Tazkira tul Auliya: Hazrat yosaf (A.S)

حضرت یوسف علیہ السلام:

حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ نہایت اہم اور سبق آموز ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو قرآن مجید میں احسن القصص کہہ کر بیان فرمایا ہے۔ جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہےکہ۔

ہم آپ سے بہتر قصوں میں سے ایک                               قصہ بیان کرتے ہیںَ اس کے واسطے کہ بھیجا ہم نے تیری طرف قرآن اور توتھا پہلے اس سے بے خبروں میں سے ۔

اس قصے میں صبر ہمت اور دوسری برائیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس قصہ کے مطابق حضرت یعقوب علیہ السلام کنعان میں رہتے تھے ان کی بیوی راحیل نے بنیامین کے ہونے کے بعد وفات پائی ۔ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر پانچ سال تھی۔ حضرت یوست کی والدہ کی وفات کے بعد ان کی خالہ نے ان دونوں بنیامین اور یوسف کی پرورش کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ آپ کنعان سے فلسطین میں آگئے تھے۔ آپ کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ایک بیٹے جوکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے وہ حضرت یوسف علیہ السلام بھی تھے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نہ صرف بے حد خوبصورت تھے بلکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ان سے اتنی محبت تھی کہ وہ حضرت یوسف عیلہ السلام کو اپنے سے ایک لمحہ بھی جدا کرنا پسند نہ کرتے تھے ۔ ایک دن دوپہر کے وقت حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد کے پاس سورہے تھے کہ اچانک گھبراکر آنکھیں کھول دیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے گھبرائے ہوئے بیٹے سے پوچھا کیا ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام ے جواب میں ایک خواب سناتے ہوئے کہا، میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ لکڑیاں کانٹے کے لئے جنگل میں گیا وہاں ہم نے لکڑیاں کاٹ کر گٹھریاں باندھیں اور سروں پر اٹھا کرگھروں کو واپس آئے۔ یہاں ہم نے اپنا گٹھریاں زمین پر رکھ دیا تو میرے گٹھرمیں ہری بھری شاخیں اور پھول کھلنے لگے جبکہ دوسرے گٹھٹر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے اور میں بھی اس کے سامنے سجدہ کیا۔ اس کے بعد میں جاگ گیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف عیلہ السلام کایہ خواب سنا تو سمجھ گئے کہ یہ خواب حضرت یوسف علیہ السلام کی بزرگی اور فضیلت کی نشانی ہے۔۔ آپ نے انہیں پیارکیا اور اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنے کی تلقین کی لیکن چونکہ حضرت یوسف کمسن تے اس لئے انہوں نے وہ جواب جب اپنے بھائیوں کو سنایا حضرت یوسف کا مذاق اڑایا۔ ایک سال کے وقفہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے دوسرا خواب دیکھا اور ا کا ذکر پھر حضرت یعقوب علیہ السلام سے کیا اور بتایاکہ۔ میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک عصاہے۔ میں نے اس کو زمین میں گاڑ دیا ہے جس جگہ میں نے اس عصا کو گاڈا وہاں خودبخود جڑیں پھیلنے لگیں اور میرا عصا ایک درخت کی صورت اختیار کرگیا اور سرسبز ہوگیا۔ میرے بھائیوں نے بھی اپنا اپنا عصا زمین پر گاڑا لیکن ان میں سے ہرایک کا عصا ہواکے جھونکے سے زمین پر گر پڑا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب سن کر آپ کے والد حضرت یعقوب عیلہ السلام نے آپ کو پیار کیا اور کہا شکر کا مقام ہے اے یوسف علیہ السلام تیری نسل سے بڑے بڑے نبی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو منع کیا کہ یہ خواب وہ  اپنے بھائیوں کو نہ بتائے مگر۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کم سنی کی وجہ سے خواب بھی اپنے بھائی روحل کو بتادیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کایہ بھائی بہت حسد کرنے والا اور فساد پھیلانے والاتھا۔ چنانچہ اس نے ذکر جب اپنے بھائیوں سے کیاتو وہ سب کے سب حضرت یوسف علیہ السلام کے دشمن ہوئے۔ دس سال کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک دفعہ پھر خواب دیکھا کہ ۔ میں ایک خوفناک جنگل میں ہوں اور اس جگہ انسان کا نشان تک نہ ہے ۔ میں اس جگہ تنہا ہوں اور میرے پاس دس بھیڑئیے ہیں اور وہ سب مجھے گھور رہے ہیں۔  ان میں سےایک بھیڑئیے نےمجھ پر حملہ کردیا اور منہ میں دبوچ کر اس جگہ سے دور پھینک دیا۔

حضرت یعقوب یا خواب سن کر گھبراگئے اور انہیں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں سے خطرہ پیدا ہوگیا کہ وہ حضرت یوسف کو مارڈالیں گے۔ یہ اس کے بعد انہیں نے حضرت یوسف کی حفاظت کو مزید سخت کردیا۔ ایک دن حضرت یعقوب نے اپنے بیٹے کو محبت وپیار سے اپنے پاس بٹھا کر سمجھانا شروع کیا اے یوسف یاد رکھو اپنے بھائیوں پر یہ خواب ہرگز نہ کرنا۔ اگر ان کو اس بات کی خبر ہوگئی تو وہ تجھے قتل کرڈالیں گے۔ قتل کا لفظ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام دہشت زدہ ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ کیا بھائی بھائی کو قتل کر دیتا ہے۔ بیٹے کہ یہ الفاظ سن کر حضرت یعقوب بولے ۔ جب دونوں باپ بیٹا آپس میں بات کر رہے تھے تو شمعون جو کہ حضرت یوسف کا بھائی تھا کی ماں نے ساری باتیں سن کر دوسرے بھائیوں کو بیویوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کردیں اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ حضرت یوسف جھوٹی باتیں بنابنا کر حضرت یعقوب کو اپنا گرویدہ بنارہاہے۔ شمعون کی والدہ نے ان عورتوں کو اس طرح بھڑکایا کہ وہ تمام غصے میں آگئیں اور انہوں نے ان باتوں کا ذکر اپنے شوہروں سے کیا۔ اپنی اپنی بیویوں کی باتیں سن کرحضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے دل میں حسد اور شک کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ سب ایک روز جمع ہوکر حضرت یوسف کے پاس آکر کہنے لگے ۔ اے یوسف علیہ السلام جو خواب تم نے دیکھا ہے اس کے بارے میں ہمیں بھی بتائو بھائیوں کی باتیں سن کر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے سامنے اپنا خواب بیان کردیا تو سب بھائیوں نے آپس میں مشورہ کرکے یہ طے کرلیا کہ حضرت یوسف کو قتل کردیا جائے یا اس کو کسی دور دراز مقام پر ڈال دیا جائے چنانچہ منصوبہ کے تحت سب اکٹھے ہوئے اور چل پڑےحضرت یعقوب کے پاس آئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے کر جانے کی اجازت طلب کی ۔ ان کی بات سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام بولے۔ اے میرے نونہانو! یوسف ابھی کمسن ہے۔ اس لئے اس بات کا ڈر ہےکہ کہیں اس کو بھیڑیا نہ اٹھالے جائے ۔ حضرت یعقوب کی یہ بات سن کر کڑکوں نے کہا  ہم یوسف کی دل وجان سے حفاظت کرے گئے ۔ اس کے بعد حضرت یعقوب نے حضرت یوسف سے ان کی مرضی کے بارے میں پوچھا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ان کے ساتھ جانے کی اجازت مانگی تو حضرت یعقوب علیہ السلام ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ۔ روانگی کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کچھ دور تک تو حضرت یوسف علیہ السلام کے ہمراہ گئے ۔ اس کے بعد پریشانی کے عالم میں واپس آگئے۔

