Tazkira tul Auliya , hazrat dawood A.S

Tazkira tul Auliya , hazrat dawood A.S

حضرت دائود علیہ السلام :

اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی گمراہ قوم کو راہ راست پر لانے اور انہیں سیدھا راستہ دکھانے کےلیے ہر دور میں پیغمیر اور نیی بیجھے لیکن بنی اسرائیل میں حضرت دائود علیہ السلام ایسے پیغمیبر تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے علاوہ بادشاہت بھی عطا فرمائی۔

نسب نامہ:

حضرت دائود علیہ السلام  حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یہودا کی نسل سے تھے اور تمام علمائ مفسرین اس بات پر متفق ہیں۔

تورات میں ہےکہ اشیاع یااشیی کے بہت سے بیٹے تھے جن میں دائو سب سے چھوٹے تھے۔ مشہور مورخ ابن کثیر سے مندرجہ ذیل شجرہ نسب منقول ہے:

دائود بن اشیاع یااشیی بن عوید عابر بن سلمون بن نحشون بن عونیا ذب بن ارم بن حصرن یاقارص یہودا بن یعقوب

نبوت ورسالت :

اس وقت بنی اسرائیل پر طالوت حکمران تھا۔ طالوت کی زندگی ہی میں عمالقہ کے ساتھ جنگ

کے دوران عمالقہ کا سردار ہے۔ جالوت حضرت دائود کے ہاتھوں جنہم واصل ہوا ۔ اور طالوت کی موت کے بعد عنان حکومت حضرت دائود علیہ اسلام کے ہاتھ آگئی ۔ بنی اسرائیل میں یہ دستور تھاکہ حکومت ایک خاندان میں تھی اور نبوت دوسرے خاندان میں۔ اس وقت یہودا کے گھرانے میں نبوت تھی اور افراہیم کے خاندان میں حکومت وسلطنت تھی۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود پر زبر دست انعام کیاکہ آپ کی بادشاہت بھی عطا فرمائی اور نبوت سے بھی سرفراز فرمایا: اور حضرت دائود علیہ اسلام بنی اسرائیل کے پہلے شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دونوں نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ وہ خدا کے پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر سورۃ البقرہ سورۃ الانبیائ میں یوں فرمایا۔

ترجمعہ : اللہ نے ان کی حکومت بھی عطائ کی اور حکمت بھی اوراپنی مرضی سے جوچاہا سکھایا۔

پھر فرمایا:

ترجمعہ: سورۃ الانبیائ میں فرمایا: اور ہم نے ہر ایک دائود سلیمان کو حکومت کو الغرض حضرت دائود علیہ اسلام کویہ شرف حاصل ہوا کہ آپ بنی اسرائیل پر حکومت بھی کرتےرہے اور رشید وہدایت کے علاوہ ان کی نگرانی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

حالات دواقعات:

حضرت دائود علیہ اسلام شجاعت وسیاست اصابت رائے۔ فکرو عمل اور صاحب تدبیر ہونے کے لحاظ سے بھی ایک مکمل انسان ہے۔ اس کی شہادت قرآن مجید فرقان حمید ۔ تورات اور تاریخ اسرائیل بھی دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فضل انک ےشامل حامل تھا۔ فتح ونصرت ان کی لونڈی تھی کہ دشمن ان کے سامنے زیروزبر ہوجاتاتھا۔ کامیابی ہمیشہ ان کے قدم چومتی تھی ۔ انہیوں نے اپنی قوم کو منظم کیا اور کچھ ہی عرصہ میں فلسطین عراق شام اور شرق اردن کے تمام علاقوں کو فتح کرلیا۔ خلیج عقبہ سے لے کر فرات کے تمام علاقوں اور ومشق تک تمام ممالک ان کے زیر نگیں آگئے۔ حضرت دائود کی حکومت میں حجاز کو بھی شامل کرلیا۔ جائے تو بلا شبہ حضرت دائود کی حکومت ایک عظیم حکومت تھی ۔ ان کا لشکر تھا اور سلطنت بہت وسیع تھی۔

ان کی عظمت وشوکت کو نبوت نے چار چاند لگادیئے تھے۔ ان کی رعایا ان پر بے حد یقین واعتماد رکھتی تھی کس کو بھی حوصلہ نہ تھا کہ ان کےسامنے جھوٹ یا فریب کی بات کرتا اور نہ ہی کوئی ایسا تھا جو ان کے احکاف کی خلاف ورزی کرتا اللہ تعالیٰ وحی الہیٰ ک ےذریعے آپ پر ہربات کی حقیقت کا انکشاف کردیتے تھے۔

حضرت دائود علیہ السلام کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی ۔ اس سے پیششتر آپ طالوت کی جگہ بادشاہ بن چکے تھے اور وحی الہی کا سلسلہ جاری رہا۔

وحی الہی کے ذریعے جھوٹ اور فریب کا کنکشف ہونا:

مشہور مورخ ابن کریر ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوآدمی ایک بیل کا جھگڑا لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ دونوں بیل اپراپنی ملکیت کا دعوی کرتے تھے، اور ایک دوسرے پر الزام دھرتے تھے۔کہ دوسرا غاصب ہے۔ حضرت دائود علیہ اسلام نےیہ مقدمہ سنا تو فیصلہ دوسرے دن پر موخر کردیا۔ دوسرے دن مقدمہ شروع ہوا بیل کا مدعی اپ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے فرمایا اےشخص رات مجھے خدا کی طرف سے وحی ہوگئی ہے۔ کہ تجھے قتل کردیا جائے لہذا اگر تو سچ بات بتائے تو تیری جان بچ سکتی ہے۔

مدعی نے کہا۔ اے نبی اللہ ؒ اس معاملے میں بالکل سچاہوں اور میرا بیان قطعی صحیح ہے۔ لیکن او واقعہ سے قبل میں نے اس مدعی علیہ کے باپ کو قتل کردیاتھا اور اس کی جائیداد پر قبضہ کرلیا۔

یہ سن کر حضرت دائود نے اس کی جائیداد مال ودولت مدعی علیہ کے حوالے کردی اور اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود کو بہت نوازا تھا۔ اور اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے تھے جس کی وجہ سے سب لوگ آپ کے سامنے خائف رہتے تھے۔ اور سیدھا راستے پر چلتے رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت شان وشوکت اور عظمت دی تھی۔

 اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

ترجمعہ : اور ہم نے اس کی حکومت کو مضبوط کیا اور اس کو حکمت عطا فرمائی اور صحیح فیصلہ کی قوت بخشی ۔ حکمت کے دو مفہوم آتے ہیں۔ ایک تو نبوت اور دوسرا عقل ودانش کا وہ مقام جس پر فائز ہوکر کوئی شخص کبھی بے راہ دی نہں کرسکتا اور ہمیشہ راہ راست پر رہتا ہے۔ بعض علمائ حکمت کے معنی زبور کے کیتے ہیں۔ اور بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ فن خطابت میں یکتا اور خوشی الحان تھے اللہ نے آپ کی وضاحت وبلاغت سے نوازا تھا۔ اور آپ کا زور بیان درست تھا آپ کا حکم اور فیصلہ حق وباطل کے درمیان بالکل ٹھیک اور درست ہوتاتھا۔ آپ دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا کرتے تھے۔

زبور:

