Tazkira Auliya – Hazrat Data Jung Baksh

حضرت داتا گنج بخش:

حالات زندگی :

حضرت سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ باوثوق ذرائع کے مطابق 400 میں افغانستان کے مشہور شہر غزلی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام والدین نے علی رکھا۔ آپ کے والد محتریم کا اسم گرامی حضرت عثمان رحمتہ اللہ علیہ اور دادا محترم کا نام علی تھا جوکہ دونوں بڑے عالم و فاضل حضرات میں سے تھے ۔ وہ بڑے متقی ، پرہیز گار اور دین دار شخصیات میں سے تھے ۔ آپ کے ماموں کا لقب تاج الاولیائ تھا غیر ضیکہ آپ کا سارا خاندان زہد وتقوی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

شجرہ نسب:

آپ کا شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نویں پشت برسا پر جا کرملتا ہے۔ آپ نے حنفی مسلک اختیار کررکھا تھا مگر آپ کو مگاتب فکر نے حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن جنبل کے تابعین میں شامل کیا ہے اور چاروں کو بڑی محبت اور عزت کے ساتھ یکساں عقیدت کے ساتھ تسلیم کیا ہے ۔ آپ کی کنیت ابوالحسن تھی ۔ آپ کا شجرہ نسب کچھ اس طرح بیان کیا گیاہے۔

حضرت علی بن سید عثمان بن سید علی بن سید     عبدالرحمن ب شاہ شجاع ابوالحسن علی بن سید

اصغر بن سید زید شہید بن حضرت امام حسین بن     علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔

حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے روحانی کسب کمال کے لئے بیشتر اسلامی مالک مثلا عراق شام ، پارس بغداد ، آذربائیجان ، ترکستان وغیرہ کا سفر کیا اور وہاں کے اولیا ئ کرام کی روح پر ورصحبتوں سے بھی مستفید ہوئے ۔ خراسان میں آپ تین سومشائخ سے ملے جن سے حضرت خواجہ علی بن الحسین شیخ ابو طاہر مکتوب ، خواجہ ابو جعفر اور شیخ احمد سمر قندی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

آپ نے ایسے اوقات میں حصول علم کے لئے سفر کئے جب ذرائع آمدورفت بھی تسلی بخش نہ تھے اور سفر کرنا کوئی آسان کام نہ تھا ، مگر آپ نے علم حاصل کرنے اور مشائخ سے فیض سے حاصل کرنے کے   لئے طویل افار کئے ۔ آپ کے ہاں علم کو بڑی اہمیت حاصل تھی کیونکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ :

بے علم نتواں خداراشناخت:

آپ کے نزدیک علم کے بغیر نہ تو کوئی اپنے خدا تعالیٰ کو پہچان سکتا ہے اورنہ اپنے پیرومرشد کو ہی جان سکتاہے۔ آپ نے ہمیشہ علم دین اور علم معرفت میں کامل بزرگان سے اکتساب فیض حاصل کیا۔ آپ نے اصل میں اس حدیث مبارکہ پر دل وجان سے عمل کیاکہ ۔ ترجمعہ ۔: علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

آپ نے جگہ جگہ عمل کی تلاش کی ، آپ نے فرمایا::

اقسام علوم بہت زیادہ اور بے حساب ہیں اور انسانی عمر بہت کم سالوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

مگر حصول علم حسب ضرورت ہر ایک کے لئے لازمی اور ضروری ہے تاکہ شریعت کو سمجھ پائے اور اپنی زندگی صراط مستقیم پر گزارے۔

وجہ تسمیہ گنج بخش:

حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اسلامی ممالک کا طویل دورہ کرتے ہوئے ہندوستان میں قدم رکھا تو آپ نے حضرت داتا گنج بخش ہجویری رحمتہ اللہ کے مزار پر لاہور میں بھی حاضری دی اور آپ کے مزار کے پاس ہی چلہ بھی کاٹا۔ جب چلے سے فارغ ہوئے تو وہاں سے رخصتی کے وقت انہوں نے یہ شعر کہہ کر آپ کے لقب ی بنیاد رکھی گویا کہ انہوں نے آپ کی عظمت وبرکت کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے شعر میں فرمایا:۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا          ناقصاں راپیر کامل ، کاملان را راہمنا

ترجمعہ : آپ خزانے لٹانے والے سارے جہاں کو فیض پہچانے والے اور خدا تعالیٰ کے نور کا اظہار کرنے والے ہیں ۔ وہ ناقص لوگوں کے لئے پیر کامل ہیں اور کامل لوگوں کے لئے راہ دکھانے والے بھی ہیں۔

عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آپ کا لقب اس شعر کے بعدمشہور ہوالیکن اکثر کے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ آپ زمانہ قدیم سے ملک عراق سے گنج بخش مشہور ہوگئے تھے کیونکہ آپ سے بے حد فیوض واقع ہوئے تھے آپ نے عراق میں اس قدر لوگوں کو مالی امداد دی تھی کہ جوکچھ بھی آپ کے پاس تھا سب نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے راہ خدا میں دے دیا تھا بلکہ مقروض بھی ہو گئے تھی ۔ آپ نے دنیاوی مال و متاع لوگوں میں تقسیم کرنے کے علاوہ ان میں روحانی فیوض وبرکات کے خزانے بھی لٹائے جس کی وجہ سے وہاں گنج بخش کالقب پایا۔ عوام وخواص میں آپ کی پہچان صرف یہی لقب ہے۔ اکثریت آپ کے اصل نام سے ناواقف ہے۔ آپ میں عاجزی اور انکساری اس حد تک تھی کہ آپ نے اپنے آپ سے فرمایا تھا کہ :

اے علی ! خلقت تجھے گنج بخش کہتی ہے۔ اور تیر یہ      حالت ہے کہ تو ایک دانہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتا ۔ اس

بات کوتو اپنے دل کے پاس بھی نہ لاکہ لوگ تجھے ، گنج    بخش کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ محض دعوی اور غرور ہوگا

اصل گنج بخش تو وہی ہے۔ جو ساری دنیا کو روزی دینے والا ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، ورنہ تیری زندگی برباد ہوجائے گی۔ جا

آپ حضور اکرم کی سنت کا صحیح نمونہ تھے اور کثر فرماتے تھے کہ:

مالک کونین ہیں گویا پاس کچھ رکھتے نہیں          دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے پاس مگر خالی ہاتھ ہیں۔

آپ نے اپنی فقری میں بادشاہ ہت کی ۔ آپ کے دروازے پر بادشاہ وگدائے آتے ہیں۔ بڑے بڑے سارفین اور سرخیل  اولیائ کرام رحمتہ اللہ علہیم ے آپ سے فیض پایا اور یہ سلسلہ زمانہ قدیم سے جاری ہے اور انشائ اللہ تادم حیات کائنات جاری رہے گا۔

لاہور میں آمد :

آپ کی لاہور آمد کا قصہ بہت مشہور ہے۔ آپ اپنے علاقے میں آرام وچین کی زندگی بسرکررہے تھے اور آپ کے پیر بھائی حضرت شیخ حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ لاہور میں مقیم تھے ۔ آپ کو مرشد نے لاہور جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ نے لاہور کی راہ اختیار کی ۔ جب لاہور میں داخل ہوئے تو اسی رات کو حضرت شیخ حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے لاہور آنے سے لاہور والوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اور عوام اور زبان خلق نے لاہور کو داتا کی نگری کا مبارک نام دے دیا جوکہ تا قیامت باقی رہےگا۔ انشائ اللہ آپ 431 ہجری یا 1150 میں سلطان محمود غزنوی کے دور میں لاہور تشریف لائے ۔ اس سلسلے میں البیرونی کا قول ہے کہ ہندوئوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوچکی تھی ۔ جب تک یہ نفرت کی دیوار توڑنہ دی جاتی تب تک اہی ہند کے دل فتح نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ اور جوکام ایک سلطان اپنے لائو لشکر کے ساتھ نہ کرسکا ۔ وہ ایک ایسے فقیر نے انجام دے دیا ۔ جوایک گدڑی ایک مصلی ایک لوٹا اور ایک چھٹری ( ڈنڈا ) کی متاع لے کر لاہور پہنچے تھے ۔ انہوں نے لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے نام سے شہرت پائی ۔ حضرت داتا گنج بخش کو بادشاہ اور امرائ سے سخت نفرت تھی ۔ انہوں نے اس کا اظہار اپنی مشہور اور گرانقدر تصنیف کشف المحبوب میں جابجا فرمایا ہے۔ ان کی اس نفرت کا یہ سبب تھا کہ ۔ امرا ئ عوام کو لوٹتے تھے اور اسلام کے احکام سے روگرداں تھے ۔

اس لئے حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں کو امرائ سے راہ رسم قائم کرن کی سختی سے ممانعت کرتے تھے لہذا آپ خود بھی بادشاہ رئوسا اور امرائ سے دور رہتے تھے اور اپنے اہل احباب کو ان سے الگ رہنے کی تلقین فرماتے ہیں۔

شادی :

آپ نے ساری عمر مجرو نہیں گزاری بلکہ سنت رسول  کو پورا کرتے ہوئے آپ نے ایک شادی کی جس کے بارے میں آپ نے خود اپنی تصنیف ترویج وتجرید میں لکھا ہے کہ :۔