بہن کا خواب :

جب حضرت یوسف علیہ السلام کی بہن جوکہ کنعان میں ہی تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ کہں چلے گئے  اس نے سوتےمیں ایک خوفناک خواب دیکھا تو پریشان کے عالم میں اٹھ بیٹھی ۔ چنانچہ وہ فو را حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس پہچنی اوراپنا سارا خواب حضرت یعقوب کو سنایا۔ حضرت یعقوب بھی حضرت یوسف کا اتظار کررہےتھے۔ وہ خواب سن کر بولے میں نے اس کو اس کے بھائیوں کے سپرد کردیاہے۔ بات کا خواب سن کر بہن فورا اس سمت کو بھاگی جس طرح وہ گئے تھے۔ تھوڑٰی دیرکے بعد وہ ان کے پاس پہنچ گئی اور سب بھائیوں کو صحیح سلامت دیکھ کر خوچ ہوگئی اور حضرت یوسف علیہ السلام سے خوشی کے ساتھ لپٹ گئی ۔ یہ سب دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بہت غصہ آیا ۔ کیونکہ اسکے آنے سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اس صورتحال میں ایک بھائی نےآگے بڑھ کر حضرت یوسف کو زبردستی بہن سے الگ کیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو لے کر بھاگ گئے۔ بہن اس صورتحال میں بے حد پریشان ہوگئی اور روتے ہوئے واپس حضرت یعقوب علیہ السلام کے پس پہنچی تو انہوں نے پوچھا ،بیٹھی کیوں روتی ہو؟ ابا جان ! ابھی تو میں روتی ہوں شاید کچھ عرصہ بعد یوسف کے لئے میرے طرح آپ کو بھی رونا پڑے گا۔ اوراس کی جدائی میں اشکوں سے منہ دھونا پڑے گا۔

حضرت یوسف کے بھائیوں کا سلوک :

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کو لے کر اتنی دور چلے گئے جہاں انہیں یقین ہوگیا کہ اب حضرت یوسف یعقوب علیہ السلام نہیں آئیں گے۔ تو انہوں نے آپ کو کاندھے سے اتار کر زمین پردے مارا اور انہیں مارنے لگے ۔ یہ دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام پریشان ہوگئے۔ چونکہ وہ سب بھائیوں سے کمزور اور کمسن تھے اس لیے اپنی حفاظت اور بچائو نہیں کرسکتے تھے۔ خوب اچھی طرح مارنے کے بعد وہ آپ کو لے کر کوہ کنعان پر پہنچ گئے اور وہاں جاکر واپس میں مشورہ کرنے لگے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قتل کردیاجائے ۔ ابھی وہ آپس میں مشورہ ہی کررہے تھے ۔ کہ ایک آواز آئی کہ یوسف کو قتل کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے آواز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ارادہ کرلیا کہ خواہ کچھ بھی ہو یوسف علیہ السلام کو قتل کردینا چاہیے حضرت یوسف کی دونوں آنکھوں سے جن کو یعقوب علیہ السلام چوما کرتے تھے آنسو نکل آئے اور وہ روروکر اپنے بھائیوں سے کہنے لگے مجھے اب گھر پر ہی پہنچا دیں خطا میرے کیا ہے۔ یہ سن کر سب کہنے لگے کہ تونے یہ سب بات جھوٹ بناکر اپنے باپ سے کہی ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آفتاب اور مہتاب اور گیارہ ستاروں نے آکر مجھے سجدہ کیا ہے۔ شاید تیری یہی آرزو ہے کہ ہم سب تیرے زیر حکم رہیں اور اب تو تیری موت آ چکی ہے اور اس جگہ پر کوئی ایسانہیں ہے کہ تیری پشت پناہی کرسکے اور تجھ کو ہم لوگوں سے چھٹرا سکے ۔ تب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی باتیں سن کر اپنے بھائی یہود کے پاس جا کر سارا ماجرا سنانے کاارادہ کیا اور انہیں روروکر سارا واقعہ سنا تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہود کا سخت دل آپ کی باتیں سن کر موم ہوگیا اور اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا ۔ اے بھائی ! میرے پاس آکر پناہ لے ۔ میں تجھ کو موت کے چنگل سے بچالوں گا۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان کے پاس پہنچ گئے تو باقی بھائیوں نے یہود کی اس حرکت کو محسوس کیا اور سخت سست کہا ۔ یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا۔ اے بھائیو یوسف علیہ السلام کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اورنہ تم کو ایسا کرنا چاہیے بلکہ میں جوتدبیر بتائوں گا اس پر عمل کرواور فائدہ اٹھائو ۔ یہودا کی بات سن کرن سب نے یک زبان ہوکر کہا ۔اچھا توبھائی وہ تدبیر ہی بتائیے ۔ یہودا نے کہا کہ :

یوسف کو قتل کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ۔ غرض اور مقصد تو صرف اس کو جدا کرناہے۔ بجائے قتل کرنے کے اس کو اندھیرے کنویں میں ڈال دو۔ اس طرح یہ خود ہی مرجائے گا۔ اور تمہارا مقصد پورا ہوجائے گا۔ مگرایک بات کا مجھ سے عہدکرو کنوئیں میں اس پر پتھر نہ مارو گئے ۔ سب بھائی یہودا کی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے آپ کو کنوئیں پرلے گئے اور وہاں آپ کو کرتہ اتارا اور آپ کی گردن میں رسی ڈال کر کنویں تک کھنچ کرلے گئے اور جب آپ نصف کنوئیں تک پہنچے تو رسی کاٹ دی ۔ آپ پانی کی سطح پر گرنے لگے کہ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ کو فورا اپنے ہاتھوں پر درمیان میں ہی روک لیا اور آپ کو ایک پتھر پر نہایت آرام سے بٹھا کر تسلی دی ۔ اس کنوئیں کا پانی کھارا تھا۔ مگرآپ کے گرنے سے وہ میٹھا ہوگیا۔ اور اوپر کو چڑھ آیا۔ آپ پانی میں پائوں لٹکاکر بیٹھ گئے ۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں پیھنک کر وہ سب وہاں سے واپس اپنے مویشیوں کے پاس آگئے جبکہ کنوئیں میں حضرت یوسف کو غیبی آوازیں آںے لگیں کہ اے یوسف علیہ السلام غم نہ کروہم تجھے ایک بڑا ملک اور سلطنت عطا فرمائیں گے۔ یہی تیرے بھائی ایک دن تیرے پاس سوالی بن کر آئیں گے۔

