یہاں جہاز چلے گا وہ لوگ اس فعل کو حضرت نوح علیہ السلام کی خرابی دماغ کا ایک واضح ثبوت اور دلیل دیتے ہوں گے اور ایک ایک سے کہتے ہوں گے یہدیکھ لوکہ یہ شخص کیا حرکت کررہا ہے۔لیکن جو شخص حقیقت کا علم رکھتا تھا اور جسے معلوم تھاکہ کل یہاں جہاز کی کیا ضرورت پیش آنے والی ہے انہیں ان کی جہالت اور بے خبری پر اور ان کے احمقانہ خبالات پر خود ہنسی آرہی ہوگی

اور وہ کہتا ہوگا کہ کس قدر نادان ہیں کہ شامت ان کے سروں پر تلی کھڑی ہے اور میں انہیں خبردار کرچکا ہوں اور وہ آیا ہی چاہتی ہے اور میں ان کی آنکھوں کے سامنے اس مصیبت سے بچنے کی کوشش کر رہاہوں مگر مطمئن بیٹھے ہیں اور مجھے ہی دیوانہ کہہ رہے ہیں۔

ظاہر ہے جس چیز کو آدمی انتہائی دانشمندی سمجھتا ہے وہ حقیقت شناس آدمی کی نگاہ میں انتہائی بے وقوفی ہوتی ہے اور ظاہر بیس کے نزدیک جو چیز بالکل لغوسراسردیوانگی اور نرامضحکہ خیز ہوتی ہے حقیقت شناس کے نزدیک وہی کمال دانش،انتہائی سنجیدگی اور عین منصفائے عقل ہوتی ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کشتی بنا چکے اور حکم ہوا کہ تم اے نوح اپنے گھر والوں کو کشتی میں بٹھالو لیکن آپ کی بیوی اور بیٹا چونکہ کافر تھے،کشتی میں نہ بیٹھے اصل میں مومن کی شان ہے کہ وہ ساری تدابیر قانون فطرت کے مطابق اسی طرح اختیار کرتا ہے اس کو بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے۔کہ اس تدابیر تو ٹھیک شروع ہوئی جب تک اللہ کی مدد حال شروع نہ ہو۔کشتی جودی پہاڑ پرٹھہرگئی یہ پہاڑ کوہ اراراط کے علاوہ جزیرہ فطرات اور دجلہ کئ مشرق میں واقع ہے۔بائبل میں اس جگہ کا نام کوہ ازاراط ہے۔جوارمینیا کے ایک پہاڑ کا نام بھی ہے اور ایک سلسلہ کوہستان کے معنی ہیں۔جس کو ارادہ کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہوکر جنوب میں کروستان تک چلتا ہے۔جلیل الجوری اس سلسلے کا پہاڑ ہے،جو آج بھی جودی کے نام سے مشہور ہے۔کشتی نوح علیہ السلام کے ٹھہرنے کی جگہ قدیم تاریخوں میں بھی بتائی گئی ہے۔

چنانچہ مسیح سے ڈھائی سوبرس قبل پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بیراسس تیرانی کلدانی روایات کی بنارپر اپنے ملک کی جو تاریخ لکھی ہے۔اس میں کشتی نوح علیہ السلام کے ٹھہرنے کامقام جودی بتاتاہے۔ارسطو کا شاگرداسپڈنبوس بھی ابھی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے یہ طوفان جس کا ذکر یہاں کیاگیاہے عالمگیر طوفان تھا جوخاص علاقہ میں آیا تھا۔اس کا فیصلہ آج تک نہیں کیاگیاجس میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔اسرائیلی روایات کی بنا پر یہ عام خیال ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا۔مگر قرآن پاک میں یہ بات کہیں نہیں کہی گئی ہاں قرآن کے ارشادات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ نبی آدم کی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سےہے جوطوفان نوح علیہ السلام سے بچالئے گئے اور یہ بھی ثابت نہیں کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا۔

دجلہ فرات کی سرزمین میں ایک زبردست طوفان کا ثبوت تاریخی روایات سے آثار قدیمہ اور طبقات الارض سے  ملتا ہے لیکن ایک طوفان عظیم ی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں۔حتیٰ کہ آسٹریلیا امریکہ نیو گئی جیسے دوردراز علاقوں میں بھی اس کاذکر ملتاہے۔