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی رشد وہدایت کے لئے حضرت موسی پر توراۃ نازل فرمائی تھی۔ توراۃ میں ان کی دینی زندگی اور معاشرتی زندگی گزارنے کے طور طریقے اور اسلوب اور احکام صادرکئے گئے تھے لیکن وقت کے ساتھ اور حالات کے پیش نظر اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت دائود کو زبور عطا فرمائی، جو درحقیقت توراۃ ہی کاپر توہے اور توراۃ کے قوانین واصول کے اندرہ کربنی اسرائیل کے لئے رشد وہدایت کےلئے بھجئی گئی تھی۔ حضرت موسی کے دین کو از سرد زندہ کرنے کےلئے عطا فرمائی گئی تھی۔ حضرت موسی نے زبور کی روشنی میں شریعت موسی کو از سرنوترتیب دیا اور اسرائیلیوں کو صراط مستقیم سے روشناس کرایا۔ وحدانیت الہی کا علم بلند کیا۔

زبور میں خدا کی حمد مناجات کی گئی تھی اور اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت دائود کو جہاں بہترین حکم ودانش سے نوازا تھا۔ وہاں انہیں اتنی میٹھی اور پیاری آواز سے نواز اتھاکہ جب آپ زبور شریف کی تلاوت فرماتے تو آپ کا سحر آگئٰیں لہجہ سے جن وانس کےعلاوہ شجر اور طیور بھی وجد میں آجایا کرتے تھے۔ اور آپ کے ساتھ ساتھ اللہ کی مناجات کرنے لگتے تھے۔ اسی لئے آپ کی تعریف میں لفظ لحں دائودی مشہور ہوا جوآج تک ہر خوش الحان کےلئے بولا جاتاہے۔

لخت میں زبور کے معنی ہارنے اور ٹکڑے کے ہیں۔ چونکہ زبور کو اللہ تعالیٰ نے توراۃ کی تکمیل کےلئے نازل فرمایا تھا اسی لئے زبور تو راۃ ہی کا حصہ ہے۔

مسند احمد میں ایک روایت منقول ہے۔ کہ زبور کانزول رمضان المبارک میں ہوا۔ چنانچہ بعض مفسرین نے تشریح کی ہےکہ آیت مسطور ذیل میں زبور کے جس واقعہ کا ذکر کیا تھا وہ دراصل نبی اکرم اور صحابہ کرام رضوان اور اجمعین کی بشارت سے متعلق ہے اور وہی اس کا مصداق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اور بے شک ہم نے زبور میں نصحیت کے بعد کہی دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے بندے ہوں گے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا توراۃ ، انجیل او زبور کو خدا کی وحی فرمایا ہے۔ اور منزل من اللہ بتایا ہےکہ اور ساتھ ہی یہ اعلان فرمایا ہےکہ بنی اسرائیل نے دیدہ دانستہ خداکی کتابوں توراۃ زبور زنجیل کو بدل ڈالا اور جگہ جگہ اپنی مرضی سے تحریج تحریک کرڈالی ۔ حتی کہ اصل کلام چھپ گیا اور اصل اور جعلی میں فرق کرنا سخت مشکل ہوگیا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمعہ : بعض یہودہ وہ ہیں۔ کے کلمات کوان کی اصل حقیقت سے بدلتے پھرتے ہیں۔

موجودہ زبور میں اس کی شہادت موجود ہےکہ موجودہ زبور کے مختلف حصوں کی تعداد جن کو زبور کہا جاتاہے۔ ایک سوپچاس کے لگ بھگ ہے ان میں تمام جو نام ہیں ان سے ثابت ہوتاہےکہ یہ سب حصے حضرت دائود کی زبور کے نہیں ہیں۔ کیونکہ بعض پر اگر حضرت دائود کا نام ثبت ہے تو بعض پر قورح یعنی مینوں کے استاد کا ۔ اور بعض پر شلوشنیم کے سروں پرآصف اور بعض گشیت کا اور بعض پر کسی کا نام نہیں۔ علاوہ ازیں زبور کے ایسے حصے بھی ہیں جو حضرت دائود کے صدیوں بعد تصنیف کئے گئے ہیں جیسا کہ زبور 79 تا 84 مذکور ہے۔

اے خدا ! قومیں تیری میراث میں گھس آئی ہے۔ انہوں نے تیری مقدس ہیکل کو ناپاک کیاہے۔ انہوں نے یروشلم کو کھنڈر بنادیا ہے۔

اس زبور میں اس تباہی وبربادی کے ہولناک واقعہ کا ذکر کیا گیاہے۔ جوکہ بنوکدر کے ہاتھوں بنی اسرائیل کو پیش آیا اور ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت دائود کے صدیوں بعد پیش آیا تھا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود کو زبور عطا فرمائی، ان کو بلند مرتبہ عطا فرمایا اور زبور کے ذریعے رشدوہدایت کا پیغام سنایا۔ قرآن حکیم میں اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا۔

ترجمعہ : اور بے شک ہم نے بعض انبیا و بعض پر فضیلت عطا فرمائی اور ہم نے دائود کو زبور بخشی ۔

بخاری کتاب الانبائ میں روایت منقول ہےکہ حضرت دائود زبور کی تلووت کرتے اور گھوڑے کی زین کستے کستے پوری زبور ختم کردیا کرتے تھے۔

قرآن حکیم ، توراۃ اور حضرت دائود:

حضرت دائود کی شخصیت کے مطلق قرآن حکیم اور توراۃ میں سخت اختلاف پایا جاتاہے۔ توراۃ میں حضرت دائود کو صرف بادشاہی تسلیم کیا گیا لیکن نبوت اور رسالت کو تسلیم نہیں کیاگیا۔ اوریہ بنی اسرائیل کی ذلت کی انتہا ہے۔ بنی اسرئیل اس قسم کے کزب واختر نبیوں اور پیغمبروں کے متعلق گھڑتے رہتے ہیں جس کا ثبوت نبیوں اور پیغمبروں کے متعلق لغو کہانیاں اور قصے توراۃ میں لکھے ہیں۔

لوہے کا موم ہوجانا:

حضرت دائود علیہ اسلام کویہ وصف بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھاکہ لوہا آپ کے ہاتھوں میں آکر موم کی طرح نرم ہوجاتاتھا۔ حضرت دائود شہنشاہ ہونے کے باوجود اپنے ذاتی اخراجات حکومت سے نہیں لیتے تھے۔ اوراپنے کنبہ اور خاندان کا بوجھ بھی بیت المال پر نہیں ڈالتے تھے۔ بلکہ اپنی محنت اورہاتھ کی کمائی سے اپنی روزی روٹی کا سامان کرتے تھے۔ رزق حلال سے اپنے خاندان کی پرورش فرماتے تھے۔ حدیث مبارکہ میں مذکور ہے۔

ترجمعہ : رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : کسی انسان کا بہترین رزق اس کے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہوارزق ہے اور بلاشبہ اللہ کے پیغمبر دائود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت کی رزی کماتے تھے۔

مشہور مفسر شیخ بدرالدین فصنیف عینی میں فرماتے ہیں کہ حضرت دائود علیہ السلام یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ خدایا ایسی صورت پیدا کردے کہ میرے لئے ہاتھ کی کمائی آسان ہوجائے کیونکہ بیت المال پر اپنی معاش کو بوجھ نہیں ڈالنا

حضرت دائود علیہ السلام اسی پاکیزہ جذبہ کی عنایت ہے جوپیغمبر کا وصف ہے اور جس کا ذکر قرآن حکیم نے اپنے جلیل القدر پیغیمبروں کے لئے قرآن حکیم میں فرمایا ہےکہ ہر نبی ہر پیغمبر جب قوم کو اللہ کا پیغام دیتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی فرماتا ہے کہ جیسا کہ قرآن حکیم نے فرمایا:۔