حضرت یوسف علیہ اسلام کے بھائیوں نے ایک بکرا ذبح کیا اور اس کے تازہ خون حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتہ ترکرکے حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا اورانہیں بتایا کہ اے باپ تیرے یوسف علیہ اسلام کو بھیٹریا کھاگیا اوریہ کرتہ اس کی نشانی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق وہ روتے روتے ہوئے گھر واپس آئے تو حضرت یعقوب علیہ السلام انتظار  میں تھے ۔ جب ان کے کانوں میں رونے کی آوازئیں آنے لگیں توحضرت یعقوب علیہ السلام گھبرائیں ۔ تھوڑٰ دیر کے بعد سب لوگ وہاں پہن گئے  اور رورو کرکہنے لگے ۔ اے باپ !کچھ دور جانے کے بعد ہم سب جگہ جمع ہوئے گے۔ ہم سب میں یہ بات طے ہوئی کہ ہم سب بھاگ کردیکھیں گے کہ کون آگے نکلتاہے۔ چونکہ بھائی یوسف علیہ اسلام چھوٹے تھے  اس لئے ان کو اپنے ساتھ بٹھا کر بھگانا مناسب نہ سمجھا اور یوسف علیہ السلام کو کپڑوں کے پاس بیٹھا کر خود بھاگ نہ سمجھا اے باپ اگرچہ بات سچی ہے مگرآپ کب باور کریں گے۔ حضرت یعقوب کی خون میں ڈوبی ہوئی قمیض دکھائی اور بولے ۔ بڑے تعجیب کی بات ہے۔ کہ یوسف علیہ السلام کو تو بھیڑیا پھاڑ نے ڈالے اور اس کی قمیص سلامت رہے ۔ بیٹوں نے کہا ۔ آپ خواہ مخواہ ہم پر قتل کا الزام لگارہے ہیں۔ انہوں نے یہ خیال کرکے بھیڑیا بے زبان جانورہے بتا سکے گا۔ باپ سے کہا آپ ہم کو جھوٹا خیال کرتے ہیں توہم اس بھیڑیا کو پکڑ لاتے ہیں۔ چنانچہ دہ جنگل میں پہنچے اور جال بپھا کر ایک سرخ رنگ کے بھیڑئیے کو گرفتار کرلیا اور اس کو باپ کی خدمت میں لے گئے ۔ بھیڑٰیا وفور شرم سے اپنا سر جھکائے کھڑا رہا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا۔اے بھیٹرئے تونے میرے ضیفعی کا بھی خیال نہ کیا آخر میرے یوسف علیہ السلام نے تیر کیا بگاڑا تھا جوتو اسے کھالیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھٹیر ئے کو قسم دے کرکہا کہ تو صرف بتاکہ میرے یوسف علیہ السلام پر کیا گزری ؟ تونے اس کو کیوں کھایاَ

بھیٹیرئیے کی دونوں آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اس نے کہا اے پیغمبر خدا! درندہ یا خاک آتش سب نبی کا گوشت حرام ہے۔ مجھ پر تیری اولاد نے جھوٹا الزام لگایا ہے میں بالکل پاک ہوں ۔اس کے علاوہ وہ بھیڑیا کہنے گا۔ میرا ایک بھائی تھا۔ چند روز ہوئے مجھ سے جداہوکر کہیں نکل گیا۔ اس کے واسطے نکلا ہوں اور میں تین دن سے کچھ بھی نہیں کھایا پیا اور میں گزشتہ رات ہی اس صحرا میں پہنچا ہوں اور آج صبح آپ کے بیٹے میر منہ پر بکری کا لہو لگا کر آپ کے حضور پیش کررہے ہیں، بیٹوں نے بھٹیر ئیے کی زبان سے یہ بات سنی تووہ دم بخودرہ گئے ۔ اور ندامت سے اپنے سر جکائے کھڑے رہے ۔ بھیڑیا واپس جنگل کی طرف چل دیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام جب کنویں میں گرے اور حضرت جبرائیل نے آپ کو تھام رک پتھر پر بٹھا دیا تو اللہ نے کنوئیں کی تاریکی کو روشنی میں بدل دیا تاکہ حضرت یوسف علیہ السلام نہ گھبرائیں ۔ اس جگہ اتفاق سے ایک مصری قافلہ آکر اترا۔ قافلہ والے کھانے میں مصروف تھے۔ انہیں کھانے کے دوران پانی کی ضرورت ہوئی توقافلہ کے سردار نے اپنے غلام کو پانی لینے کے لئے بھیجا ۔ غلام نے جیسے ہی اپنا ڈول پانی کے لئے کنوئیں میں ڈالا اس وقت حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ سے کہا جلدی سے اس ڈول میں سوار ہوجائو۔ حضرت یوسف حضرت جبرائیل کا فورا کہنا مانتے ہوئے ڈول پر سوار ہوئے ۔ غلام ڈول کھنچنے لگا تو اس کو ڈول بھاری محسوس ہوا۔ اس نے کنوئیں میں جھانک کر دیکھا تو اسے ڈول میں چمکدار چیز نظر آئی جس کے سامنے چاند اور سورج کی روشنی ماند ہے۔ جب ڈول اوپر آگیا تو غلام نے یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے آقا کو پکارا اور پھر اسے قافلے کے ساتھ لے آئے۔ حضرت یوسف علیہ اسلام کے بھائی قریب ہی ایک چراگاہ میں مویشی چرارہے تھے انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے ساتھ دیکھا تو وہ قافلے والوں کے پاس گئے اور انہیں یوسف علیہ اسلام کو واپس دینے یا لٹانے کے لئے کہا۔ لیکن قافلے والوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو واپس دینے کی بجائے چند درہم دے کر خرید لیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام گئی بار خریدے اور بیچے گئے ۔ اس سلسلہ میں روایت ہے کہ جمال کو دیکھ کر کہا بوجہ لطافت ونزاکت جوچیزبھی یہ حسن وہ کھاتے گلے سے اترتی ہوئی نظر آتی تھی ۔ جب یہ حسن وجمال اپنا دیکھا توفخر سے کہا اگر میں غلام ہوتا تو کوئی شخص میری  قیمت نہ دے سکتا۔

جب آپ نے اپنے دل میں تصور کیا تو باری تعالیٰ کو ناپسند ہوا اور اسی کی پاواش میں ان پر عتاب آیا۔ راستے میں قافلے والون نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بہت سی کرامتیں دیکھی توان کے سردار نے کہا کہ یوسف علیہ السلام کی ہستی آدمیت سے بالاتر ہے۔ قافلہ والوں کو حکم دیا گیا کہ ان کے آگے کوئی نہ چلے اور ان کی زنجیروں کو بھی کھول دیا گیا ۔ چلتے چلتے یہ قافلہ مصر میں داخل ہوا تو مصر پر کالے بادل ہر طرف چھائے ہوئے تھے ۔ جیسے ہی حضرت یوسف علیہ السلام قافلے والوں کے ہمراہ مصر میں داخل ہوئے مصرمیں ہرطرف روشنی اور نور ہی نور نظر آنے لگا۔ مصر جمیل اور خوبصورت غلا م آیا ہے تو سب انہیں دیکھنے آئے ۔ عزیز مصر بیھی جب انہیں دیکھنے کےلئے آیا تو وہ وہیں کھڑا رہ گیا جہاں کھڑا تھا۔ جب تھوڑی دیر کے بعد اس کے ہوش درست ہوئے تو اس نے قافلے کے سردار سے پوچھا کہ یہ فرشتہ ہے یا نبی ؟ اس نے جواب دیا کہ یہ میرا زرخرید غلام ہے۔ اس نے تاجر اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ساتھ لیااور لے کر اپنے مکان میں آگیا اور ان کی خدمت کے لئے اپنے تیس غلام مقرر کردیے ۔ لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن اور خوبصورتی کی تعریف سن کردوردور سے آرہے گھے ۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کےلئے دودینار مقرر کر دیئے لیکن لوگوں کا اشتیاق اور ہجوم کم نہ ہوا۔

زلیخا:

طلمیوس نامی عرب کے مشہور بادشاہ کے پاس ہزاروں کنزیں اور لاکھوں غلام تھے۔ اس کی بیٹٰی کا نام زلیخا تھا جو اپنی خوبصورتی اور حسن وجمال میں لاثانی اور یکتا تھی ۔ ایک رات خواب میں اسے حضرت یوسف علیہ السلام نظرآئے تووہ ان پر فدا ہوگئی  اور جب وہ بیدار ہوئی تو اس نے محسوس کیاکہ اس نے یوسف علیہ السلام کو مصر میں دیکھا ہے۔ زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام سے ملنے کے لئے بے چین تھی اور ان کے غم میں کمزور ہوتی جارہی تھی۔ باپ نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو وجہ پوچھی ۔ پہلے تو زلیخا نے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی مگر باپ کے اصرار پر سب کچھ بتادیا۔ زلیخا کا خواب سن کر باپ نے اسے تسلی دی اور کہا میں بہت جلد لے کرآئوں گا۔ زلیخا نے دوتین بار خواب میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تووہ دیوانی ہوگئی ۔

زلیخا کا باپ چنانچہ بادشاہ تھا۔ ایک دن اس کے مشیروں نے اسے کہا کہ عالی جاہ ! بادشاہ کے لئے دور دور سے شادی کے پیغام آتے ہیں۔ اور ہربادشاہ کرنا باعث فخر خیال کرتاہے۔ تو باپ فورا زلیخا کے پاس پہنچا اور اس کی مرضی معلوم کی تو اس نے کہا کہ اس کی شادی مصر کے بادشاہ سے کردینا ۔ چنانچہ بادشاہ نے ہیرے جواہرات اور بے شمار دولت دے کراپنی کنیزوں کو مصر کی جانب روانہ کردیا۔ ان کے ساتھ زلیخا بھی تھی۔ وہ خوشی اور مسرت سے سرشار مصر ی سرزمین میں داخل ہوئی تو عزیز مصر کو دیکھ کواس کے ہوش وحواش اُڑ گئے ۔ اور وہ غش کرگرپڑٰی ۔ مگر ایک غیبی آواز آئی ۔ گھبرامت ، تیر محبوب آئے گا۔ یہ خوشخبری پاکراس نے اپنے باپ کو سنبھالا اور اٹھ بیٹھی۔

ادھر حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر کے بازار میں فروخت کرنے کے لئے لایا گیا تو ہرکوئی ان کا خریدار تھا اور ہرشخص ان کو خریدنا چاہتا تھا۔ چنانچہ عزیز، مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے وزن کے برابر دینار درہم دے کر قافلے کے سردار سے یوسف علیہ السلام خرید لیا ۔ عزیز مصر کے کوئی اولاد نہ تھی اور اس کی خواہش بھی کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کو خرید کر لائے تو انہوں نے زلیخا سے کہ اسے ہم ایک نایاب چیز خرید کرلائے ہیں اس لئے تم چاہیے کہ تم یوسف کا بے حد خیال کرو اور اس کی ہر ضرورت پوری کرو۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ عزیز مصر سورہاتھا کہ خواب میں اللہ تعالیٰ کی بشارت ہوئی کہ

اے عزیز مصر ! یوسف علیہ السلام کو زلیخا سے ہرگز جدانہ کرنا۔ ان دونوں کو ایک ساتھ ہی رہنے دینا خواب سے بیدا ہوتے ہی عزیز مصر نے زلیخا کو بلایا اور کہا۔ اے زلیخا ! یوسف کو میں نے تیرے لئے خریدا ہے لیذا توہی اس کو ہر وقت اپنے پاس رکھ ۔ جوکام یہ کہے اپنے ہاتھ سے کرنا کسی دوسرے کو نہ کرنے دینا۔

زلیخا نے عزیز مصر کو یقین دلایا کہ وہ جوکچھ کہے گا ۔ اس پر عمل کروں گی۔ چنانچہ ایک دن زلیخا نے عزیز مصر نے کوشی سے اجازت دے دی اور کچھ عرصہ کے بعد خوبصورت محل تعمیر ہوگیا۔ چنانچہ محل تیار ہونے کے بعد زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام کوکے کر محل میں داخل ہوگئیں ۔ اور محل کے ہردروازے پر تیس تیس غلاموں کو بٹھا دیا اور انہیں تاکید کی کہ کوئی شخص محل میں داخل نہ ہو۔ ان دونوں کے محل میں داخل ہوتے ہی دروازے بند ہوگئے ۔ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ اسلام کو ساتھ لیا اور انہں تخت پر بٹھا کر ان کے سامنے بیٹھ کر بولی ۔ اے یوسف یہ محل میں تیرے لئے بنوایاہے۔ جوبھی تو کہے میں کرنے کو تیار ہوں ۔

یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام نے پاگل زلیخا کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ اے ملکہ ! میں خدا سے بہت ڈرتا ہوں۔ کیا مجال جو میں گناہ کا مرتکب ہوسکوں۔ مگر زلیخا نے کہا کہ اے یوسف تو اپنے دل میں کسی کا خوف و ڈرنہ لا۔ میں تیری خاطر عزیز مصر کو زہر دے کر ہلاک کرسکتی ہوں ۔ اوراپنے درمیان آنے والی ہر رکاوٹ دور کرسکتی ہوں ۔ مگر حضرت یوسف علیہ السلام نہ مان ےاور کہا۔

نہ میں ایسا کرسکتا ہوں ۔ ہم دونوں کوایک روز ضرور خدا کے روبرو جاناہے۔

اس موقع پر انسان کا پرانا دشمن شیطان حاضر ہوا اور حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا پر بھر پور اثر دال کر معصوم نبی کے دل میں زلیخا کی خواہش پیداکردی ۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضرت جبرائیل علیہ السلام  فورا حضرت یعقوب علیہ السلام کی شکل میں پہنچے اور کہا۔

اے یوسف یہ کرتا ہے دیکھ میں میں تیری خاطر کتنی دور سے اس جگہ آیا ہوں اے یوسف ! جس کام کا تو ارادہ کررہاہے۔ نبیوں کی شان کے خلاف ہے، اگرتو گناہ کی طرف متوجہ ہوگیا تو نبوت سے تیرا نام خارج ہوجائے گا۔ اور تمام عمر دست تاسف ملے گا۔ ان کو دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام کو حیاآئی اور وہ خوف خدا سے پسینہ پسینہ ہوگئے۔ ان کے قریب ہی ایک بت پر زلیخا نے پردہ ڈال رکھا تھا۔ حضرت یوسف نے پوچھا تو زلیخا بولی اس سے مجھے شرم آتی ہے اس لئے میں نے اس پر پردہ ڈال دیاہے۔ حضرت یوسف نے جب یہ سنا تو اس نے کہا، اے زلیخا ! اگر تجھ کو اس پتھر کے بنے ہوئے بت سے اس قدر ڈر اورشرم ہے۔ تو پھر میں اپنے خدا سے کیوں نہ ڈرو اور کیوں نہ شرم وحیا کروں۔

اتنا کہنے کے بعد حضرت یوسف نے شرم سے نگاہ نیچی کی تو لکھا نظرآیا۔ جو جیسا عمل کرے گا اس کو ویسا ہی پھل ملے گا۔ اتنا پڑھتے ہی حضرت یوسف علیہ السلام نے زلیخا سے پیچھا چھڑانے کا سوچا اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ زلیخا دیوانہ وار آپ کے پیچھے بھاگی اور بھاگتے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا پھچیلا حصہ زلیخا کے ہاتھ لگ گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس بات کا کچھ خیال نہ کیا اور محل سے باہر نکل آئے۔ زلیخا کواپنی ناکامی پر بڑا دکھ ہواور غصہ کی حالت میں عزیز مصر کے پاس پہنچی اور حضرت یوسف علیہ السلام پر بہتان لگاتے ہوئے کہا کہ ۔ اس نے میری عزت لوٹنی چاہی تھی ۔ اگر میں اس کے سامنے سے نہ بھاگتی تو شاید بے عزت کردی جاتی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ سنا تو وہ غصہ میں آگئے اور انہوں نے کہا۔ اے عزیز ! یہ جھوٹ بولتی ہے۔ سچ تو یہ ہےکہ خود نفس پرستی پر مائل ہوچکی ہے۔