حق تعالیٰ نے مجھے گیارہ برس تک شادی کی آفت سے محفوظ رکھا۔ لیکن اس فتنہ میں مبتلا ہونا مقدر میں لکھا تھا۔ میں نے اسے دیکھا بھی نہ تھا مگر ا کی جو صفات مجھ سے بیان کی گئی تھیں انہیں سن کر میرا ظاہر وباطن اس کا اسیر وقیدی ہوگیا اور میں ایک سال تک اس ک خیال میں مستعرق رہا۔ نزدیک تھاکہ میرا دن تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔ حق تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم اور تمام فضل س ےمیرے دل بے چارہ پررحمت کی اور اس سے خلاصی فرمائی ۔           

اولاد :

اولاد کے بارے میں نہ تو آپ نے خود ہی اپنی مشہورشہر آفاقصنیفات میں ذکر فرمایا ہے۔ اور نہ کسی تزکرہ نویس نے ہی آپ کی اولاد کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ اس سے یہ بھی اخذ کرنا مشکل ہے۔ کہ آپ کی اولاد نہیں تھی کیونکہ آپ کی کنیت ابوالحسن تھی ۔ (کشف المححجوب ص 17 سے اس کا ثبوت ملتاہے۔)

یہ کنیت آپ کے صاحب اولاد نہ ہونےکی دلیل ہے۔ اس معاملے میں کوئی شک نہیں کہ بعض بزرگوں نے فرضی کنیت بھی اختیار کرلی تھی مگر چونکہ آپ نے بھی کی لہذا شادی ہونے کی صورت میںکنیت کو فرضی قراردینا عقل سے بعید نظرآتاہے۔ مگرآپ کی اولاد کا کہیں تذکرہ بھی نہیں ملتا ۔ اگر آپ کی اولاد ہوتی تو جلد یا بدیر اس کو ظاہر ہوجانا چاہیے مگرآج تک اس قسم کا کوئی اشارہ کہیں سے نہیں ملا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شادی تک اس قسم کا کوئی اشارہ کہیں سے نہیں ملا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شادی اولاد کے لئے شرط ہے مگر اولاد صرف فضل خداوندی سے ہی ہوتی ہے۔ صرف شادی سے نہیں ہوئی لہذا آپ کی کوئی اولاد نہ تھی ۔

وفات:

آپ لاہور میں 431 یا 1150 میں تشریف لائے ۔ آپ سے پہلے لاہور میں آپ کے پیر بھائی حضرت شیخ حسین زنجائی جوکہ بہت بڑے صوفی اور بزرگ درویش تھے۔ آپ اپنے مرشد کے حکم سے لاہور پہنچے تو اسی رات حضرت حسین زنجائی رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ جارہاتھا۔ ( فوائد الفوائد)

آپ نے 465 میں یا 1184 میں وفات پائی۔ مولانا عبدلرحمن جامی مصنف نغمات الانس 465 اور صاحب تذکرہ الاصفیا نے 464 اور داراشکوہ صاحب سفینتہ الاولیا 465 تحریر فرماتے ہیں۔ اور خانقاہ کے اندارونی دروازے پر بھی یہی تاریخ تحریر ہے۔

جونکہ سردار ملک مفتی دبود           سال وصلیش برآئید

آپ کا روضہ مبارک لاہور شہر میں بھاٹی دروازے کے باہر واقع ہے جوکہ زیارت گاہ خواص وعوام ہے یہ مزار سب سے پہلے سلطان محمود غزنوی کے برادرزادے سلطان ابراہیم بن سلطان مسعود غزنوی نے تعمیر کروایا تھا۔ دور ونزدیک سے لوگ ہر روز حاضری دینے کےلئے آتے ہیں ۔جمعرات کے دن آپ کے مزار پر خاص رونق ہوتی ہے۔ آپ نے 34 سال تک لاہور میں دین کی تبلیغ میں زندگی گزاری ۔

کرامات :

اکثر اولیائے کرام اور بزرگان دین کے ساتھ بہت سی کرامات اور انبیائے کرام کے ساتھ معجزات وابستہ ہوئے ہیں۔ مگر حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے خود اپنی تصنیف کشف المححجوب میں معجزات اور کرامات میں فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ۔

پھل صاحب کرامت کے لئے ہوتا ہے اور نیز صاحب معجزہ معجزہ کا یقین کرلیتاہے۔ اور ولی یقین نہیں کرسکتاہے۔ وہ کرامت ہے یا استداراج اور نیز صاحب کی ترتیب میں تصرف کرتا ہے اور ولی چارہ نہیں ہے اس واسطے کسی وہ سے ولی کی کرامت نبی کی شریعت کے حکم کے منافی نہیں ہوسکتی ۔