ترجمعہ : اور میں تم سے اس خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں چاہتا ۔ میرا معاوضہ تواللہ کے ذمہ ہے۔

چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت دائود کی دعاقبول فرمائی اور لوہے کو ان کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم کردیا جب لوہا ان کے ہاتھ میں آتا تھا تو آپ اس کوجس طرح چاہے شکل دے سکتے تھے ۔ آزرہ کی کڑیاں بناتے اور زرہ بناکر بازار میں بیچ دیتے اور اپنی روزی کا بندوبست کرتے ۔

اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمعہ : اور ہم نے اس دائود کے لیے لوہا نرم کردیا کہ بنازر ہٰں کشادہ اور اندازہ سے کڑیاں جوڑ کر اور تم جو کچھ کرتے ہومیں اس کو دیکھتاہوں۔  زرہ بنانے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانبیائ میں فرمایا۔

ترجمعہ : اور ہم نے اس دائود کو سکھایا ایک قسم لباس بنانا تاکہ تم کو لڑائی کے موقع پر اس سے بچائو حاصل ہو۔ پس کیاتم شکر گزاربنتے ہو۔

حضرت دائود پہلے پیغممبر اور انسان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ ودیعت بخشی اور فضیلت عطا فرمائی کہ آپ کووحی کے ذریعے تعلیم دی ۔ آپ لوہے کی مضبوط لیکن سبک زرہیں بناتے ۔ جوکہ ہلکی اور مضبوط ہونے کی وجہ سے فوجی باآسانی پہن سکتاہے ۔ اور میدان جنگ میں زر پہنے ہونے کے باوجود باآسانی نقل وحرکت بھی کر سکتاتھا۔ دشمن سے محفوظ رہنے کےلیے بھی بہت کارآمد تھی۔

پرندوں کی بولیاں :

اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود کویہ شرف بھی عطا فرمایا کہ آپ پرندوں کی بولیا بھی سمجھ سکھتے تھے ۔ آپ پرندوں سے ہمکلام ہوتے تھے ۔ پرندے آپ سے باتیں کرتے تھے اورآپ پرندوں کی باتیں سمجھ سکتے تھے۔ یہ اللہ کی طرف سے حضرت دائود اور حضرت سلیمان کے لئے انعان تھا۔

درجہ ومقام :

حضرت دائود علیہ السلام کو اللہ تبارک تعالیٰ نے بلند مقام اور درجہ سے نوازاتھا ۔ حضرت دائود کو صحیح فیصلہ کرنے کی قوت بخشی تھی اور اس کے ساتھ ہی حضرت دائود کے بیٹے حضرت سلیمان کو بھی زبردست عقل ودانش عطا فرمائی تھی ۔ حضرت سلیمان کو بھی قوت فیصلہ  بخشی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں یہ بات یوں فرمائی ہے۔

ترجمعہ : دائود اور سلیمان کا واقعہ جب وہ ایک کھیتی کے معاملہ کا فیصلہ کررہے تھے جس کو ایک فریق کی بکریوں کے ریوڑ نے کچراکرڈالا تھا اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے پھر ہم نے اس کے بہترین فیصلہ کی سمجھ کو عطا کی اور دائود سلیمان کوہم نے علم وحکمت عطا کئے 

اس واقعہ کو مفسرین روایت نے نقل کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودو حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت دائود علیہ السلام کی خدمت میں دو شخص ایک مقدمہ لے کر حاضر ہو ئے ۔ مدعی نے دعوے کی روائید سنائی کہ مدعی علیہ کی بکریوں کے گلے نے  اس کی تمام کھیتی تباہ وبرباد کرڈالی اور اس کی چرچگ کر خراب کر ڈالا ۔

حضرت دائود علیہ السلام نے اس معاملات پر اپنے علم وحکمت کے پیش نظر یہ فیصلہ دیا کہ مدعی کی کھیتی کا نقصان چونکہ مدعی علیہ کے زیوڑ کی قیمت کے برابر ہی ہے۔ لہذا مدعا علیہ اپنی بکریاں، مدعی علیہ کے حوالے کردے تاکہ نقصان پورا ہوسکے ۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر مبارک ابھی گیارہ سال کی تھی ۔ وہ والدین ماجد کے قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے فرمائے لگے اے والدہ محترم آپ کا فیصلہ برحق ہے مگر اس سے بھی مناسب شکل یہ ہےکہ مدعی علیہ کا تمام ریوڑمدعی کے سپرد کردیا جائے کہ دوہ اسکے دودھ اون سے فائدہ اٹھانے اور مدعی علیہ سے کہا جائے کہ اس دوران اور اون  سے فائدہ کی پیداواری کی طرف توجہ دے اور جب کھیت کی پیداواری اوراپنی اصلی حالت پر آجائے تو کھیت مدعی کے سپرد کردے اوراپنا ریوڑ واپس لے لیوے ۔ حضرت دائود کو بیٹے کا یہ فیصلہ بہت پسند  آیا۔ قرآن حکیم نے بھی اس طرف اشارہ فرمایا ہےکہ حضرت سلیمان کا فیصلہ مناسب رہا۔ لیکن اس کامطلب ہرگزیہ نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے سبقت رکھتے تھے۔ اس لئے کہ مجموعی طورپر حضرت دائود علیہ اسلام کو جو مکام اور منزل عطا فرمائی وہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کے  حصہ میں نہیں آئی۔

یہودیوں کی بہیودہ گوئی اور بہتان طرازی:

 قوم یہود نے اپنے پیغمبر اور نبیوں پر جوالزام طرازی کی ہے۔ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ یہ ایسی کوئی بد بخت قوم ہے۔ جنہوں نے اللہ کے نیک اور صالح بندوں نبیوں اور پیغمبروں کے متعلق من گھٹرت بے بنیاد کہانیاں اور قصے گھڑے ہیں۔ توراۃ میں خود ساختہ کہانیاں شامل کرکے نبیوں اور پیغمبروں پر شرمناک تہمت بازی کی ہے۔ اسی وجہ سے یہ قوم اللہ کی لعنت کی حقدار ہوئی اور راندہ درگاہ قرارپائی۔

توراۃ میں حضرت دائود علیہ اسلام کے متعلق بھی ایک شرمناک اور بہیودہ داستان طرازی کی گئی ہے۔ یہودیوں کی باوائی ملاحظہ ہو۔ کہ استغفراللہ میں ڑالک توبہ اللہ مجھے معاف فرمائے۔ استغفار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استغفار ۔۔ توراۃ میں مذکور ہے۔

اور شام کے وق دائود اپنے پلنگ پر سے اٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اس نے ایک عورت کو دیکھا جونہارہی تھی۔ اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی، تب دائود نے لوگ بھیج کر اس عورت کا حال دریافت کیا ۔ اور کسی نے کہا وہ انعام کی بیٹی بنت سبع ہے۔ جوحتی اور یاہ کی بیوی ہے۔ اور دائود نے لوگ بھیج کراسے بلا لیا۔ وہ اس کی پاس آئی اور اس نے اس سے صحبت کی ناپاکی سے پاک ہوچکی تھی۔ پھر اپنے گھر کو چلی گئی اور وہ عورت حاملہ ہوگئی ۔ سواس نے دائود کے پاس خبر بھیجی کہ میں حاملہ ہو۔ صبح کو دائود نے یوں آپ کے لئے ایک خط لکھا اور اسے اور یاہ کے ہاتھ بھیجا اور اس نے خظ میں یہ لکھاکہ اور یاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ ماراجائے ۔ اور اس شہرکے لوگ نکلے اور یوآپ کڑے اور وہاں کے خادموں میں سے تھوڑے سے لوگ کام آٗے۔ اور حتی اوریاہ بھی مرگیا۔ تب یوآپ نے آدمی بھیج کر جنگ کالب لباب دائود کو بتایا۔