عزیز مصر زلیخا سے پوچھا ۔ اے زلیخا ! تیرے پاس اس کا کیا ثبوت ہے۔ تو زلیخا نے کہا۔ اے بادشاہ ! میں اوریوسف اس جگہ بالکل تنہا تھے ۔ پاس ہی ایک کنیز کی گود میں ایک شیر خوار بچہ صرف چالیس دن کا تھا اس کو خدانے یوسف علیہ السلام کی صفائی کے لئے بولنے کی قوت عطا کی تو اس بچہ نے فورا کہا۔ اے عزیز مصر ! یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو یوسف سچے اور بے قصور ہیں اور زلیخا جھوٹی اور قصور وار ہے۔ عزیز مصر نے بچے کی گوہی پر یوسف علیہ السلام کی قمیص دیکھی تو بات سچی ثابت ہوگئی اور عزیز مصر کو سب کچھ معلوم ہوگیا۔ یہ دیکھ کر عزیز مصر نے کہا مرحبا مرحبا اے یوسف تونے بڑا کام کیاہے۔ میں تجھ سے بہت خوش ہوں۔

حضرت یوسف قید میں :

عزیز مصر کو زلیخا کی اس حرکت سے بے حد شرمندگی اور دکھ ہوا۔ ایک روز اس نے اپنے مشیروں کو بلایا اور ان کی رائے طلب کی کہ کیا جائے۔ کیونکہ زلیخا کا جرم ثابت ہوچکا ہے اور زلیخا مصر کی ملکہ ہے اور اس ذلت اور رسوائی کو کیسے دور کیا جائے۔ وزیروں اور مشیروں نے کہا۔ اے عزیز ! ایک بات ہے اگر تو اس پر عمل کرے ۔ عزیز مصرنے نے ہامی بھرلی تو انہوں نے کہا کہ:۔

کیوں نہ ہم یہ جرم یوسف پرہی دھردیں اور اس پرجرم ثابت کرنے کے لئے اس کو قید میں ڈال دیں۔ اس طرح ملکہ کی بدنامی مٹ جائے گی۔ اور لوگ یوسف علیہ السلام کو مجرم تصور کریں گے۔

عزیز مصرنے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا۔ اس دوران عزیز مصر نے غصے میں آکر دواور آدمی بھی قید خانے میں ڈال دیئے ۔ ان میں ایک باورچی اور دورا شاہی شراب خانہ کا محافظ تھا۔ وہ دونوں قید خانے میں یوسف علیہ السلام سے ملے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں دیکھ کر زلیخا بے تاب ہوگئی اور ان کی یاد میں دن رات روتی رہتی ۔ ادھر قید خانے میں جو قیدی رات کو خواب دیکھتا اسے قید خانے میں موجود حضرت یوسف علیہ السلام اس کی صحیح تعبیر بتادیتے اور وہ کچھ ہوتا جو حضرت یوسف علیہ اسلام اس بتاتے ۔ اس بات سے وہ قید خانے کے اندر اور باہر مشہور ہوگئے۔

حضرت یوسف علیہ اسلام پانچ سال قید خانے میں رہے۔ اس دوران ان کے ساتھی باورچی کو پھانسی ہوگئی اور باقی رہا ہوگئے۔ جب آپ کی رہائی کےدن قریب آئے تو حضرت جبرائیل علیہ اسلام قید خانے میں تشریف لائے اور حضرت یوسف علیہ السلام پر اپنا آپ ظاہر کرتے ہوئے فرمایا۔

اے یوسف علیہ السلام ! ملول نہ ہو۔ تیرے رب نے تیری خطائیں معاف کردی ہیں۔ اور تیرا نام صابروں کی فہر ست میں لکھ دیا گیا ہے۔ میں تمہیں خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اب تمہاری رہائی کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی ورنج وغم سے نجات دلاتاہے۔ توکوئی نہ کوئی  ظاہر سبب پیدا کردیتا ہے۔

اسی دوران عزیز مصرنے ایسا خوفناک خواب دیکھا کہ وہ گھبراکر اٹھ گیا اور اسے گھبراہٹ میں خواب بھی بھول گیا۔ اس نے اپنے دربار میں مشہور نجومیوں اور مالوں کو بلاکر اس خواب کی حثیت پوچھی توکسی نہ بتایا۔ اس مجلس میں وہ شراب خانہ کا محافظ بھی تھا جو حضرت علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ اس نے بادشاہ سے اجازت طلب کرکے کہا۔

عالی جاہ ! اگر اجازت ہوتو ایک شخص کے متعلق بتائوں جو آپ کے خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتا سکتا ہے۔ اور میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو کچھ بتائے گا وہی ہوگا۔ ۔

عزیز مصر یہ سن کر بڑے خوشی ہوئے اور اسے فورا حضرت یوسف علیہ اسلام کے پاس خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے بھیج دیا۔ وہ فورا قید خانے میں پہنچا اور اس نے حضرت یوسف علیہ السلام  دعاوسلام کے بعدکہا۔ اے یوسف بادشاہ نے ایک خواب ایسا دہشت ناک دیکھا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ گھبرایا ہوا ہے اور گھبراہٹ کے عالم میں وہ خواب بھی بھول گیا ہے۔ اس نے لوگوں سے پوچھا مگر کوئی بھی نہ بتاسکا ۔ آخر خواب کے ذکر سے مجھے آپ یاد آگئے اور بادشاہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے تسلی دیااور کہا۔ اے ساقی ! عزیز مصر سے کہہ دے کہ اس نے سات موٹی گایئں اور سات دبلی گائیں دیکھی ہیں جن میں سے دبلی گائیں موٹی گایوں کونگل گئی ہیں۔ سات سرسبز گہوں کی جالیاں دیکھی ہیں اور سات خشک ۔