آپ نے مزید کشف المححجوب میں تحریر فرمایا ہے کہ مشائخ کے گروہ اور تمام اہل سنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر کسی کافر کے ساتھ ہاتھ سے کوئی معجزہ کرامت کے مثل سے کوئی کام خلاف عادت ظہور میں آئے اور اس ظہور کی وجہ سے شبہ کے اسباب منقطع ہوں اور اگر کسی شخص کو اس کے جھوٹ جیسا کہ فرعون نے چار سوسال تک عمر پائی اور اس کو اس دوران بیماری لاحق نہ ہوئی تھی اور پانی اس کے پیچھے اونچا ہوتاتھا۔ اور جب وہ کھڑا ہوتا تھا تو پانی بھی ٹھہر جاتاتھا ۔ اور جب وہ چلتا تھا تو پانی بھی چلنے لگتا تھا۔

مگر ان سب باتوں کے باوجود اس کے دعوئوں میں عقلمندوں کو شبہ نہیں پکڑتاتھا ۔اس لئے اس نے دعوی خدائی کیا ہواتھا اور عقلمند اس حالت میں بحال اضطراری ہوتے تھے ۔ اس لئے کہ خداوند کریم جسم اور مرکب نہیں ہوتا اور اگر ایسے کام اور اس کی مانند اور بھی دوسروے فرعون سے ظاہر ہوں توبھی عقلمندوں کو اس دعوے کے جھوٹا ہونے میں شبہ نہ ہوتا اور وہ صاحب شداد ارم اور نمرود کے بارے میں روایت کرتے ہیں اس قبیل سے ہے۔ اس کا قیاس بھی اس پر کرنا چاہیے  اور اس مثل سرور کائنات حضرت محمد نے ہم کو جو خبردی ہے کہ :

آخر زمانہ میں وجال آئے گا اور خدائی کا دعوی کرے گا اور اس کے دائیں ایک ایک پہاڑ چلتا ہوگا۔ دائیں طرف کے پہاڑ پرطرح طرح کے عزابوں اور عقوبتوں کا سامنا ن ہوگا۔ اور خلقت کو اپنی ربوبیت کی دعوت دے گا۔ اور جو اس کی دعوت کو منظور نہ کرلے گا اس کو طرح طرح کے عزابوں میں جکڑ دے گا اور خداوند تعالیٰ اس کی گمراہی کے سبب خلقت کو مارے گا اور جہاں بھی مطلق حاکم چلاتے ہوئے ہوگا اگرچہ اس کی بجائے سوگنا خلاف عادت افعال کا اس سے ظہور ہوگا مگر عقلمند کو اس کے جھوٹا ہونے پر کوئی شبہ نہ ہوگا۔

حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے ولی کی ولایت اور کرامت پر جو مفصل بحث کی ہے اس کا لب ولباب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کچھ کو اپنا دوست بنا لیتاہے۔ اور ان کی صفات یہ ہیں کہ

وہ دنیاوی مال ودولت سے بے نیاز ہوکر صرف اللہ تعالی ٰ سے محبت کرتے ہیں ۔ جبکہ دوسرے لوگ ڈرتے ہیں تو وہ نہیں ڈرتے اور جب دوسرے غمزدہ ہوتے ہیں تو وہ نہیں ہوتے اور جب ایسے لوگ دنیا میں نہیں رہیں گے۔ تو قیامت آجائے گی۔حضرت علی ہجویری فرماتے ہیں کہ :

ولی اللہ وہی ہوتا ہے جو ہرطرح کے لالچ اور نفس کی حرص سے پاک اور آزاد ہو۔ اسرار خداوندی سے آگاہ ہوتو اس سے کرامت ظاہر ہوسکتی ہے۔

ذیل میں حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی چند آگاہ کرامات کا ذکر کرکیا جاتاہے۔ تاکہ قارئیں کا یقین پختہ اور مستحکم ہو۔

نیک اعمال کی جزا:

آپ نے کرامات کے موضوع پر یوں فرمایا ہے کہ :

ایک روز صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یارسول اللہ پہلی امتوں کے عجائبات سے کوئی عجب بات ہم کو سنائے تو حضور اکرم نے ارشار فرمایا،۔ تم سے پہلے تین آدمی کہیں جارہے تھے ۔ جب رات کا وقت آیا تو انہیوں نے ایک غار میں قیام کیا۔ جب رات کا کچھ حصہ گزرگیا ۔ تواس وقت پہاڑ سے یک پتھر کڑھک کر غار کے منہ پر مثل سرپوش کے قاہم ہوا تو وہ تینوں آدمی حیران ہوئے اور وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ ۔

یہاں سے رہائی حاصل ہونا مشکل ہے۔ وہاں یک چیز ہمیں رہائی دلا سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم اپنے نیک اعمال کو بیان کرکے خدا کی بار گاہ میں بطور شفاعت پیش کریںَ

