ولی کسے کہتے ہیں؟ جواب: اللہ پاک کے وہ محبوب و مقبول بندے جو اللہ و رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی محبت میں اپنی خواہشوں کو فنا کر دیتے ہیں اورہر وقت خدااوررسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی اطاعت وفرمانبرداری میں مصروف رہتے ہیں، اولیاء اللہ کہلاتے ہیں۔ اس تعریف کو پڑھ کرآپ یہ سوچ رہےہوں گے کہ ولایت ملتی کیسے ہے؟ تو اس کا آسان سا جواب یہ ہے: ولایت محض اللہ تعالٰی کاتحفہ ہے رب کریم اپنے نیک بندوں کو اپنے خاص فضل سے عطا کرتا ہے۔ ہاں عبادت گزاری کبھی کبھار اس کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بعض تو ماں کے پیٹ سے ہی ولی پیدا ہوتے ہیں۔

محترم قارئین!ولی کے لئے علم ضروری ہے،خواہ وہ ظاہری طور پر حاصل کرے یاولایت کے مرتبہ پر پہنچنے سےپہلے اللہ پاک اسے اپنے پاس سے خاص علم و فضل عطا کردے، کیونکہ علم کے بغیر آدمی ولی نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک شریعت کی پابندی کی بات ہے تو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رہے کہ کوئی ولی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کبھی بھی شریعت کے احکامات کی پابندی سے آزاد نہیں ہوسکتا، بلکہ ولی تو ہوتا ہی وہ ہے جو احکام شرعیہ کی مکمل پاسداری کرتا ہے، جو خود کو شریعت سے آزاد سمجھ کر دعوی ولایت کرے تو یقیناً وہ شخص گمراہ بددین تو ہے مگر ولی کسی صورت نہیں، ولی کی پہچان اس حدیث قدسی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ:

نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:کوئی بندہ میرے فرائض کی ادائیگی سے بڑھ کر کسی اور چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔(فرائض کے بعد) نوافل سے مزید میرا قرب حاصل کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جا تا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہا تھ بن جا تا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جا تا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب الرقاق، ۴/۲۴۸،حدیث ۶۵۰۲)

سُبْحٰنَ اللہ!مذکورہ حدیث پاک سے چند باتیں آسانی سے سمجھ آتی ہیں۔

  • فرائض و واجبات کی پابندیاللہکریم کا قرب پانے کا ذریعہ ہے۔
  • حدیث پاک میں جہاں کان،آنکھ،ہاتھ اور پاؤں بننے کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہکریم ان بندوں کو خاص قوتیں اور اختیارات عطافرماتا ہےجن کی بدولت یہ وہ دیکھتے ہیں جو عام انسان نہیں دیکھ پاتے یہ وہ سن لیتے ہیں جو عام انسان نہیں سن پاتے ان کے ہاتھوں سے ایسی ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو ایک عام انسان سے نہیں ہو سکتیں اور یہ مہینوں کے سفر پل بھر میں طے کر لیتے ہیں جو کہ عام انسان سے ممکن ہی نہیں اس طرح کے اور بہت سے ایسے اعمال ان سے صادر ہوتے ہیں جو عام لوگوں کی عقل میں نہیں آتے،عرف عام میں اسی کو کرامت بهی کہتے ہیں۔
  • اللہپاک ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔
  • یہ اللہوالے شکر کی ایسی کیفیت کو جانتے ہیں جو نعمتوں کو دوام بخشتی ہے۔ زندگی کے کسی بھی لمحے خود کواللہ پاک کی اطاعت اور خوشنودی کے راستے سے نہیں ہٹنے دیتے، اللہ پاک کی نعمتوں پر شکر اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں۔

Contact us for all your problems and Get 100% Result
Professor.Javed Hussian Shah

Call Us:0092-300-4222246

Professor Javeed Hussain Shah is Experienced Rohani Aamil. He is Pofessional Atrologer, Amil, as well a Mahir e ilm ul Ramal. ilm ul jaffer.

LATEST NEWS

ISLAMIC CENTER YOUTH PARTICIPATE

 

ISLAMIC CENTER YOUTH PARTICIPATE

 

Flag Counter

NEWSLETTER

© 2017. All rights reserved. Ennovive pvt ltd.