ساقی نے خواب آکر عزیز مصر کو سنایا وہ حیران ہوکر بولا  ہاں یوسف بڑا راست گو ہے۔ بیشک میں نے اس رات یہی خواب دیکھا تھا۔ اب مجھے اس کی تعبیر معلوم کرکے بتائو تاکہ مجھے سکون آسکے ۔ یہ سن کر ساقی دوبارہ حضرت یوسف علیہ اسلام کے پاس پہنچا اور ان سے اس خواب کی تعبیر معلوم کی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ساقی سے کہا کہ۔ عزیز مصر سے کہ دے کہ اس سات موٹٰی گائیں جو دیکھی ہیں وہ سات سال جن میں ہرچیز سستی ہوگئی۔ غلہ افراد سے پیدا ہوگا۔ ایسے خوشحالی کے سات برآئیں گے۔ اس کے بعد وہ سات دبلی گائیں دیکھی ہیں۔ وہ قحط سالی ہوگی۔ اس طرح اس سات سبز بالیوں سے    شادابی اور سرسبزی ہے۔ اور سات خشک سے مراد خشک سالی ہے۔ اے ساقی عزیز مصر سے کہ دے کہ اول کے جو سات برس خوش حالی آئیں گے ان میں اچھی طرح گوشت کی جائے ۔ اب سات برسوں کی پیداوار میں سے اتنا بچاتا جائے کہ اگلے سات سال قحط سالی کے جو آئیں گے جن میں کچھ پیداوار نہیں ہوسکے گی۔ اس زمانے کے لئے خوراک کافی ہوسکے گا۔ سات دبلی گائیں ، سات موٹی گائیوں کو کھاگئیں اس سے یہی مراد ہے۔کہ اگلے قحط سالی کے سات سال گزشتہ خوشحالی کے سات برس کی پیداوار و کھا جائیں گے۔ لہذا خوشحالی کے زمانہ میں زیادہ سے زیادہ کھیتی باڑی کی جائے اور پیداوار کو بچا کر رکھا جائے تاکہ آئندہ کام آئے اور پریشانی نہ ہو۔ ساقی نے عزیز مصر کے سامنے پہنچ کر خواب کی تعبیر جو اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے سنی تھی تفصیل سے بیان کردی۔ ساق کی بات سن کر عزیز مصر نے حضرت یوسف کو قید سے رہائی کے احکام جاری کردیے ۔ ساقی جب حضرت یوسف کے پاس آئے ۔ آپ علیہ السلام خاموش بیٹھے تھے ۔ ساقی نے کہا کہ اے یوسف بادشاہ عزیز مصرنے آزادی کا حکم دیا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ۔ اے ساقی عزیز سے جاکر کہ دو میں اکیلا اس قید سے نہیں نکناچاہتا ۔ ساقی نے یوسف علیہ السلام کا پیغام لے جاکر بادشاہ کو سنایا تو اس نے تمام قیدیوں کو آزاد کردینے کا حکم دیا ۔ ساقی نے یہ خوشخبری انہیں سنائی تو حضرت یوسف علیہ اسلام نے اسے کہا کہ عزیز سے کہ دے کہ یوسف علیہ السلام اس وقت تک قید سے باہر نہیں آئے گا جب تک زلیخا سے میرے بارے میں صاف صاف معلوم نہ کرے ۔ یہ سن کر عزیز مصر نے اسی وقت زلیخا کو طلب کیا اور اس نے عزیز مصر کے سامنے اپنے جرم کا اقبال کرتے ہوئے کہا۔

بے شک یوسف سچا اور پاک دامن ہے۔ اس میں ذرا بھر بھی برائی نہیں ہے۔ ساری میری خطا تھی۔ میں ہی مجرم اور خطا وار ہوں ۔ بے شک سچ سچ ہوکر رہتاہے۔ اور جھوٹ جھوٹ ۔ اس وقت جھوٹ اور سچ بالکل  الگ الگ خدا نے ظاہر کردئیے  یہ سن کر عزیز مصر نے کہا کہ یوسف سے کہہ دوکہ وہ سچا ہے۔ اور زلیخا نے بھی اس کی پاک دامن کی گواہی دی ہے۔ چنانچہ قاصد نے جب یہ سب کچھ حضرت یوسف علیہ السلام بتایا تو وہ قید خانے سے باہر آئے اور دربار میں حاضر ہوئے  تو بادشاہ نے اٹھ کر آپ کی تعظیم کی اور آپ کونہایت قیمتی لباس پہنا کر اپنے پاس تخت پر بٹھا کر کہا۔ اے یوسف ! آج میرے نزدیک سب سے زیادہ محترم اور مکرم ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تجھے اس سلطنت کا مختار کل بنا دوگا۔

مصر میں باتیں ہورہی تھیں ۔ دربار میں خاص وعام بے شمار لوگ موجود تھے عزیز مصر ان تمام آدمیوں کے سامنے اپنا تاج وتخت اور تلوار سب حضرت یوسف علیہ السلام کے سپرد کرکے خود سلطنت سے دستبردار ہوگیا۔ آج یوسف جو اس سے پہلے مصر میں قیدی تھا اور قید خانے میں  اپنی زندگی گزار رہا تھا اس وقت وہ مصر جیسی عظیم الشان سلطنت کا مالک تھا۔

عزیز مصر کی وفات اور قحط سالی :

جس دن حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے تخت پر بیٹھے اسی دن عزیز مصر کا انتقال ہوگیا۔ مصر کاحاکم بن جانے کے بعد جب خوب بارشیں ہوئی اور ہرطرف سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا تو حضرت یوسف علیہ اسلام نے اہل مصر کو حکم دیا کہ ہرکوئی خواہ وہ بوڑھا ہویا نوجوان طاقتور ہو یا کمزور کاشت کاری کرے اور کوئی ایسی جگہ نہ رہے جہاں کاشت کاری نہ کی جائے ۔ اس کی وجہ سے غلہ کثرت سے پیدا ہوا اور سستے داموں میں فروخت ہوا۔

حضرت یوسف علیہ السلام ننے فلتو غلہ خرید کر رکھ لیا تاکہ ضرورت کے وقت کام آسکے ۔ اس طرح ہر سال ہوتا رہا اور سات برس تک لوگ خوب کاشت کاری کرتے رہے  ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے نہ صرف لوگوں کو غلہ کم خرچ کرنے کا مشورہ دیا بلکہ آپ نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے  گھاس پھونس بھی کافی مقدار میں جمع کرلیا۔ کیونکہ آ پکو معلوم تھاکہ قحط کے دنوں میں چارہ بھی دستیاب نہ ہوگا۔

سات برس گزر گئے ۔ قحط سالی لے آثار مصر کے آسمانوں پر ظاہر ہونے لگے ۔ لوگ امید سے زیادہ پریشان ہوگئے ۔ لوگ روٹی روٹی کے لئے پریشان ہوگئے اور سوچنے لگے کہ خوراک کےلئے غلہ کہاں سے خریدیں۔؛ ان حالات میں حضرت یوسف علیہ السلام نے جمع کیا ہوا غلہ فروخت کرنا  شروع کردیا۔ پہلے سال حضرت یوسف علیہ السلام نے سونے چاندی کے بدلے میں ٖغلہ فروخت کیا اس کے بعد جواہرات کے بدلے میں پھر مویشیوں کے بدلے میں پھر لونڈٰیوں اور غلاموں کے بدلے میں ، پھر زمین اور مکان کے بدلے میں اور پھر اولاد کے بدلے میں لوگوں کو غلہ فروخت کرنا شروع کردیا۔ جب ساتواں سال آیا تو لوگ بے حد پریشان تھے کہ وہ اب کس طرح غلہ خریدیں۔

چنانچہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ۔

اے یوسف علیہ السلام ! آج سے ہم تیرے غلام ہیں۔ ہماری جانوں کے بدلے میں ہمیں غلہ عنایت فرما۔ اے یوسف ہم تیری غلامی میں بھی خوش ہیں۔

لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے ایسا نہ کرنے کا اعلان کیا اور ان کی وہ سب چیزیں ان کو واپس لوٹا دیں جو پھچلے سالوں میں ان سے غلے کے بدلے میں لیی تھیں اور کہا۔ اے لوگو تم سب کو میں نے بخوشی آزاد کیا اور تمہاری تمام چیزیں تمہیں واپس کرتاہوںَ

زلیخا کا حال :