ان میں سے ایک دوست نے کہا کہ۔ میرے ماں باپ زندہ تھے ۔ او میرے پاس دنیا کے مال سے چند بکریاں تھیں ان کے علاوہ اور کوئی چیز نہ تھی ۔ میں انہیں بکریوں کا دودھ پلایا کرتا تھا اور میں ہرروز لکڑیوں کا ایک گھٹا لاکر بازار میں فروخت کرتا اور اسکی قیمت سے اپنے ماں اور باپ کے لئے کھانا خرید کرلے جاتاتھا۔ ایک رات دیر سے پہنچا ۔ آکر بکریوں کا دودھ دوھ کرکھانا اس میں بھگو دیا اور ایک پیالہ بھر کر ان کی طرف کھلانے کے لئے آیا تو میرا انتظار کرکے سوچکے تھے۔ میں نے انہیں اٹھانا مناسب نہ سمجھا ۔ پیالہ ہاتھوں میں لے کر اس جگہ کھڑا ہوگیا کہ جب بیدار ہوجائیں گے اس وقت کھانا کھلا دوں گا۔ نیند سے بے آرام کرنا مناسب نہیں۔ اور میں نے خود بھی کوئی چیز نہ کھائی تھی ۔ بس وہیں کھڑے کھڑے صبح ہوگئی ۔ جب والدین بیدار ہوئے تو میں نے انہیں کھانا کھلایا اور بعد میں کود کھایا۔ عرض یہ کہ یا خدایا اگر میرایہ عمل تیر بارگاہ میں منظور ہے تو پتھر میں شگاف ڈال دے ۔ پیغمبر حضور  فرماتے ہیں کہ اس وقت وہ پتھر حرکت میں آیا اور اس میں شگاف پڑ گیا۔

دوسرے آدمی نے کہا ۔ میرے چچا کی کڑکی تھی اور میں اس کے جمال کا عاشق تھا۔ میں نے کئی مرتبہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ آخر میں موقع پاکر اس کے پاس ایک سوبیس دینار بھیجے تاکہ ایک رات مجھ سے خلوت کرے تو جب میں اس کے قریب خلوت میں گیا تو میرے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوا۔ میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھوڑدیا اور دینار بھی واپس نہ لئے۔ اس نے عرض کی۔ یا خدایا ! اگریہ عمل تیری بارگاہ میں قبول ہوا ہے تو اس پتھر میں شگاف ڈال دے ۔

حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ۔ اس وقت پتھر نے دوبارہ حرکت کی اور پہلے ی نسبت شگاف میں زیادتی ہوئی ۔ مگر اتنا شگاف نہ تھا کہ جس باہر نکلا جاسکے ۔

اس پر تیسرے آدمی نے کہا:

میرے پاس مزدوروں کی ایک جماعت تھی اور وہ میرا کام کیا کرتے تھے ۔ جب کام ختم ہوگیا تو سب مزدوروں نے مزدوری وصل کرلی مگر ایک مزدو بلا کسی وجہ کے غائب ہوگیا۔ میں نے اس کے پیسوں کی ایک بکری خرید لی ۔ دوسرے سال وہ دو ہوگئیں اور تیسرے سال چار ہوگئیں ۔ ہرسال وہ بڑھتی تھیں۔ حتی کہ چند سالوں میں بہت سا مال جمع ہوگیا۔ پھر وہ مزدور تھی آگیا۔ اور کہنے لگا میں نے ایک سال تیری مزدوری کی تھی ۔ اب مجھے مزدوری دے دو تاکہ میں اپنی حاجت میں اسے صرف کروں ۔ میں اسے کہ کہ یہ تمام بکریاں اور مال تیر ملکیت ہے۔ اس شخص نے کہا۔ مجھ سے تمسخر مزاق مت کرو ۔ میں نے کہا یہ سچ ہے کہ ان سب کاتوہی مالک ہے۔ میں نے تمام مال اس کے آگے لگایا اور وہ لے کر چلا گیا۔ عرض کی خدایا اگر میں نے یہ عمل تیری رضا مندی کےلئے کیا تھا تو پتھر کو اتنی مقدار میں ہٹا دے کہ ہم باہر نکل سکیں۔

پیغمبر نے فرمایا کہ وہ پتھر اس وقت غار کے منہ سے علیحدہ ہو گیا اور ان تنیوں نے نکل کر اپنے گھروں کا راستہ لیا۔

رائے راجو کا مسلمان ہونا:

جب حضرت علی ہجویری لاہور میں آئے تو اس وقت لاہور میں مودوربن سلمان مسعود کی جانب سے رائے راجو لاہور کا حاکم تھا۔ رائے راجو کو مسلمانوں کے ہاتھوں سومنات اور دیگر ہندومندوں کی تباہی نے ہندو دھرم سے تنفرکردیا تھا۔ اس دن رات کے ریاضت سے استدراج کی طاقت حاصل کر لی تھی ۔ اور اسے راجو جوگی کہا جانے لگا۔ جب حضرت داتا گنج بخش لاہور پہچنے تو اس نے آپ کے کام میں رکاوٹ کھڑی کرنی چاہی اور آپ کو خوارق عادت کاموں سے سرعوب کرنا چاہا لیکن جیسا کہ عام اصول ہے کہ حق کے سامنے باطل کبھی نہیں ٹہر سکتا۔ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی ایک ہی نگاہ کرم سے راجو جوگی نے کلمہ توحید پڑھ لیا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گیا ۔ اور اس کا درجہ اس حد تک بلند ہو کہ اس نے شیخ ہندی کا لقب پایا اور داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین اور خلیفہ مجاز کی مسند حاصل کرلی ۔ اسلام لانے کے بعد اس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ آپ نے راجو جوگی کے دل کواس برح صیقل قلعی کردیا کہ وہ آپ کے وصال کے بعد واحد خلیفہ ہوئے اور جس کی تعمیر میں حضرت داتا گنج بخش کے ساتھ مل کر حصہ لیا اس کے امام بھی مقرر ہوئے۔ ایک ہزار سال سے خانواز شیخ ہندی حضرت داتا گنج بخش کی سجادہ نشینی کے منصب پرفائز رہاہے۔

فعل قبیح سے توبہ:

بصرہ میں ایک ریئس اپنے باغ میں گیا تو اس کی نگاہ سنار کی خوبصورت کڑکی پر پڑٰی اس کا خاوند بھی ہمرا تھا۔ تو اس خاوند کی کسی کام کے لئے باغ سے باہر بھیج دیا اور اس حسینہ عورت سے کہا۔ تمام دروازے بند کردو۔

اس عورت نے کہا ۔ میں تمام درواے بند کرسکتی ہوں مگر ایک دروازہ بند نہیں کرسکتی ۔

ریئس نے کہا۔ ان دروازوں کے علاوہ کون سا دروازہ ہے جسے تو بند نہیں کرسکتی۔ اس عورت نے جواب دیا ۔ یہ دروازہ ہمارے خدا تعالیٰ کے درمیان ہے وہ ریئس بڑا پشمان ہوا اور اس نے اس قبیع فعل سے توبہ کرلی۔

گائیوں کا زیادہ دورھ ہوجانا:

جب حضرت علی بن عثمان رحمتہ اللہ علیہ لاہور میں تشریف لائے تو آپنے راوی کے کنارے ڈیرے ڈال دیئے ۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادات واذکار میں وقت گزارتے تھے ۔ آپ کے پاس سے ہندو عورتیں دودھ لے کر جاتی تھیں اور وہ دودھ روجو جوگی کے ہاں پہنچاتی تھیں آپ کو کشف کے ذریعے اس کا علم ہوگیا ہندو عورتیں راجو جوگی سے بہت خائف تھیں۔ تو ایک دن حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے ایک دودھ لے جانے والی عورت سے دودھ مانگا تو اس نے کہا۔ یہ دودھ راجو جوگی کاہے۔ اگر اس کو نہ دوں کی تومیری گائیوں کا دودھ خشک ہوجائے گا۔ آپنے اس عورت کو تسلی دی اور کہا۔ تم دودھ ہمیں دے دو۔ تمہاری گائیوں کا دودھ کم نہیں ہوگا۔ آخر کار اس عورت نے اآپکو دودھ دے دیا۔ اور راجو جوگی کے پاس جب دودھ نہ پہنچا تواس کو فکر لاحق ہوا جب اس کو علم ہواتو اس نے آپ کے ساتھ آکر مناظرہ کرنا شروع کیا اور آخر کار رہمت بار کر مسلمان ہوگیا۔ اس کےساتھ ہی ہندوئوں کی گائیوں کے دودھ میں اضافہ ہوگیا۔ عورتوں نے بلا نامل آپ کو دودھ دینا شروع کریا۔

قبلہ کی درستی:

آپ نے لاہور میں آکر سلسلہ تبلغ واشاعت کا کام شروع کردیا آپ نے یہ کام شروع کیا ۔ حقیقت میں مسجد ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں اشاعت تبلیغ دین کو تقویت پہچنتی ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ ۔

جب میں ہندوستان پہچا تو نواح لاہور کو جنت نظیر پایا اور ایہیں بیٹھ گیا اور کڑکوں کو پڑھانا شروع کردیا۔ لیکن جب میں نے محسوس کیا کہ اس طریقہ سے حکومت کی بو دماغ میں پیدا ہورہی ہے تو لوگوں کو درس دینا بھی چھوڈ دیاْ یہ وہی مسجد ہے جس کارخ ذراجنوبی سمت تھا سج پر بعض علمائے کرام نے اعتراض کیا۔ مسجد تعمیر ہونے پر آپ نے علمائے کرام کو دعوت دی اور خود امام بنے آپ نے فرمایا۔ دیکھو قبلہ کس طرف ہے۔

انہوں نے نظریں اٹھاکر سامنے دیکھا توخانہ کعبہ نظر آیا اور عین محراب مسجد کے سامنے تھا۔ یہ دیکھ کر تمام علمائے کرام اور معترضین بڑے نادم او شرمندہ ہوئے۔