طوفان ختم ہونے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے جودی پہاڑ پر مسجدتعمیر کرنے کا حکم فرمایا۔تمام جانور،چرند،پرند،کیڑے،مکوڑےدرندے شکیر،بکریاں سب زمین پر اپنا اپنا رزق تلاش کرنے کے لئے پھیلادیا۔جودی پہاڑپربستی میں مومن اورمومنات رہتے ہیں۔اس کے چند روز بعد آپ بیمار ہوگئے۔روایت ہے کہ طوفان کے بعد آدم علیہ السلام 60سال زندہ رہے اور تبلیغ میں مصروف رہے۔ان کی اولاد سام،حام اور یافث باقی رہیں۔چنانچہ پوری مخلوقات ارض ان تینوں بھائیوں کی اولاد سے ہے۔اہل عرب وعجم اور ہندو سام کی اولاد سے ہیں۔اہل حبس لکی اولادسے ہیں۔اہل ترکستان حضرت یافث کی نسل سے ہیں ۔روایت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام ایک روز سورہے تھے کہ ستر کھل گیا۔حام کی نظر پڑی تو وہ ہنس کر چپ ہورہا اور جب سام کی نظر پڑی تو اس نے کپڑااوڑھادیا۔جب حضرت نوح علیہ السلام خواب سے بیدار ہوئے تو ان دونوں کا ماجرا سنا اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے سام کو دعایئں دیں۔اسی واسطے ان کی اولاد پیغمبر ہوئی اور حام کو بددعادی اس سے اس کا منہ کالا اور تمام جسم بھی سیاہ ہوگیا۔بعض نے کہا ہے کہ حام نے سام کوبددعا دی تھی۔حضرت کی عمر میں بعض جگہ اختلافاتہے ایک روایت ہے آپؑ کی عمر شریف ایک ہزار بیس برس تھی اور تیسری روایت ہے کہ ےین ہزار سال برس تھی اور ایک روایت میں ہے کہ ساڑھے نوبرس تھی۔سورۃعنکبوت میں مذکور ہےکہ حضرت نوح علیہ السلام اس دارفانی سے رخصت فرمانے لگے تو فرشتوں نے پوچھا۔اے شیخ الانبیاء آپؑ نے دنیا کو کیسا دیکھا؟آپؑ نے فرمایا مجھے تو ایسا معلوم ہواکہ میں ایک دروازے سے نکل کر دوسرے دروازے باہے نکل آیا ہوں۔

واقعی دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی تمام زندگی جدوجہد مسلسل میں گذر جاتی ہے۔صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یونہی تمام ہوتی ہےاور دن پر رات اور رات پردن گذرتے چلے جاتے ہیں۔وقت گذرتے احساس ہی نہیں ہوتا۔

اولاد سام میں سےبعض نے کوفے میں اور بعض نے یمن وشام کے شہروں میں اور بعضوں نےمغرب میں جاکر شہر بسائے۔انہوں نےوہیں کی بودوباش اختیار کی۔اولاد حام ہندوستان میں آکر شہروں کو آباد کیا۔

ترکستان پذیر ہوئی اور وہاں بہت سے شہر نئے سے نئے آباد سب سے پہلے شیطان لعین نے ہندوستان میں ہی بت پرستی شروع کرائی۔لوگوں کو بت پرستی کی طرف راغب کیا سورج کو دیوتا بنایا گیا۔اس کی پرستش شروع کرادی۔پھر ترکستان جاپہنچا وہاں بھی لوگوں کو بت پرستیپر مائل کیا۔پھر ملک عرب جاکر لوگوں کو گمراہی کے راسطے پر لگایا۔