جب اوریاہ کی بیوی نے سنا کہ اس کا شوہر اورریاہ مرگیا تو وہ اپنے شوہر کا ماتم کرنے لگی اور جب سوگ                               کے دن گزرگئے تو دائود نے اسے بلاکر اس کو اپنے محل میں رکھ لیا اور وہ اس کی بیوی ہوگئی ۔ اور اس سے اس نے ایک لڑکا پیدا ہوا پھر اس کا کام سے جو کام دائود نے کیا تھا خداوند ناراض ہوگئے اوریاہ کی داستان اللہ کے معصوم توراۃ میں مذکور من گھڑت کہانیاں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔

قرآن حکیم اور حضر دائود علیہ السلام :

قرآن حکیم میں اس بات کو تفصیل کے ساتھ بتایا گیاہے کہ حضرت دائود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول اور پیغمبر ہیں ،۔ خلیفہ اللہ اور بنی اسرائیل کے باجبروت حکمران ہیں۔ قرآن حکیم میں مذکور ہے۔ اور بلاشبہ ہم نے بعض نبیوں کو پر فوقیت دی ہے اور ہم نے دائود کو زبور عطا کی۔

سورۃ ص میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

ترجمعہ: اوردیا ہم نے دائود کو سلیمان بہت خوب بندہ ہے وہ رجوع کرنے والا

اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمعہ : اور ہم نے دی ہے دائود کو اپنی طرف سے بڑائی ۔

سورۃ ص میں فرمایا:

ترجمعہ : اور قوت میں دی ہم نے اس کی سلطنت کو اور دی اس کو تدبیر اور فیصلہ کرنا بات کا ۔

سورۃ النمل میں رب کریم نے فرمایا:

ترجمعہ: اور ہم نے دیا دائود اور سلیمان کو ایک علم اور بولے  شکر اللہ کا جس نے ہن کو بزرگی دی اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر

مندرجہ بالا تمام آیات میں قرآن پاک کھلے اور صاف پیرائے میں سابقہ پیرائے میں سابقہ کتب الہامی توراۃ زبور اور انجیل میں یہودی تحریفات اور تحریفات کو رد فرمادیاہے۔ اور یہود کی تمام من گھڑت اور ہرقسم کے گناہ ااور نافرمانی سے پاک  صاف اور مقدس ہے۔ ہمارے ان بزرگی نے اسرائیلی خرافات کو شائع کرتے ہوئے یہ نہیں سوچاکہ وہ اسرائیلی روایات کو قرآن حکیم اور حدیث کی روشنی میں پرکھیں اور تحقیق فرمائیں اورپھر قلمہند فرمائیں اور پھر اسے قلمنبد فرمائیں تاکہ امت مسلمہ یہودی فتنہ انگیزی کا شکار نہ ہونے پائے اور گمراہ نہ ہو۔ ان مفسرین پر حیرت ہے کہ یہ بھی ہیودی مردووقوم کی سازش کا شکار ہوئے ، ان مفسرین نے ان بہتان طرازیوں کو رد کرنے کی بجائےان کی من گھڑت روایات جو سائے اختر اع اور خرافات کے اور کچھ نہیں کونیکی کا لبادہ پہنا کر اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کر ڈالی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کردیاکہ ہیودی قوم جو انبیائے کرام علیہ اسلام کو قتل کرتی رہی ہے۔ ان کے بارے میں خیر کے کلمات کب لکھ سکتی ہے۔ یہود ہمیشہ سے انبیائ کی پاکیزگی اور بزرگی کی نفی کرتے رہے ان سے خیرکی توقع کرنا ہی عبث ہے۔

اسلام کا عقیدہ ہے کہ انبیائ کرام علیہم السلام معصیت سے پاک اور معصوم ہونے ہیں اور گناہ ان کے قریب سے نہیں گزر سکتا۔

قرآن حکیم انبیا کو پاک دامن اور بے لوث ثابت کرتاہے۔ اور اسرائیلی ظرافی روایات وہ سورۃ بہر حال مفسرین نے قرآنی آیات کی تفسیر میں اسرائیلی خرافاتی روایات کو شامل کیا۔ ہے

یہودیوں نے ان آیات مبارکہ میں جو واقعہ بیان ہواہے۔ اس ک غلط رنگ دے کر خود ساختہ تفسیر بنالی ہے ۔ اور کہانی گھڑٰی ہے کہ حضرت دائود نے ایک شخص اوریاہ کی بیوی بطشاہ سے نکاح کرنے کے لئے اوریاہ کوایک جنگ میں بھیج دیا ۔ وہ ماراگیا اور حضرت دائود نے اس کی عورت سے نکاح کرلیا۔ اس وجہ سے حضرت دائود علیہ السلام پراللہ تعالیٰ نے غضیا ان لوگوں کو بھیجا کہ وہ فرشتے تھے جنہوں نے محل میں آکر حضرت دائود علیہ اسلام کے متعلق افسانہ طرازی کرکے من گھڑت قصہ گوئی کرتے ہوئے ۔ عجیب وغریب کہانیاں گھڑ ڈالی ہیں۔ اور امت مسلمہ کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیاہے حالانکہ اس جگہ حضرت دائود کے ایک امتحان کا ذکر ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان کی شان وشوکت میں اضافہ فرمایا۔

اوریاہ اس کی بیوی بطشا کے متعلق جوداستان گوئی اور بہتان تراشی کی گئی ہے۔ سراسر غلط اور اسرائیلی قوم کی ذلالت اور منافقیت ہے اس کے سواکچھ نہیں ۔ حافظ عماد الدین اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

ترجمعہ : ان مفسروں نے ایک ایسا قصہ بیان کیا ہے بلاشبہ جس کا اکثر حصہ اسرائیلی سے لیا گیاہے۔ اور اس کے بارے میں رسول کریم سے ایک حدیث بھی موجود ہے۔ جس کی پیروی ضروری ہوجائے۔

اور اسکے بعد تاریخ البدائیہ والنہائیہ میں اس سے بی زیادہ دور سے بیان کرتے ہیں۔

ترجمعہ : اور بہت سے اگلے اور پھچلے مفسرین نے اس مقام پر چند قصے اور حکایتیں ہیں ۔اور بعض یقینی طورپر جھوٹی اور باطل ہیں ۔ ہم نے ان کو قصد بیان نہیں کیا اور قرآن عظیم نے جس قدر واقعہ بیان کیا ہے صرف اس قدر بیان کرنے سے اکتفاکیاہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے۔ اسے راہ مستقیم پر چلاتاہے۔ اس طرح مختلف مفسرین مثلا امام رازی نے تفسیر کبیر میں خفاجی نے نسیم الریاض میں قاضی عیاض ، نے بحر شفائ اور ابو حیان اندلیس نے بحرالمحط میں دیگر محقیقن نے ان خرافلت کو مردودقرار دیتے ہوئے ثابت کیاہے کہ اس سلسلے میں نبی کریم سے کوئی حدیث منقول نہیں ہے۔ اسرائیلی خرافات سے لگ ہوکر مندرجہ ذیل ان آیات کی جو تفسیر کی ہیں وہ اقوال صحابہ کرام اجمین اور قرآن عزیز وحکیم کے سیاق وسباق کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہایت توجہ اور احتیاط سے لکھی گئی ۔ انہوں نے ان لغوافسانوں اور کہانیوں کو سختی سے رد فرمایا۔ اور مفسرین نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جھگڑا لے کر محل میں کود کر آںے والے فرشتے نہیں بلکہ انسان ہی تھے اور قضیہ فرضی نہ تھاکہ بلکہ حقیقت پر مبنی تھا۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہےکہ حضرت دائود علیہ اسلام نے اپنے تمام دنوں میں اوقات میں عبادت الہی کے دن کو خاص اہمیت دی ہے اور وہ اس دن کوئی دوسرا کام سرانجام نہیں دیتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں حضرت دائود کے اسی وصف کی بنائ پر انہیں انہ اداب کہ کر نمایاں کرتاہے۔