کمال کشف :

داتا صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دن میں ابو الفضل ختلی کو وضو کروارہا تھا کہ اس دوران میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جب کام تقدیر اور قسمت سے بنتے نظر آتے ہیں تو پھر کیا ضروری ہے کہ آزاد لوگ خود کو بوڑھوں کا غلام بنائیں اور کرامات کا انتظار کرتے ہیں۔ آپ نے استاد ابوالفضل ختلی نے دل کے کانوں سے یہ بات سنی اور فرمایا کہ ۔ میں تیرے دل کی کیفیت سمجھ رہا ہون ۔ تمہیں معلوم ہے کہ ہرحکم کا یک سبب ہوتاہے۔ جب خدا کو منظور ہوتاہے کہ وہ ایک نوجوان بچے کے سر پر تاج رکھے تو اسے توبہ کی توفیق دے دیتاہے۔ اور اپنے دوست کی خدمت اس کی کرامت کا سبب بن جاتی ہے اس قسم کے لطیف رموز ہر روز آپ سے ظاہر ہوتے ہوئے تھے۔

لوگوں کا مرادیں پانا:

حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں شکوہ نے سفینتہ الاولیائ میں لکھا ہے کہ۔ اگر کوئی شخص چالیس جمعرات آپ کے مزار پر آکر حاضری دے تو وہ جوبھی دعاکرے گا وہ پوری ہوگی یا جوبھی وہ مراد اپنے دل میں رکھے گا وہ انشائ اللہ تعالیٰ پوری ہوگی۔ جوکہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی بزرگی کی بڑی کرامت تصور ہوتی ہے۔ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر ہزاروں لوگ آکر دعائیں کرتے ہیںَ اواپنی مرادیں حاصل کرکے واپس جاتے ہیں۔ یہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ  کی کرامت ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے مزار پر ہر آنے والے کی مراد پوری کرتاہے۔

ارشاد وتعلمات:

حضرت علی عثمان رحمتہ اللہ علیہ کی تعلمیات وارشادات ہمارے تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ کا ردجہ رکھتی ہیں۔ اور ان پر من وعن عمل کرکے دنیا وآخرت میں سرخروئی حاصل کرسکتے ہیں۔ مگرافسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے صرف ان کے مقبرے کوہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ باقی ان کی تعلمیات کو بھلا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے لکھا ہےکہ ۔

ایمان لانے کے لئے سب سے پہلی چیز جو بندہ فرض ہے وہ نماز ادا کرنے کے لئے طہارت ہے۔ طہارت کے احکام بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ۔ طہارت دو قسم کی ہوتی ہے۔ جسم کی طہارت دکی طہارت جس طرح بدنی طہارت کے بغیر نماز نہیں ہوتی اسی طرح دلی طہارت کے بغیر معرفت حق میں نہیں ہوتی بدی طہارت کے لئے خالص بانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔غلط سلط اور پریشان اعتقادکی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آپ نے فرمایا کہ ۔ ظاہر کی طہارت پانی سے ہوتی ہے اور باطن کی طہارت توبہ کرنے سے اور خدا تعالیٰ کی جنات میں رجوع کرنے سے ۔ آپ نے فرمیایا کہ اہل سنت والجماعت اور تمام مشائخ معرفت کے نزدیک یہ بات جائز ہےکہ اگر کوئی شخص ایک گناہ سے توبہ کرے لیکن دوسرے گناہ کرتا رہے تو خدا تعالیٰ اس گنا ہ سے باز رہنے کا ثواب اسے دے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتاہے۔ کہ اس گنا سے توبہ کی برکت سے وہ دوسرے گناہوں سے بھی توبہ کرلے۔

آپ نے نماز کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا:

جسم کی طہارت جو ظاہر میں نجاست اور باطن میں خواہشات نفسانی سے پاک ہونا ضروری ہے۔ لباس کی طہارت جوظاہر نجاست وباطن میں مال حرام سے نجات حاصل کرناہے۔ مکان کی طہارت جو ظاہر میں نجاست اور باطن میں فساد اور گناہ سے بچنا ہے۔ قبلہ روہونا۔ قبلہ ظاہر کا کعبہ شریف اور باطن کا عرش معلی اور مشاہدہ سرہے۔ قیام ہے ۔ ظاہر یہ ہےکہ وقت درست ہواور قیام باطن یہ ےکہ حقیقت کے درجہ میں اس کا وقت ہمیشہ رہے چھٹی شرط حق تعالیٰ کی طرف سے توبہ حاصل کرکے خالص نیت کرناہے۔ ساتویں شرط ہیبت الہی اور فنائے صفت کے مقام میں تکبر کہنا الغرض حج سے مقصود خانہ کعبہ کا دیدار نہیں بلکہ اس سے مقصود مشاہدہ حق ہے ۔

سیرت:

آپ نے افغانستان کے شہر غزنی سے آکر لاہور میں سکونت اختیار کی اور مفتوحہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ لوگوں کے حالات وکرادر کا علم حاصل ہو۔ آپ نے ہندو آبادی کے عقائد اور رسوم سے آگاہی حاصل کی مگر آپ کے پیش نظر صرف اسلام کی تبلیغ کا کام تھا اس لئے آپ نے محبت کے باب میں اشاعت دین کےلئے تلوار پر زبان کو فوقیت دی ہے۔ اور آپ نے ایک بزرگ کایہ مقبولہ بھی لکھا ہےکہ ہندوئوں میں محمود کی تلوار کا غلام بننے کی نسبت محبت کا غلام بننے کی رغبت زیادہ پائی جاتی ہے۔ آپ کی آمد کا بڑا مقصد پنجاب کے مختلف لوگوں کے عقائد کی اصلاح تھا۔ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے عوام اور مسافروں سے حسن سلوک کا عہد پورا کیا۔ آپ نے اپنے حسن سلوک اور اعلی کردار سے ہندوئوں کو اسلام راٖغب کیا۔ بہر حال حضرت داتا گنج بخش انہی بزرگان دین میں سے تھے  جنہوں نے شجر اسلام کی تن دہی سےآبیاری کی اور اپنے حسن عمل اور اعلی اخلاقی اقدار سے مخلوق خدا کے دلوں کو مسحور کیا۔ آپ کی تبیغ کا اسلوب ارشد وہدایت کا طریقہ موثر اور سادہ تھا۔ لوگ والہا نہ طورپر آپ کی طرف کھنچے آتے تھے ۔

فضائل :

آپ اپنی زندگی میں بڑھے سخی اور دریادل انسان تھے ۔ آپ کے درپربادشاہ بھی حاضری دیتے تھے ۔ اور فقرائ بھی براجمان ہوتے تھے ۔ بڑے بڑے عافین او سرخیل اولیائ نے اس در سے فیض حاصل کیا ۔ داراشکوہ نے اپنی تصنیف میں دربار داتا گنج بخش پر جمعرات وجمعہ کے ایام میں زیارت کے لئے آنے والے کی کیفیت یون تحریر کی ہےکہ ۔ جوکوئی چالس جمعرات یا چالیس یوم متواترن شیخ علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ شریف کا طواف کرے اس کی حاجت پوری ہوگی۔ کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں کژت سے ذکر الہی ہوتاہے۔ اور ذکر خدا کی فضیلت مسلم ہے۔ جس طرح زمین سے انسانوں کو رات کے وقت آسمان تارے چمکتے نظر آتے ہں اسی طرح آسمان پر فرشتوں کو وہ مقامات جہاں ذکر الہی ہورہا ہو تاروں کی مانند چمکتے نظر آتے ہیں۔ اولیائ کام اللہ کے دروازوں پر دستک دینے والے مایوس نہیں جاتے ۔ حضور نبی کریم کا اشاد گرامی ہےکہ ۔ جوشخش کسی کریم کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے آخر اس کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے۔ اور وہ اس کے اندر چلاجاتاہے ۔

حضرت امام اعظٰیم  ابو حنیفہ کے ساتھ عقیدت :

حضرت علی ہجوری رحمتہ اللہ علیہ شام میں حضرت بلا حبشی کے مزار اقداس کے سرہانے محو خواب تھے ۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہیں۔ اور حضور اکرام ایک بزرگ کو آغوش مبارک میں بچے کی طرح اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور اس حالت میں ستیبہ میں داخل ہورہے ہیں۔

یک زمانہ صحبت با اولیائ                                بہتر از صد سالہ اطاعت بے ریا

آپ کے لاہور میں آنے سے لاہور والوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا آپ نے لاہور کی آبادی کے ذہنوں کو صیقل کردیا ۔ خدائے واحدہ لاشریک کی     شان کریمی سے متعارف کرایا ۔ سینکڑوں آقائوں کی غلامی سے نجات دلا کرآپ نے ہندو جوگیوں کے پرقریب طریقوں میں جکڑے ہوئے لوگوں کو ایمان واسلام کی شعاعوں سے منور فرمایا۔ لوگوں کے دلوں میں خدائے واحد کی وحدانیت کا تصور پیدا کیا۔ آپ کی آمد سے مسلمانوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آپ صوفیا ئے کرام کے لئے مشعل راہ کا کام دینے والا تھا۔ آپ بہت بڑے عالم دین اور عظٰیم مصنف ومولف بھی تھے ۔ آپ کی تصنیف کشف الھحجوب ایک لاثانی اور لازوال ذخیرہ علم ہے جوکہ تادم کائنات لوگوں کےلئے مشعل راہ کا کام دیتی رہے گی۔

حضرت داتا گنج بخش اور کشف المحجوب لازم وملزوم ہیں۔ 

Message Now For Istikhara