وہاں کے بادشاہ کا نام جرہم تھا اور تمام ملک اس کا مطیع تھا۔وہ سب تندرست وتوانا تھے۔تقریبا سات سو برس سے کوئی نہ مراتھا۔وہ سب موت کو بھول گئے تھے۔وہ سب کے سب جاہل مطلق تھے۔کوئی بھی اہل علم نہ تھا۔تہزیب وتمدن سے بالکل ناآشنا تھے۔ایک دن شیطان لعین نے پوچھا تم کس کی پوجا کرتے ہوان لوگوں نے کہا ہم کو نہیں پتا کہ ہمارے بزرگ کس کی پوجا کرتے تھے۔ہمیں نہیں معلوم ہم کس کی پوجا کریں۔تب شیطان لعین نے انہیں مختلیف اشیاء کی پوجا کرنا سکھایا۔مزہب کی تقسیم سکھادی۔اس نے مختلف اشکال میں بنواکر پوجا شروع کروادی۔طوفان نوح علیہ السلام کے بعد ساری دنیا تہہ وبالا ہوگئی۔پھر کشتی سے اترنے والے جوڑوں سے جوڑویاں بنتی گئیں۔آبادی بڑھتی گئی لوگ آپؑ کی رہنمائی حاصل کرتے رہے،اور مسلمان پھلتے چلے گئے۔شیطان لعین کو نوح علیہ السلام کو بڑھتا ہوااثر رسوخنہایت ناگوار گزررہاتھا۔اس نے آہستہ آہستہ لوگوں کو راہ مستقیم سے بھٹکانا شروع کردیا۔

حضرت نوح علیہ السلام طوان نوح علیہ السلام کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔آپؑ برابر تبلیغ اسلام کرتے رہے۔آپؑ کے بعد شیطان لعین کی کار گزاری پر لوگ اسلام سے برگشتہ ہوتے گئے۔پھر لوگوں نے غیر اللہ کی پوجا شروع کردی۔شیطان لعین اپنی چالوں پر کامیاب ہوگیا۔لوگ اللہ کے عزاب کو بھول گئے ۔دنیا میں کفر اور شرک کادور دورہ ہوگیا۔اس طرح قوم نوح علیہ السلام ایک بار پھر شرک اور لہوولعب میں ڈوب وہ شیطانی کاموں میں سرتاپا غرق ہوگئے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی کوشش ،محنت اور تگ ودوکا ذکر قرآن حکیم میں سورۃھود مٰں آٰیاہے۔ہھر حضرت نوح بھی آپ کے حق میں اتری ہے۔قرآن پاک میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ محض کہانی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد کفار کو تنبیہ کرنا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تم مکہ والو وہی رویہ اختیار کئے یوئے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم نے اختیار کیا تھا۔تم لوگ اگر اس رویہ سے باز نہ آئےتو تمہارا حشر بھی ان جیساہوگا۔حالانکہ صاف لفظوں مٰں قوم نوح کا حشر بتا دیا گیا اور وہ اسی لئے بتایاگیا کہ کفار اپنے رویےسے بازآجائیں۔حضرت نوح علیہ السلام مدت تک اپنی قوم کوپندونصائح کرتے رہے دعوت حق دیتے رہے ظلم اٹھاتے رہے لیکن قوم ہٹ دھرم رہی اور دعوت الحق کو ٹھکراتی رہی۔آخر جب بیوی اور بیٹے نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تو محسوس ہواکہ یہ قوم اب بالکل نہیں سدھرے گی۔ان کی سوچنے سمجھنے کی طاقت ختم ہوچکی ہے۔یہ سدھرنہیں سکتی پھر نوح علیہ السلام نے اپنے رب سے عرض کی کہ یارب العلمین میری قوم میری بات پوری طرح رد کرچکی ہے۔وہ میرے بس سے باہر ہوچکی ہے اب وقت آگیا ہے کہ تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردےیہ حضرت نوح علیہ السلام کی نوسوسالتک تبلیغ کا نتیجہ تھا۔بے صبری نہٰں تھی۔بلکہ صدیوں تک صبر آزما حالت میں تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کےبعد جب وہ اپنی قوم سے پوری طرح مایوس ہوں گئے تو انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ اب اس قوم کا راہ راست پر آنے کو کوئی امکان باقی نہیں رہا۔اس وقت نوح کی رائے ٹھیک ٹھیک اللہ تعالٰی کے اہنے فیصلہ کے مطابق تھی۔

اے نوح تو ہماری حفاظت میں ہماری وحی کے مطابق سفینہ تیار کئے جا اور اب مجھ سے ان کے متعلق کچھ نہ کہو۔بلاشبہ یہ غرق ہونے والے ہیں۔