حضرت دائود کے اپنی قائم کردہ اوقات کارحالانکہ قابل ستائش تھے لیکن اللہ کو یہ گوارنہ ہوکہ اس کا بندہ خاص اور نبی حجرہ میں مقید ہوکر مخلوق خدا سے قطع تعلق کر لے یہ ۔چونکہ  خاص دفعات تھا۔

یہودی خرافات اور علما کرام:

یہودیوں نے توراۃ میں ردبدل کرنے کے علاوہ پیغمبر پر تہمت گھڑنے کی ناپاک جسارت کرنے کی روایت حضرت دائود علیہ السلام کے بارے میں بھی قائم رکھی ہے۔ صد افسوس کہ یہودیوں کی درید دہنی اور من گھڑت کہانوں میں شامل ہے۔ مثال کے طورپر مولانا عبدالمنان نے اپنی تصنیف قصص الانیبائ میں لکھا ہے۔ اس کی تخلیص لکھ رہا ہوں تاکہ قارئین کرام پر واضح ہوسکے کہ علمائ کرام نے اسرائیلی روایات کو اسلامی رنگ دینے میں کس قدر عجلت اور بے احتیاطی سے کام لیاہے۔ لکھتے ہیں؛

حضرت دائود علیہ السلام اکثر حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے حالات زندگی بڑے شوق سے پڑھتے تھے اور اکثر دل میں سوچتے کہ ان بزرگ ہستیوں نے کون سے ایسے فقید المثال کام انجام دیئے تھے۔ کہ دربار الہی سے خطاب آیا۔ اے دائود میں نے انہیں مختلف آزمائشوں میں سرخرو ہوکر نکلے اور ثابت قدم رہے اور انہوں نے ہرگڑے وقت میں مجھ پرہی بھروسہ کیا اور مجھے پرہی بھروسہ کیا اور مجھے ہی سے مدد کے لئے پکارا  اس لئے ان پر میرا انعام اور انہیں بزرگی اور فضیلت عطا ہوئی ہے۔ اس پر حضرت دائود علیہ السلام نے باری تعالیٰ سے عرض کی یاباری تعالیٰ مجھ پر کوئی بھی کوئی مصیبت نازل فرما تاکہ میں بھی صبر اور توکل سے کام لوں ثابت قدم رہ سکون تاکہ مجھے بھی بزرگی اور مراتب حاصل ہوں ۔ اس حضرت جبرائیل تشریف لائے اور حضرت دائود سے فرمایاکہ اے دائود اللہ جل شانہ نے آپ کو ہرطرح آرام وآسائش سے نوازا ہے۔ آپ دکھ طلب کرتے ہیں۔ اگرایسا ہے تو پھر آپ خاطر جمع رکھئے ۔ آپ کی تمنا پوری ہونے کا وقت قریب ہے۔

کچھ عرصہ بعد کا ذکر ہے۔ کہ آپ اپنے گھر کے باہر باغ میں آرام فرمارہے تھے کہ ایک نہایت خوبصورت پرندہ جس کے پر رنگ برنگے تھے اور اس کی آواز بہت پیاری اور دل کھینچ لینے والی تھی درخت کی شاخت پرآکر بیٹھ گیا اور بولیاں بولنے لگا۔ حضرت دائود علیہ السلام نے چاہا کے اس خوبصورت پرندے کو پکڑ لو انہوں نے پرندے کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ دیوار پر جا بیٹھا حضرت دائود دیوار کی طرف بڑھے تو خوش رنگ خوش الحان پرندہ چھت پر جا بیٹھا آپ چھت پر پہنچے تو وہ خوبصورت باغ میں جا پہنچا اور ایک درخت کی شاخ پر بیٹھا چہچہانے لگا۔ دائود علیہ اسلام باغ میں داخؒل ہوگئے۔باغ میں جابجا پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں درختوں پر جھولے پڑے ہوئے تھے۔ پھول جابجا کھلے ہوئے تھے اور رنگ برنگی تتلیاں ادھر ادھر اڑرہی تھی۔ ایک خوبصورت تالاب میں ایک نہتائی خوبصورت کڑکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ صاف اور شفاف پانی میں تیررہی تھی اور اسکی سہیلیاں اس کے ساتھ کھیل رہی تھیں عجیب سحر انگیز منظر تھا۔ حضرت دائود علیہ السلام اس کڑکی کی خوبصورتی پر فریفتہ ہوگئے اور بے اختیار سامنے آگئے۔ سامنے آگئے ۔ کڑکی اوراس کی سہیلیاں تالاب سے باہر آگئی کڑکی بولی کہے میرا باغ میں کیسے آنا ہوا بطشانے بڑی محبت سے پوچھا۔

میرا نام دائود ہے اور یونہی اس خوبصورت پرندے کوپکڑنا چاہ رہاتھا۔ حضرت دائود علیہ السلام نے خوبصورت پرھے کی طرف اشارہ کیا۔

وہ تو خوبصورت ہے ہی لیکن اس کی ملکہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور پیاری ہے۔ حضرت دائود علیہ السلا نے مسکراکرکہا۔

اپنی تعریف اور توصیف سن کر بطشا مسکرائی اور شرما کراپنے لمبے بالوں میں اس نے منہ چھالیا کہ اس کی سہیلیاں اسے چھڑے نے لگیں ۔ ایک نے کہا لویہ تومحض مرد ہے جس کا نام دائود ہے ۔ اگر دائود بادشاہ بیھ ہماری بطشا کو دیکھ لیتا تو وہ بھی فدا ہوجاتاہے۔ بطشا کی محبت نے اسے بہت بڑھ چکی تھی کسی کام میں ان کا دل نہیں لگتا تھااااور ہروقت یہی سوچتے رہتے تھے کہ بطشا کو کیسے حاصل کیا جائے ۔ حضرت دائود نے ٹھوس لہجے میں عزم ظاہر کیا۔

تو پھر ایساکرتے ہیں کہ آپ اوریاہ درازمحاز جنگ پر بھیج دیجئے جہاں سے اس کا بچکر آنا مشکل ہے وہ ہاں جنگ میں مارا جائے گا اور اسے کوئی عزر اعتراض بھی نہیں ہوگا۔ جہاد میں مرنے والا شہید کہلاتاہے۔ اور سیدھا جنت میں داخل ہوتاہے۔

حضرت دائود کویہ تجویز بہت پسند آئی۔ انہوں نے اور یا کوبلاکردور دراز کے علاقے میں جہاد پر روانہ کردیا ۔ اوریاہ جہاد کا سن کر بہت خوش ہوا اور محاذ جنگ پر شہادت کی تمنا لے کر رخصت ہوا ۔ اس کے دل میں خواہش تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں کڑتا ہوا شہادت پائے۔ وہ محاذ جنگ پر بڑی بہادری سے کڑا اور اس نے کئی شہر فتح کرلئے ۔ لیکن ایک شہر نا طقہ میں وہ کڑتا ہوا شہید ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمایا

حضرت دائود علیہ السلام نے فرمایا۔ ضرور انصاف کروں گا۔ اپنا ماجرا سنائو تاکہ میں انصاف کرسکوں ۔ بات سچی اور کھری کرنا تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہوسکے ۔ اس پرایک شخص بولا۔ اے خلیفہ اللہ یہ شخص جومیرے ہمراآیا ہے۔ میرا بھائی ہے اور صاحب اختیار ہے ۔ اس کے پاس ننانوے بنیواں موجود ہے۔ انصاف کیجئے ۔ یہ بات سن کر حضرت دائود نے مخالف سے پوچھا۔ کیوں میاں یہ بات سچ ہے یہ غلط صحیح صحیح بات کرو تاکہ میں کسی نتیجہ پر پونچہ سکو۔ اور تم دونوں مجھ سے توقوں رکھتے ہوں پوری ہو جائے۔ وہ بولا اے دائود میرا بھائی سچ کہتاہے۔ لیکن اس کی دبنی پر میرا دل مائل ہے۔ میں ہرقیمت پراس کی دبنی حاصل کرنا چاہتاہوں اور وہ کرلوں گا۔

پس وہ دونوں جو دراصل فرشتے تھے ہنس کر کہنے لگے اے دائود باوجود جو اس کے تیرے بنانوے بیویاں موجود تھیں تو نے اوریاہ کی بیوی سے نکاح کرلیا اور پوری ایک سو عورتوں کو اپنے حرم میں بٹھایا۔ ہم درحقیقت دبنی کا بہانہ کرکے تمہیں بتانے آٗے ہیں تب حکم الہی ۔ اے دائود حشر کے روز اس کے لئے یاقوت کاایک شاندار محل بنائوں گا۔ جس حوران بہشت رہیں گے۔ وہ اتنی خوبصورت اور نازک خوش انام گلبدن ہوں گی کہ اوریاہ ان پر یفتہ ہوجائےگا۔ اور اس بدلے میں وہ تمہیں معاف کردے گا۔ فکرنہ کرو اور غم نہیں کر ۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس خوش خبری سے دائود خوش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت بہشت میں اوریاہ کوہ محل دیکھایا وعدہ فرمایا کہ ااگر تو دائود کو معاف کردے گا۔ تویہ محل اور حوریں تیری ہوں گے۔

محل اور حوریں دیکھ کر اوریاہ بہت خوش ہوا اور پکارکر بول اٹھا۔ اے حضرت دائود میں صدق دل سے آپ کی خطا معاف کردی ہے۔یہ سن کر حضرت دائود نے سجدہ شکرادا کیا اور خوشی خوشی واپس آٗے ادھر بنی اسرائیل کے سرکردہ لوگ آپ کو پریشان اور آزردہ دیکھ رہے تھے جمع ہوئے اور کہنے لگے ۔ اے نبی اللہ آپ کو کیا ہوکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چالیس روز ہوگئے آپ نے کھانا پینا چھوڑ رکھاہے۔ اور غم سے آپ کا برا حال ہے کیا ماجراہے۔

اس کے بعد حضرت دائود نے دستور بنالیا حضرت سلیمان سے مشورہ کئے بغیر کوی فیصلہ نہ کرے ۔

ایک دن ایسا ہوکہ ایک بوڑھی عورت اپنے سرپر آٹا رکھے تندور پرجارہی تھی کہ اچانک تیزہوکا ایک بگولا آیا اور عورت کا سارا آٹا اڑا کرلے گیا۔ عورت بے چاری بہت پریشان ہوئی اور وہ حضرت دائود کے دربار میں جاپہنچی اور فریاد کرنے لگی ۔ حضرت نے شور سنا تو معاملہ پوچھا تو عورت رونے لگی اوربتایا کہ میرا آٹاہوا لے گئ ہے۔ میرا انصاف کیا جائے۔

آپ نے بڑھیا کی بات سنی اور ہنس دیئے اور کہا ۔ اے بڑھیا سن ۔ ہوا پر میرحکم نہیں چلتا۔ تو ایسا کر مجھ سے پرات بھر آٹا لے جا اور بچوں کو روٹی کہلا۔

بڑھیابہت خوش ہوئی اور آٹا لے کر باہر آئی تو راستے میں سلیمان علیہ السلام مل گئے ۔ بڑھیانے ہنس کر کہا بیٹا۔ یہ سب تمہارے والد کی مہر بانی ہے وہ بڑے غریب پرور ہے۔ کچھ آٹا میں سر پر اٹھائے لئے جارہی تھی کہ ہوانگوڑی اڑاکر لے گئی ۔ میں نے حضرت دائود علیہ اسلام سے فریاد کی تو مجھے تمہارے والد نے بدلے میں آٹادے دیا اور وہ آٹالے کر جارہی ہے۔ گھر میں آٹا بالکل بھی نہیں ہے۔ اب جائوں گی۔

حضرت سلیمان ہنسے اور فرمایا: اے اماں ! تو بڑی ہی بھولی بھالی ہے۔ جس اتنے سے آٹے پرمان گئیں۔ واپس جا اور دائود سے کہہ مجھے آٹا نہیں چاہیے ۔ میں تو ہوا سے قصاص لینا چاہیتی ہوں ۔ اس کے سوا کچھ نہیں،

اے بیٹا! ہوا سے قصاص یہ کیسے ہوسکتاہے۔ بڑھیا ہنس کر بولی اماں جو میں نے کہا تو ویسے ہی کر فائدے میں رہے گی۔

فائدے کی بات بڑھیا کے ذہن میں بیٹھ گئی ۔ وہ فورا پلٹ گئی۔ اور حضرت دائود علیہ السلام سے بولی ۔ اے خلیفہ مجھے یہ آٹا نہیں چاہیے ۔ مجھے تو ہوا سے قصاص دلوائیں ۔ اور کچھ اس کے سوا مجھے نہیں چاہیے۔

بڑھیا کی بات سن کر حضرت دائود علیہ السلام نے کہا۔ اے بڑھیا تو اپنے آٹے کے بدلے میں میں مجھ سے دس من آٹا لے جالیکن ایسا مطالبہ جو میں نہیں پورا کرسکتاوہ نہ کر ۔ کیونکہ ہوامیرے بس میں نہیں ۔ بھلا وہ بات جو میرے اختیار میں نہیں وہ میں کیسے پوری کرسکتاہوں۔ جانتنا چاہیے آٹالے لے ۔ قصاص کی بات نہ کر۔

بڑھیا بے چاری لاجواب ہوکرواپس لوٹ آئی ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہ اماں کیا جواب ملا۔

بیٹا میں تو پہلے ہی کیہتی تھی ہوا سے قصاص کیسے لیا جائے گا۔ بڑھیا نے ہنس کر کہا۔

لیکن اماں , قصاص میں لینا تیرا حق ہے۔ تو اپنا حق چھوڑ کر کیوں جاتی ہے۔ واپس جا اور خلیفہ کو کہہ کہ اے خلیفہ اگر تو نے میرا حق نہ دلوایا تو روز محشر فریاد کروں گی پھر کیا کرو گے۔ میں تو ہوا سے قصاص کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتی ۔ مجھے قصاص دلوائیے 

بڑھیا ایک بار پھر دائود علیہ السلام کے پاس جا دھمکی اور چلانے لگی ۔ اے دائود مجھ غریب بڑھیا کا حق دلوائو ورنہ ورز محشر میں خدا کے سامنے انصاف کے لئے چلائوں گی کہ دائود نے میرا انصاف نہیں کیا۔ یہ سن کر حضرت دائود علیہ السلام سوچ میں پڑ گئے اور پوچھا ۔ اے بڑھیا سچ بتا تجھے راستہ کس نے دکھایا۔ دیکھ سچ سچ بتانا:

بڑھیا نے کہا۔ یہ سب باتیں مجھے آپ کے فرزند سلیمان نے کہی ہیں۔

حضرت دائود علیہ اسلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بلا بیجھا اور کہا اے فرزند تونے سوچا کہ ہوا سے بھلا قصاص کیسے لیا جاسکتاہے۔ وہ مجسم نہیں ۔ اس کو کیسے پکڑا جا سکتاہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ ہیں ہوا کو پکڑنا بہت آسان بات کیسے ہوگی۔ اے ہوا تونے بڑھیا کا آٹا کیو ں لیا اب یہ تجھ سے قصاص کا دعوی کرتی ہے ۔ جواب دے کہ ماجراکیا ہے۔

اے حضرت دائود قصہ یہ ہےکہ دریا میں کچھ لوگ دوسرے ملک تجارت کا مال واسباب کشتی میں لاد کر آرہے تھے کہ کسی وجہ سے کشتی میں سوراخ ہوگیا۔ پانی کشتی میں بھر نے لگا.۔ لوگ پریشان ہوکر اللہ سے دعا کرنے لگے کہ اے مولا کریم رحم فرما اور کشتی کو ڈوبنے سے بچالے ۔ وہ بہت روئے اور دعاکی۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کی منت قبول فرمائی اور مجھے حکم ہوا کہ تو بڑھیا کا آٹا لے جااور فورا کشتی کے سوراخ پر ڈھیر کردے اور آٹے کے ذریعے سوراخ بند کردے تاکہ کشتی غرق ہونے سے بچ جائے۔ سومیں حکم الہی کی تعمیل کی اور مائی کی پرات سے سارا آٹا اڑانے گئی اور کشتی کے سوراخ پرآگیا اس طرح کشتی کا سوراخ بند ہوگیا۔ لوگوں نے جان بچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اب کشتی میں لدامال واسباب راہ خدا میں غریبوں میں مسکینوں میں تقسیم کردیا۔ یہ کہہ کر ہوانے سلا م کیا اور جانے کی اجازت چاہی۔ حضرت دائود علیہ السلام نے سلیمان کی طرف دیکھا۔

حضرت دائود علیہ اسلام نے کہا ابا حضور ہوا کو جانے کی اجازت دے دی جائے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے ہواکو جانے کی اجازت دی ہوا چلی گئی ۔

حضرت دائود علیہ السلام نے فورا دریاکے کنارے سپاہی بھیجیے کہ جب بھی کشتی کنارے پر پہچنے مجھے فورا خبر دار دیرانہ ہونے پائے۔

کچھ ہی دیر بعد ایک بہت بڑی کشتی جس پر بہت سامال واسباب ہوا تھا کنارے پر آلگی ۔ کشتی میں سے لوگ اترکر اللہ کے حضور سجدہ ہوگئے۔ سپاہیوں نے حضرت دائود علیہ السلام کو خبر دی کہ کشتی آپہنچی ہے ۔ حضرت دائود علیہ السلام نے کشتی والوں کو فورا مال واسباب سمیت دربار میں بلالیا جائے اور تمام واقعہ پوچھا ۔ کشتی کے ملاحوں نے کہا،

اے نبی اللہ ! ہماری کشتی دریا میں تیرتی چلی آرہی تھی کہ اچانک کسی آبی چیز نے ٹکر ماری اور کشتی میں سوراخ ہوگیا۔ ہم نے اللہ کے حضور روروکر منت مانگی ۔ اے مولا کریم ! رحم فرما اور ہماری جان بخش دے ۔ ہم کشتی میں موجود تھی۔ ہمارا ایمان ہے کہ نبی پیغمبر اور رسول معصوم ہیں اور ان پر گناہ کا سایہ تک نہیں پڑتا۔

قیامت کے دن خود انسان کے ہاتھ پائوں اس کے اعمال کی گوہی دیں گے۔

بنی اسرائیل نے ایک دفعہ کہا۔ ا نبی اللہ ! ہم قیامت کے دن کا حال اپنی آنکھوں سے ابھی دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں یقین ہواورہم عبرت حاصل کر سکیں اور گناہوں سے بچ سکیں اور ہمیں پتہ لگ جائے کہ قیامت کے دن گناہ گاروں کا کیا حشر ہوگا۔

حضرت دائود علیہ السلام سوچ میں پڑگئے  اور اللہ کی حمدوثنا بیان کرنے لگے ایسے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا ۔ اے نبی اللہ ان سے کہہ دیجئے کہ عید کے روز انہیں محشر کا حال دکھا دیاجائے گا۔

بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار اور طاقتور تھا۔ اس کے پاس ایک روز رنگ کی خوبصورت گائے تھی وہ شخص اپنی گائے کو سجابناکر اس کے جسم پر مخمل کی خوبصورت چادر ڈال کر اسے میدان میں چھوڑدیا کرتا تھا۔ وہاں اس کا یہ   دستور تھا کہ روزانہ گائے ادھر ادھر کے کھیت میں چرتی اور فصل خراب کرتی ۔ لیکن کسی میں اتنی جرات نہ تھی کہ گائے کو روک لیتا یا اس کے مالک سے بازبرس کرلیتا کیونکہ وہ نہایت طاقتور شخص تھا اس کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھتا اسی جگہ ایک بیوہ عورت بھی رہتی تھی اس کاایک بیٹا تھا دونوں آبادی سے دور جنگل میں رہتے اور بڑے عبادت گزار اور پرہیز گار تھے ۔ وہ ہمہ وقت خدا کی عبادت میں مصروف رہتے ۔ ان کے گھر کے قریب ایک چشمہ میٹھے پانی کا بہتاتھا جس کا پانی صاف اور شفاف تھا۔ چشمے کے قریب انار کاایک درخت لگا ہواتھا جس میں اللہ کے حکم سے روزانہ دو انار لگے تھے دونوں ماں بیٹا انا کھاتے اور شکر اداکیا کرتے اور پھر عبادت میں مصروف ہوجاتے ۔ ان کا روزانہ معمول یہی تھا اور وہ اسی میں مگن رہتے اور خوش تھے ان کا یہ دستور بہت عرصے سے جاری تھا ۔ اردگرد کے لوگ بھی ان کا بے حد احترام کرتے اوران کی ہر طرح سے عزت کرتے تھے۔

ایک دن کڑکے نے ماں سے کہا۔ اے ماں ! شہر کے بازاروں میں تو بہت رونق ہوتی ہوگی۔

ہاں بیٹا شہر کے بازاروں میں انواع واقسام کی بہت سی دکانیں ہوتی ہیں۔ ان میں قسم قسم کی اشیائ بھری ہوتی ہیں۔ قسم قسم کے پھل سبزیاں ، پکوان کپڑے ضرورت کی ہر چیز ان دکانوں میں موجود ہوتی ہے۔ یہ سن کر کڑکے کا جی للچا گیا۔ کہنےلگا۔ اے ماں !  میں تو شہر جائوں گا اور شہرکے بازاردیکھو گا۔اور وہاں قسم قسم کی چیزیں کھائوں گا۔ یہ روزانار کھا کھا کر میرا دل بھرگیاہے بیوہ ماں نے کہا۔ نہ بیٹانہ ہم عبادت گزار لوگ ہیں۔ ہمیں دنیا سے کچھ لینا دینا نہیں ۔اللہ ہم سے راضی ہے دیکھ ہمیں اس نے اپنی نعمتوں سے نوازہ رکھا ہے۔ جس پر روزانہ دونار ہمارے کھانے کے لئے پیدا کرتاہے۔ ہمارا خدا ہمیں بغیر کسی محنت کے اور بغیر مشقت کئے پرورش کررہاہے۔ ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے جو اللہ کی طرف سے مل رہا ہے۔ کافی ہے ۔ کھاپی اور اللہ کا شکر ادا کر ۔ ہم بہت غریب ہیں شہر میں خرچ کرنے کےلئے روپیہ کہاں سے لائیں گے۔ صبر اور فناعت کر لالچ اور طمع بہت بری لعنت ہے اور اللہ کو بالکل پسند نہیں۔