عزیز مصر کے انتقال کے بعد زلیخا کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کہیں حضرت یوسف علیہ السلام مجھ سے میرے پرانے گناہوں کا حساب نہ لے گیں۔ اور مجھے گرفتار کرکے قتل نہ کردیں گے۔ اس خوف سے وہ بھاگ گئی مگر زیادہ دیر تک توپوش نہ رہ سکی اور وقت سے پہلے بوڑھی ہوگئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی انتظام سلطنت میں ایسے مصروف ہوئے کہ انہیں بھی خبر نہ ہوئی کہ زلیخا کہااور کس حال میں ہے۔ حضرت یوسف علیہ اسلام کا معمول تھا کہ ہر ماہ میں ایک مرتبہ آپ عوام کی دادرسی کےلئے نکتے اور موقع پر ہی  انصاف فرمایا کرتے اور ہرایک کو فریاد کرنے کی اجازت تھی اور ہر کوئی آپ سے براہ راست بات چیت کرسکتاتھا  ایک دفعہ بورھی زلیخا بھی اس راستہ پر بیٹھ گئی جہاں سے حضرت یوسف علیہ اسلام کی سواری گزرنی گھی وہ یہ عمل کئی بار دہراچکی بھی اور حضرت یوسف علیہ اسلام کو اپنی کمزور اور بوڑھی آواز میں بلاتی بھی تھی ۔ مگراس کی آواز حضرت یوسف تک نہ پہنچ پاتی۔

اس عمل کو کافی عرصہ گزرگیا۔ ایک روز حسب معمول آپ کی سواری آرہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا کہ زلیخا کی آواز کو یوسف تک پہنچا دو ۔ جیسے ہی آپ نے آواز سنی توآپ نے اپنے مصاحبین سے فرمایا۔

دیکھو یہ عورت کیا کہتی ہے۔ ؟ اور معلوم کروکہ کیا چاہتی ہے۔ لوگوں نے اسے آپ کے دربار میں پہنچایا تو آپ نے دیکھا کہ ایک لاغر اندھی اور بوڑھی عورت روروکر کہ رہی تھی۔ اے یوسف میں تیرے غم میں مری جا رہی ہوں ۔ میرا دم نکلا جارہا ہے۔ میری جان پر آبنی ہے۔ حضرت یوسف نے یہ سنتے ہی اس سے منہ موڑلیا اور واپس چل پڑے ۔ مگر حضرت جبرائیل آئے اور کہا۔ اے یوسف خدانے فرمایا ہےکہ بڑھیا بہت ستم رسید ہے۔ اسکی فریاد ضرور سنئے ۔ خدا کواس کے حال پر رحم آیا ہے۔ اس لئے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اللہ کا حکم سنتے ہی آپ نے فورا سواری روکی اور اتر کر اسکے پاس پہنچ کر فرمایا۔

اے بوڑھی عورت جلد بتا تو کون ہے اور کیا چاہتی ہے۔ زلیخا نے یہ سنا تو ہو زار قطار رونے لگی ۔ جب ذرا دل قابو میں آیا تو ہاتھ جوڑ کر عرض کی۔

اے میرے  جان ودل کے مالک پیارے یوسف میں تیری زلیخا ہوں تیری کنیز تیری خدمت گزار جو کبھی ملکہ مصر تھی ، مگر آج زلیخا۔ اس کے بعد وہ کچھ نہ کہی سکی اور بے اختیار رو پڑٰی حضرت یوسف کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی ۔ انہوں نے اسے غور سے دیکھا اور کہا۔اے زلیخا تیراوہ حسن وجمال کیا ہوا۔

اس کے جواب میں زلیخا بولی ۔ وہ سب تیرے غم میں پامال ہوچکا ہے۔ تیرے غم میں بڑھیا ہوگئی یوسف پھر بھی تجھے میرا خیال نہ آیا اور مجھ پر رحم نہ آیا ۔ زلیخا کو اپنے دل سے ایسا بھلایا کہ گویا وہ کوئی تھی ہی نہیں۔ حضرت یوسف نے زلیخا کی بات سنی تو فرمایا۔ اے زلیخا تجھے معلوم ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا ۔ تو سچ یہ ہے کہ تیری شکل اس قدر تباہ ہوجانے کے سبب میں شناخت کرلیتا تو اس قدر سردمہری سے ہرگز کام نہ لیتا ۔ مجھے تیری یہ حالت دیکھ کر بے حد افسوس ہے۔ اسکے بعد حضرت یوسف نے حکم دیا کہ زلیخا کو شاہی محل میں پہنچا دو اور خود گشت کے لئے آگئے بڑح گئے۔ جب گشت سے واپس آئے اور زلیخا کو طلب کیا ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئی تو آپ نے اس سے کہا اے زلیخا بیان کرتوکیا چاہتی ہے۔ زلیخا تو حضرت یوسف سے اپنی تین خواہشیں بیان کیں ۔ میری آنکھوں سے کسی طرح یہ تیر گی دور ہوجائے اور میں دیکھنے کے لائق ہوسکوں کہ تاکہ آج پھر میں اپنے محبوب یوسف کا چہرہ دیکھ سکوں ۔ اے یوسف میں تیرے غم میں وقت سے پہلے بڑھیا ہوگئی۔ ہوں ۔ میں چاہتی ہوں کہ میری جوانی مجھ کو دوبارہ مل جائے اور وہی خوبصورت مل جائے جو شباب کے عہد میں تھی ۔ آپ مجھے اپنی بیوی بنالیں ۔ میں آپ کو اپنا شوہر ہربنانا چاہتی ہوں۔ زلیخا کی یہ خواہشات سن کر اسی وقت حضرت یوسف علیہ اسلام نے اللہ سے ہاتھ اٹھاکر دعا کر اور خواہشیں اسی وقت پوری ہوگئیں ۔ مگر تیسری خواہیش پر آپ نے سرجھکا لیا تو حضرت جبرائیل عیلہ السلام تشریف لائے اور کہا۔ تیرا خداتجھے حکم دیتا ہے کہ اب تو زلیخا سے انکارنہ کر۔ خدا نے تیرے لئے ہی زلیخا کو دوبارہ جوان بنایا ہے۔

جبرائیل علیہ اسلام نے دونوں کا نکاح کردیا ۔ زلیخا نکاح سے پہلے مسلمان ہوکر دین ابراہیمی اختیار کرچکی تھی۔ نکاح کے بعد نکاح نے عبادت الہٰی کے لئے ایک مکان مخصوص کر لیا اور عشق خداوندی میں ایسی غرق ہوئی کہ اسے حضرت یوسف علیہ السلام بھی بھول گئے اور ان سے بے نیاز ہوگئی ۔ ایک دن حضرت یوسف علیہ السلام بھی اس عبادت خانہ میں تشریف لائے اور زلیخا کو ہاتھ لگانا چاہا۔ مگر جیسے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام قریب جاتے اور زلیخا کو پکڑنے کی کوشش کرتے وہ اپنے آپ کو بچاتی ہوئی پہچھے ہٹ جاتی اسی ہاتھ میں آکر پھٹ گیا۔ اس موقع پر فورا حضرت جبرائیل علیہ اسلام تشریف لائے اور کہا۔ اے یوسف یہ کوئی کڑکی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس بات کا بدلہ ہے کہ ایک دن آپ اس سے نفرت کرکے بھاگے تھے اور زلیخا آپ کو پکڑ رہی تھی ۔ اس کے ہاتھ سے آپ کی قمیص کا دامن پھٹ گیا تھا۔ آج آپ اسے پکڑ رہےہیں۔ اور وہ آپ سے بھاگ رہی ہے اور آپ کے ہاتھ سے اس کا دامن پھٹ گیا ہے۔ یہ آپ کی اس بات کا بدلہ ہے۔