آخڑ عزاب الہی کےآنے کاوقت پورا ہوگیا۔کشتی بن کر تیار ہوگئی۔جب پھر اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ کشتی ہر تمام مسلمانوں کو بٹھالو اور ہر جاندار کا جوڑا بٹھالو۔چرند،پرند،نباتات،حیوانات ہر چیز کا جوڑا کشتی پر لے آؤ۔پھر اپنے خاندان کو بٹھالو۔حضرت نوح علیہ السلامنے مشیت الہٰی کو تسلیم و قبول کیا۔اور ایسا ہی کیاجیسا کہ حکم ربی تھا۔لیکن خاندان میں آپ کی بیوی اوربیٹاسرکش تھے اور نافرمان تھےانہوں نے کشتی میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔حضرت نوح کے اصرار پر بھی وہ نہ مانے ۔اللہ تعالٰی نے فرمایایہ تیرے خاندان میں سے نہیں ہیں۔یہ کافر ہیں

جب وح الٰہی کی تکمیل ہو چکی تو تنور میں سے پانی ابلا۔یہ اللہ کی نشانی تھی کہ عزاب آگیا۔حضرت نوح کشتی میں سوار ہوچکے تھے وہ سمجھ گئے کہ اب عزاب آگیا۔

اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اورآسمانوں کے دہانےکھول دیئے گئےآسمان سے پانی برسنے لگا۔زمین نے بھی پانے اگلنا شروع کردیا۔ایک عرصہ تک ایسا ہوتا رہا۔کشتی تیرتی رہی اور تمام کافروزندیق غرق ہوگئے خدائے بزرگ کےقانون کے مطابق کیفرکردار کو پہنچ گئے۔کشتی جودی پہاڑ  پر رک گئی اور بنی نوع انسان دوبارہ زمین پر آباد ہوگئے۔اللہ تعالٰی نے اس قصہ میں بتایا ہے کہ سرکشوں اور نافرمانوں کونہ تو آسمان میں اور نہ ہی زمین پناہ دے سکتی ہے۔وہ چاہے جتنے بھی اونچے اڑیں جتنی بھی بلندی پر پہنچ جائیں آخر ان کا انجام درد ناک اور عبرت ناک موت کے علاوہ کچھ نہیں۔

حضرت نوح علیہ السلام کے اس قصہ میں اللہ تعالٰی نے امت مسلمہ کو یہ سمجھایا ہے کہ اللہ تعالٰی نے کسی قوم پر اس وقت تک عزاب نہٰں فرمایا جب تک وہ حد سے گذر نہیں گئے۔اس سے پہلے بھی(طوفان سے پہلے)قوم نوح ہٹ دھری کرتی رہی اور طوفان آنے تک سرکشی اور نافرمانی کرتی رہی۔یہاں تک کہ انہوں نے کہا لاؤجوعزاب لانا چاہتے ہو!پھر انہیں مہلت بھی ملی کہ کشتی تیار ہونے میں کئی ماہ لگ گئے۔

لیکن قوم نہ مانی ابو جہل کی محفلوں میں برملاحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سچامانتا تھا لیکن چونکہ وہ اور اس کے ساتھی گمراہی کی دلدلوں میں سرتاپا غرق ہوچکے تھے ۔اس لئے وہ حقیقت کو جانتے بوجھتے بھی حقیقت کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کو ان باطل قوتوں نے اپنی طاقت کے زور پر ایسی ایسی ایزائیں،تکالیف پہنچائیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن انہوں نے یہ مشاہدہ کرنے کے باوجود کہ ایذارسانی،اوراذیت دینے کے باوجود یہ لوگ دعوت حق سے منہ نہیں موڑتے۔انہوں نے اذیت کوشی کی انتہاکردی،وہ شمع توحید کےپروانے جل جل گئے لیکن صبروتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

خدا کے پیغمبروں نے کہا،تم اگر ہماری آواز لبیک نہیں کہتے تو کہونہ کم ازکم ہمارے وجود کو برداشت کرو اور اتنا صبر کرو کہ ؒخدائے بزرگ و برتروحدہ لاشریک ہمارے اور تمہارے درمیان حق وباطل کا خود ہی فیصلہ کردے۔تو وہ لوگ کہتے درمیان حق وباطل کا خود ہی فیصلہ کردے۔تو وہ لوگ کہتے اپنی نصیحت ختم کرو اور اگر سچے ہوتوجس عزاب سے ڈراتے ہوتو وہ ابھی لے آؤ۔ورنہ تو ہم ہمیشہ کےلئے تمہارا اور تمہارے مشن کاخاتمہ کردیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رقاہ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ہمارے والدین کو جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے ان کے کبیرہ صغیرہ گناہ معاف فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالایمان کرے (آمین ظم آمین)

Message Now For Istikhara