لیکن کڑکا ضد کرنے لگا کہ میں تو کچھ اور کھانا چاہتاہو۔

ماں نے کہا۔ بیٹا تمہاری ناشکری ، بے صبری او لالچ کی وجہ سے اللہ نے جو روزی ہمیں باندھ رکھی تھی واپس لی لی ۔ لالچ ہرگز نہ کرنا۔

یہ کہ کر وہ پھر عبادت میں مصروف ہوگئی ۔ دونوں ماں بیٹا ایک دن اور ایک رات ہر چیز بھول کر عبادت الہی میں مصروف رہے اور توبہ استغفار کرتے رہے ۔ ایک دن وہ عبادت کررہے تھے کہ وہ زردرنگ کی گائے جسے اس امیر آدمی نے سجا بناکر چھوڑ رکھاتھا ان کے سامنے آکر بیٹھ گئی ۔ پھر اسے قوت گویائی مل گئی پھر اسے قوت مل گئی اور کہنے لگی ۔

اے اللہ کے نیک بندو ! تم ایک دن اور ایک رات کے بھوکے پیاسے ہو ۔ اللہ نے مجھے تمہارے لئے بطور خاص رزق حلال بھیجا ہے۔ میں حلال روزی ہوا مجھے ذبح کرو اور اپنی بھوک منائو ۔ جلدی کرو۔

بیٹابہت خوش ہوا اور چھری تیزکرنے لگا۔ لیکن ماں نے بیٹے کو سمجھایا اے بیٹے پہلے تمہاری وجہ سے اللہ نے اپنی رضا بدل ڈالی اور ہم سے اپنی نعمتیں واپس لے لیں۔ اب جلدی نہ کر ۔ یہ گائے ہمیں کسی گناہ میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔ صبر اور فناعت کرکہ اللہ ہمارا رزق اور مالک ہے۔ وہی ہمارے لئے بہتر کرے گا۔

یہ کہہ کر اس نے لوہا نکنا چاہا۔ لیکن گائے وہیں لیٹ گئی اور اپنی گردن آگے کرکے کہنے لگی ۔ اے مومنو مجھے اللہ بزرگ وبرتر تمہارے لئے حلال رزق کر کے بھیجا ہے۔ مجھے اس کے نام پر ذبح کرو اور کھائو کہ اس کے سوا کچھ چارہ نہیں ہے۔ یہ حکم الہی ہے۔

اب جب شام تک گائے واپس نہ آئی تو اس کے مالک کو تشویش ہوئی کہ گائے کہاں چلی گئی ؟ اس نے ہر طرف گائے کو تلاش کروایا لیکن گائے کہیں ہوتی تو ملتی اس نے تھک ہار کر طرف ڈھنڈور اپٹوایک عورت پھرتی پھراتی انہوں نے توکبھی کچھ نہین

اللہ تعالیٰ ہمیں محشر کے دن ذلت اور پریشانی سے بچائے رکھے اور خاتمہ اسلام اوردین پرکرے ۔ (آمین)

حضرت دائود کی عمر مبارک:

مشہور محدث حاکم کی کتاب مستدرک میں ایک روایت منقعول ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ کہ بنی کریم نے ارشاد فرمایاکہ عالم بالامیں جب حضرت آدم کی صلب سے ان کی پیشانی والے شخص کو دیکھ کر دریافت کیا، پروردگار یہ کون شخص ہے۔

جواب ملا تمہاری ذریت میں سے بہت بعد میں آنے والی ہستی دائود ہے۔ حضرت دائو علیہ اسلام ی وفات کا وقت آپہنچا توآدم علیہ السلام نے ملک الموت سے کہا کہ ابھی تو میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتہ موت نے کہا ۔ آپ بھول گئے ۔ آپ ن اس قدر حصہ عمر اپنے ایک بیٹے دائود کو بخش دیا ہے۔

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتاہےکہ حضرت دائود کی عمر سال ہوئی۔

توراۃ میں مذکور ہے کہ حضرت دائود نے پیرانہ سالی میں وفات پائی اور اسرائیلیوں پر چالیس سال حکومت کی۔

اور دائود بن ایشی نے سارے اسرائیلیوں پر سلطنت کی وہ عرصہ جس میں اس نے جبرون میں سات برس اور یروشلم میں پینیتس برس سلطنت کی اور ا نے بڑھاپے میں خوب عمر رسید دولت اور عزت سے آسودہ ہرکر وفات پائی ۔

حضرت جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت دائود نے بنی اسرائیل پرستر برس حکومت فرمائی ۔

اور حضرت عبداللہ بن عباس فرمارتے ہیں کہ دائود  کاانتقال سبت کے روز اچانک ہوا ۔ وہ اس روز عبادت میں مصروف تھے اور پرندوں کی ٹکڑیاں ان کے سروں پر پرے باندتے سایہ فگن تھیں کہ اچانک اسی حالت میں ان کا اتقال ہوگیا،۔

توراۃ میں آپ کی وفات کے متعلق یوں مذکور ہے۔

اور دائود اپنے باپ دادا کے سوگیا اور دائود کے شہر صیہون میں دفن ہوا۔

اللہ تبارک تعالیٰ اپنے صالح اور اولولعزم بندوں کو خاص فضائل سے سرفراز فرماتاہے۔ اوران کے فطری کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس دلیری بہادری اورجرات وشجاعت سے آراستہ کردیاتھا۔ کہ جب طالوت اپنی فوج لے کر جالوت کے مقابلے پر چلا تو میدان جنگ میں جالوت کی دہشت وبربریت سے کسی شخص سے بہا انعام وکرامات سے نوازا تھا۔ حضرت دائود علیہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے معجزات عنایت فرمائے تھے جس میں پرندوں وغیرہ کی بولیاں سمجھنا اور لوہے کا موم ہوجانا شامل ہے۔

اللہ تبارک تعالیٰ بہت بڑا عادل اور مصنف ہے۔ وہ اپنے نیک اور صالح بندوں کودین میں عزت حرمت حکمت اور حکومت سے ہرطرح سرفراز فرماتاہے۔

حضرت دائود علیہ السلام ایک ایسے جلیل القدر پیغمبر تھے جن کو اللہ نے حکمرانی اور پیغمبری ایک ساتھ عطا فرمائے تھے۔

اللہ تبارک تعالیٰ اپنے صالح اور نیک بندوں کو اسی طرح نواتا ہے۔ اور ان پراپنی رحمتوں کی بارش کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اللہ کے نیک بندوں جن پران کا انعام ہواکی پیروی کرنے کی ہمت عطا فرمائے ۔ کاروبار میں برکت عطا فرمائے ۔ بچوں کی طرف سے ٹھنڈک ہو ۔ نیک اور صالح ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہرفرد پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور ہمارے اسلاف جودنیا سے چلے گئے ہیں۔ ان کواپنی  جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ اپنے حبیب کے صدقے میں ہمارے کبیرہ صغیرہ گناہ معاف فرمائے ۔ (آمین)۔

 

Message Now For Istikhara