یہ کہہ کر حضرت جبرائیل غائب ہوگئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی گیارہ اولادیں اور سب کے سب بچے کڑکے اور سب کے سب نبی ہوئے۔ ان کی تفصیل کے مطابق پانج حمل میں دودوبچے پیدا ہوئے اور ایک حمل میں ایک بچہ اس طرح کل گیارہ بچے پیدا ہوئے۔

قحظ سالی کنعان اور دوسرے ممالک : قحط سالی کا اثر مصر کے ہمسایہ ممالک پر ہوا اور قحط سالی کی وجہ سے لوگ بھوکے مرنے لگے ۔ لوگوں کو جب بہتری کی امید نہ پیدا غریب پرور ہے۔ میرا خیال ہے تم بھی مصر جاکر عزیز مصر سے ملو اور اس سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ حضرت یعقوب علیہ اسلام کے بیٹے کو اپنا صدقہ دے ۔اور کچھ اور باتیں نصحیتں کرے انہیں مصر کی طرف روانہ کردیا:

برادران یوسف مصر میں:

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی مصر کی سرحد میں داخل ہوئے تو پہرے داروں نے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں سے آنے کا مقصد پوچھا اور ساتھ ہی ان سے یہ پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آئے ہیں ان سرکاری حاجب ے تمام حالات لکھ کر اپنے پاس رکھ لئے اور انہیں سرائے بہت پریشان ہوئے اور حکم دیاکہ ۔

دیکھو ان کو کس قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے ۔ ان کی خوب اچھی طرح خاطر تواضع کی جائے۔ کیونکہ وہ میرے بھائی ہیں۔ ان کو شاہی محل میں ٹھہرائو ۔ اور شاہی باورچی کو طلب کرکے آپ نے حکم دیاکہ جولوگ کنعان سے آئے ہیں ان کے لئے عمدہ عمدہ کھانے تیار کرو اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کی بوریوں میں خوب غلہ اچھی طرح پھر دیا اور غؒہ قمیت جو چند کھونے درہم انہیوں نے دیئے تھے وہ بھی بوریوں میں رکھ دیئے اور مزید اور بھی نقدی اپنی طرف سے رکھ دی تاکہ وہ آسانی سے جاسکیں اورپھر آسکیں ۔ پھر ان کو مصر سے روانہ کردیا۔ وہ لوگ واپس پہچنے اور اپنے باپ حضرت یعقوب کو سارا حال بیان کردیا۔ جب بوریاں کھولیں توغلہ کے علاوہ اپنی رقم دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ لانے کےلئے کہا ہے اے باپ ہم وعدے کرتے ہیں کہ بنیا مین کو کسی قسم کی تفلیف نہ پہچنے دیں گے، اور صحیح وسلامت واپس لائیگے۔ حضرت یعقوب علیہ اسلام نے ایسا کرنے سے انکار کردیا مگر برادران یوسف خوشامد کررے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائیں اور کہا اے یعقوب علیہ اسلام خدافرماتاہےکہ آپ نبیا مین کو بے خوفوخطر بھیج دیں۔ ہم اس کے محافظ ہیں۔ ہمراہ مصر روانہ کردیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کھانے سے فارغ ہوکر نبیا مین کو بلاکراپنے آپ کو ظاہر کردیا اورکہا کہ ابھی اور بھائیوں کو مت بتانا ۔ نبیامین کی خوشی کی انتہانہ رہی اور حضرت یوسف علیہ السلام سے لپٹ کر خوب روئے اور کہا۔ اے بھائی یوسف علیہ السلام میں اب آپ کے ہی پاس رہو گا۔ مجھے واپس نہ بھیجئے یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام بولے ۔ میں نے تمہیں یہاں رکھنے کی ایک ترکیب سوچی ہے تم اس پر اداس مت ہونا اچھا بنیا مجرم ثابت ہوچکا ہے۔ اب تم اس کو نہیں لے جاسکتے ہیں۔

حضرت یعقوب کا استقبال :

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ مصر سے نکل کردو منزل آگے باپ کا استقبال کرنے کےلئے تیار تھے۔ ادھر حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ حال تھاکہ جب کسی سے راستے میں ملاقات ہوتی تواس سے پہلے یہی بات دریافت کرتے کہ بتائو میرا یوسف کہاں ہے۔ کیا تم لوگوں میں سے رہنے کیسے ہیں ۔ ہم لوگ تو ان کے غلام ہے۔ چنانچہ اس راستے سے تقریبا اسی سوار اونٹ پر گزرے ۔ ان سب سے حضرت یعقوب نے حضرت یعقوب کے استقبال کےلئے زبردست انتظام تھا۔ فوج اور تمام اہل شہر نے حضرت یعقوب کا شان وشوکت سے استقبال کیا۔ جب چالیس برس کے بچھڑے ہوئے باپ بیٹا آپس میں ملے تو اس وقت کی کیفیت بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں بہر حال حضرت یوسف سب کو لے کر شاہی محل میں آئے اور سب ایک جگہ رہنے لگے۔ کچھ عرصے تو حضرت یعقوب علیہ السلام شاہی محل میں رہے مگر پھر انہوں نے شہر سے باہر ایک مکان میں رہنے کی خواہش کی تو حضرت یوسف نے انہیں ایک عالی شان مکان بناوادیا باقی سب بھائیوں کو بھی اچھے اچھے مکان بنادیئے حضرت یوسف اپنے والد کے پاس رہتے اور صبح اموار سلطنت میں مصروف ہوجاتے اس طرح سب لوگ امن وسکون سے رہنے لگے ۔

ایک دن حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف سے کہا کہ تم کو معلوم تھا کہ کنعان میں ہوں تو کیوں تم نے مجھ اپنے حال سے خبر نہ دی ۔ حضرت یوسف نے اپنے والد سے مودبانہ عرض کی ابا جان میں نے آپ کی خدمت میں بہت خط لکھے اور وہ سب کے سب اب ایک صندوق میں رکھے ہوئے ہیں۔ جب بھی میں آپ کو خط لکھ کر بھیجنے کا ارادہ کرتا تواسی وقت حضرت جبرائیل آتے اور مجھ کو بجیجنے سے فرمادیتے اور مجھ سے یہ فرماتے تھے۔ اے یوسف ابھی تمہاری ملاقات کا وقت نہیں آیا ابھی وقت باقی ہے۔ اب تم اپنے والد کو یہ خط نہ بھیجحو ۔ یہ سن کرحضرت یعقوب علیہ السلام کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتاہے، اس کے بعد حضرت یعقوب نے حضرت یوسف سے پوچھا مجھے بتائو تمہارے بھائیوں نے تمہارے ساتھ کیا بد سلوکی کی یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام خاموش رہے اور کچھ نہ کہا۔ حضرت یوسف نے تقریبا چوبیس سال تک نبوت کے فرائض انجام دیئے جب آپ کی عمر ستر برس کی ہوئی تو موت بالکل قریب آچکی تھی تو اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور کہا ۔ اے میرے پروردگار تونے میرے تئیس کچھ بادشاہ اور سکھائی تونے میرےھ تیئس تعبیر خوابوں کی۔ اے پیدا کرنے والے آسمان وزمین کے توہی ہے دوست یعنی کارزاز میرا دینا وآخرات میں اور امید کرتاہوں کہ میری موت بھی نیک بختوں میں کراورمرنے کے بعد مجھے صالحین میں ملادے۔

اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے دوسرے تمام بھائی بھی نبی ہوئے اور حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے تک بارہ قوموں پر مشتمل رہے۔       

Message Now For Istikhara